روف طاہرصاحب بھی رخصت ہوئے!

روف طاہر صاحب بھی رخصت ہو گئے۔ اللہ پاک انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ عنایت فرمائے۔ آمین۔ سلمان غنی صاحب نے اطلاع دی تو مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا۔ ہفتہ بھر قبل اخوت یونیورسٹی میں ان سے ملاقات ہوئی تھی۔ تاثیر مصطفی صاحب کیساتھ بیٹھے تھے۔ وہی بلند آہنگ انداز گفتگو۔ حسب معمول میرے سر پر چپت لگائی۔ کہنے لگے کہ میں اب تمہارے کالم پڑھ کر اس لئے کال نہیں کرتا کہ تم اچھا لکھنے لگی ہو۔ جس دن برا کالم لکھو گی اس دن توجہ دلانے کو کال کروں گا۔ چند ہفتے قبل فالکن کلب میں ڈاکٹر اعجاز قریشی مرحوم کے تعزیتی ریفرنس میں ملاقات ہوئی، تب بھی یہی بات دہرائی تھی۔ مجھے بخوبی معلوم تھا کہ محض میری حوصلہ افزائی کیلئے ایسی باتیں کرتے ہیں۔ دراصل جن کالم نگاروں کو میں باقاعدگی سے پڑھتی ہوں، روف طاہر صاحب ان میں سے ایک تھے۔ ایک تو ان کا اسلوب نہایت دلچسپ تھا۔ کالم کیا ہوتا ایک داستان ہوتی۔ یوں جیسے قصہ گوئی کر رہے ہوں۔ میں نے ایک دن یہ بات انہیں کہی تھی۔ مصنوعی غصے میں کہنے لگے کہ تمہارا کیا مطلب ہے میں فقط قصے کہانیاں لکھتا ہوں؟میں کچھ گڑبڑا گئی تو ہنسنے لگے۔
شعبہ صحافت میں جن گنے چنے افراد سے میرا احترام اور محبت کا رشتہ تعلق ہے، روف طاہر صاحب ان میں سے ایک تھے۔میرے ساتھ ان کا رویہ بالکل بڑے بھائیوں جیسا تھا۔ برسوں سے معمول تھا کہ باقاعدہ فون کر کے مجھے کالموں پر شاباشی دیتے۔ جس زمانے میں، میں ٹی وی پروگرام کیا کرتی تھی، روف صاحب تواتر سے مدعو ہوتے۔ آپ ون مین آرمی تھے۔ پروگرام میں تین چار مخالفین کو تن تنہا پچھاڑ کر رکھ دیتے۔ میری کتاب شائع ہوئی تو انہوں نے خوبصورت دیباچہ تحریر کیا۔ایک مرتبہ میرے لکھے سفر ناموں کی تعریف کی تو میں نے کہا کہ سیاست کے نام پر جمہوریت کیساتھ جو کھیل کھیلا جا رہا ہے، اس سے مایوسی ہونے لگی ہے۔ سیاست سے دل اچاٹ ہو ا جاتا ہے۔ اس لئے طوطے مینا کی کہانیاں (سفر نامے) لکھ رہی ہوں۔ نہایت خفا ہوئے۔کہنے لگے کہ جمہوریت اور آئین پاکستان کے حق میں لکھنا ہم نے کبھی نہیں چھوڑنا۔ ہماری آواز ہرگز مدھم نہیں ہونی چاہیے۔ خبردار بھولے سے بھی مایوس مت ہونا۔استاد محترم مغیث شیخ صاحب کی کتاب کی تعارفی تقریب تھی۔ میں بطور مقرر مدعو تھی۔ میں نے اپنی تقریر میں آئین کے آرٹیکل چھ اور آرٹیکل انیس کے تناظر میں کچھ باتیں کہہ دیں۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ روف طاہر صاحب کہیں حاضرین میں بیٹھے ہیں۔ میں اپنی نشست پر آئی تو موبائیل پر ان کا شاباشی پیغام موصول ہوا۔ شہر بھر میں نجانے کس کس سے وہ اس تقریر کا ذکر کرتے رہے۔ اگلے دن اسلام آباد سے عرفان صدیقی صاحب کی کال موصول ہوئی۔ کہنے لگے کہ سنا ہے تم نے کوئی پر جوش تقریر کی ہے۔ میں حیران ہوئی تو کہنے لگے کہ روف طاہر صاحب نے فون کیا تھا۔ تمہارے جوش خطابت کی تعریف کر رہے تھے۔ وہ ایسے ہی تھے۔ ذرا ذرا سی بات پر شاباشی دینے والے۔ حوصلہ افزائی کرنے والے۔ پیٹھ پیچھے کلمہ خیر کہنے والے۔ آپ بہت اچھے استاد تھے۔ ایک خوبی یہ تھی کہ اپنے شاگردوں اور دیگر نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتے۔ نو آموز ان کی مجلس میں خود کو کمتر محسوس نہیں کرتے تھے۔
میاں نواز شریف کی محبت میں گرفتار تھے۔ مسلم لیگ کے سیاسی نظریات کی ترویج کیلئے کوشاں رہے۔انکی وفات پر میاں صاحب نے ٹویٹ کیا کہ وہ ایک اچھے دوست سے محروم ہو گئے ہیں۔ اس وقت خیال آیا تھا کہ میاں صاحب دوست سے نہیں، ایک اچھے وکیل سے محروم ہو گئے ہیں۔ یہ جملے لکھ رہی ہوں تو خیال آرہا ہے کہ نواز شریف یا مسلم لیگ نہیں، میرا ملک جمہوریت کا مقدمہ لڑنے والے ایک کہنہ مشق وکیل سے محروم ہو گیا ہے۔ روف طاہر صاحب واقعتا عمر بھر جمہوریت اور آئین پاکستان کا مقدمہ لڑتے رہے۔ بڑے بڑے صحافی میں نے دیکھے ہیں جو جمہوریت اور آئین پاکستان کے حق میں دلائل دیتے ہیں۔ لیکن آمروں اور آئین شکنوں کا نام لیتے وہ مصلحت کی چادر اوڑھ لیتے ہیں۔ روف طاہر صاحب اس مصلحت کے آزار سے آزاد تھے۔ ڈنکے کی چوٹ پر جمہوریت کی حمایت کرتے، دھڑلے سے آمروں کے لتے لیتے۔
چند برس قبل جامعہ پنجاب کے شعبہ سیاسیات میں ایک مکالمے کا اہتمام تھا۔ نامور صحافی اور دانشور جمع تھے۔ جامعہ کے ایک استاد نے آمریت کے حق میں اور جمہوریت کے خلاف کچھ باتیں کر دیں۔ لب لباب یہ تھا کہ " جمہوریت نے اس ملک کو دیا کیا ہے؟"۔ عوامی نیشنل پارٹی کے احسان وائیں صاحب، جنہوں نے جمہوریت کی خاطر کئی برس تک جیلیں بھگتیں، جواب دینے لگے تو روف طاہر صاحب نے انہیں روک دیا۔اپنی گرجدار آواز میں سانحہ سقوط ڈھاکہ سے لے کر دور حاضر تک کے واقعات گنواڈالے۔ اسقدر دھاڑے کہ مجمع پر خاموشی چھا گئی۔ روف صاحب بار بار یہ جملہ دہراتے رہے کہ "شعبہ سیاسیات کا استاد آمریت کے گن گائے تو انا للہ و انا الیہ راجعون"۔ اپنی ہر تحریر، تقریر،اور ہر محفل میں وہ جمہوری نظریات پر ڈٹے رہتے۔

سچ یہ ہے کہ روف طاہر صاحب پاکستان کی سیاسی تاریخ کی ایک چلتی پھرتی کتاب تھے۔ عرفان صدیقی صاحب نے اپنے تعزیتی کالم میں بجا طور پر انہیں "سیاسی انسائیکلو پیڈیا" قرار دیا ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ انہیں ازبر تھی۔ ہر ہر واقعہ بمعہ تاریخ اور سیاق و سباق انہیں یاد ہوتا۔ وہ تاریخ اور سیاسیات کے کسی پروفیسر سے کہیں ذیادہ معلومات رکھتے تھے۔ انہوں نے سیاسی تاریخ محض پڑھی نہیں تھی، بذات خود اس کا مشاہدہ بھی کیا تھا۔
اصولوں کے پکے اور نہایت وضع دار آدمی تھے۔ ذاتی رنجش کو اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں پر حاوی نہ ہونے دیتے۔ بہت سوں کو لگتا ہے کہ روف طاہر صاحب مسلم لیگ (ن) کی حکومت سے فوائد کشید کرتے رہے۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ مسلم لیگ (ن) برسر اقتدار تھی۔ خواجہ سعد رفیق وفاقی وزیر تھے۔ روف طاہر صاحب کو ایک معاملے میں خواجہ صاحب سے رنجش پیدا ہو گئی۔ ان کی نہایت دل شکنی ہوئی۔ ایک روز انہوں نے شکایتی انداز میں یہ قصہ مجھے سنایا۔ میں خاموشی سے سنتی اور سر ہلاتی رہی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں خواجہ سعد کا نقطہ نظر درست سہی، لیکن روف طاہر صاحب کیساتھ واقعتا زیادتی ہوئی تھی۔اسقدر دل شکنی کے باوجود، روف طاہر صاحب نے کوئی واویلا نہیں کیا۔وہ ہمیشہ خواجہ سعد کی سیاست، انکی جمہوری جدوجہد اور پاکستان ریلوے کی اصلاح احوال کیلئے انکی کاوشوں کے معترف رہے۔ اس زمانے کی وفاقی وزارت اطلاعات اور وزیر اطلاعات سے بھی انکی ناراضگی رہی۔ لیکن انہوں نے کم ظرفی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ کبھی اپنے کالموں کو ذاتی غصہ نکالنے کا ذریعہ نہیں بنایا۔
آپ عمر بھر ثابت قدم رہے۔ ہم ایسے کئی نامور صحافیوں کو جانتے ہیں جو ہر بر سر اقتدار حکومت کیساتھ اپنا نقطہ نظر بدل لیتے ہیں۔ٹیلی ویژن پروگراموں، کالموں اور محفلوں میں ہر حکومت کے قصیدے پڑھ کر اپنے اور خاندان کیلئے فوائد سمیٹتے ہیں۔ روف طاہر صاحب پر جانبدار ی کی چھاپ سہی، مگر ہواوں کے رخ کیساتھ انہوں نے کبھی اپنا رخ تبدیل نہیں کیا۔ آخری دم تک اپنے صحافتی نظریات پر جمے رہے۔
مجلسی آدمی تھے۔ کسی دعوت اور بلاوے کو رد نہ کرتے۔ افسوس کہ ان کے جنازے میں ایسے بہت سے لوگ شریک نہ ہوئے، جن پر شرکت واجب تھی۔ مسلم لیگ(ن) سے صرف خواجہ سعد رفیق شریک ہوئے۔ ایک صاحب کہنے لگے کہ یہ بے وفائی مسلم لیگ کا مزاج ہے۔ مجھے خیال آیا کہ دنیا کا یہی چلن ہے۔ عباس اطہر مرحوم صحافت کا بہت بڑا نام تھے۔ پیپلز پارٹی کے نہایت قریب رہے۔ زرداری صاحب، بر سر اقتدار تھے تو کسی نے عباس اطہر کی علالت کی اطلاع دی اور یہ پیغام بھی کہ وہ ملاقات کے خواہشمند ہیں۔ زرداری صاحب نے یک لفظی جواب دیا کہ "noted" اور آگے بڑھ گئے۔ سنتے ہیں کہ جنازے میں دوسری سے تیسری صف نہیں بن سکی تھی۔ نعیم الحق ساری عمر تحریک انصاف اور عمران خان کے علم بردار رہے۔ کینسر سے انتقال ہوا تو عمران خان سمیت بہت سے ساتھی جنازے تک میں شریک نہیں ہوئے۔شاید اسی کا نام دنیا ہے۔
روف طاہر صاحب نیک اور نمازی آدمی تھے۔ میں نے انہیں کسی کی غیبت کرتے نہیں سنا۔اخوت یونیورسٹی میں ہماری آخری ملاقات ہوئی۔ رخصتی سے قبل میں نے ان سے الوادعی سلام دعا کی۔قریب میز پر مہمانوں کیلئے گفٹ بیگ رکھے تھے۔کہنے لگے تم بھی لے لو۔مجھے آگے بڑھ کر بیگ وصول کرتے حجاب مانع ہوا۔ انہوں نے اپنے ہاتھ میں پکڑا بیگ زبردستی مجھے تھما دیا۔با آواز بلند کہنے لگے، لبنیٰ، کہیں سے خالی ہاتھ رخصت نہیں ہوتے۔ مجھے یقین ہے کہ روف طاہر صاحب بھی اس جہان فانی سے خالی ہاتھ رخصت نہیں ہوئے۔ انکا نامہ اعمال بہت سی نیکیوں سے بھرا ہوا ہو گا۔ ان کی وفات پر سوشل میڈیا پر ان کے صحافتی اور سیاسی نظریات کے کٹر مخالف صحافی بھی ان کی سادگی، شرافت، دین داری، اور ثابت قدمی کی گواہی دیتے رہے۔ اللہ پاک ان کے حق میں دی جانے والی گواہیوں کو قبول فرمائے۔ ان کے ساتھ نرمی کا معاملہ فرمائے۔ روف طاہر صاحب نے درویشی کی زندگی گزاری۔ اللہ پاک انہیں جنت میں بھی نیکو کاروں اور درویشوں کی ہم نشینی عطا فرمائے۔ آمین۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *