روم اولمپکس 1960: پاکستان کا پہلا اولمپک گولڈ میڈل جس نے ہاکی کو قومی کھیل بنا دیا

سنہ 1951 میں ہاشم خان کا برٹش اوپن ٹائٹل جیتنا اور پھر 1954 میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کا اوول ٹیسٹ جیتنے کا تاریخی کارنامہ یہ ظاہر کررہا تھا کہ پاکستان کھیلوں کے بین الاقوامی منظرنامے پر اپنی شناخت کرانے کے لیے تیار ہوگیا۔ لیکن سب کو ہاکی کے میدان سے بڑی خبر کا انتظار تھا۔

پاکستان بننے کے ایک سال بعد ہی پاکستانی ہاکی ٹیم نے 1948 کے لندن اولمپکس میں حصہ لیا لیکن ہالینڈ سے ہارنے کے سبب اسے چوتھی پوزیشن پر اکتفا کرنا پڑا۔ چار سال بعد ہیلسنکی اولمپکس میں بھی کہانی کچھ اسی طرح رہی جب برطانیہ نے اسے ہرا کر کانسی کے تمغے سے محروم کردیا۔

پھر 1956 کے میلبرن اولمپکس میں پاکستانی ہاکی ٹیم کی کارکردگی پچھلے دو اولمپکس سے اس لحاظ سے بہتر رہی کہ اس نے فائنل تک رسائی حاصل کی۔ لیکن فائنل میں انڈیا نے اسے ایک گول سے ہرا دیا۔ پاکستان نے اگرچہ چاندی کا تمغہ حاصل کیا لیکن فاتح عالم بننے کی خواہش ہر کھلاڑی کے دل میں موجود تھی۔

یہ وہ زمانہ تھا جب ہاکی کے میدانوں میں انڈیا کا طوطا بول رہا تھا۔ وہ مسلسل چھ اولمپکس مقابلوں میں گولڈ میڈل جیت چکا تھا۔

اور پھر انڈیا کا طلسم ٹوٹ گیا۔

ڈان، پاکستان، ہاکی، 1960، روم اولمپکس، گولڈ میڈل

1960 کے روم اولمپکس شروع ہوئے تو اس وقت بھی عام رائے انڈیا کے حق میں دکھائی دے رہی تھی۔ لیکن پاکستانی ہاکی ٹیم کو بھی کوئی نظر انداز کرنے کے لیے تیار نہ تھا اور اس وقت یہی کہا جا رہا تھا کہ اگر انڈین ہاکی ٹیم کو کوئی ٹیم چیلنج دے سکتی ہے تو وہ پاکستان ہے۔

روم اولمپکس سے قبل پاکستانی ہاکی ٹیم نے 1958 میں ٹوکیو ایشیئن گیمز میں گولڈ میڈل جیت کر ایک لحاظ سے نفسیاتی برتری حاصل کرلی تھی۔ اسی لیے روم اولمپکس میں ان کے درمیان ایک سخت مقابلے کا سب کو انتظار تھا۔

پاکستان اور انڈیا دونوں نے پُراعتماد انداز میں روم اولمپکس کا آغاز کیا۔ عبدالحمید حمیدی کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے اپنے گروپ میچوں میں آسٹریلیا، جاپان اور پولینڈ کو واضح فرق سے شکست دی۔

کوارٹر فائنل میں پاکستان کا سامنا جرمنی سے تھا جس میں پاکستان نے عبدالوحید خان اور نصیر بندہ کے گول کی بدولت دو ایک سے کامیابی حاصل کی۔ سیمی فائنل میں پاکستان نے سپین کو ایم ایچ عاطف کے فیصلہ کن گول کی بدولت زیر کیا۔

9 ستمبر 1960 کو پاکستانی ٹیم اور اس کے پہلے اولمپک گولڈ میڈل کے درمیان چار سال پہلے کی طرح اس بار بھی انڈیا کی ٹیم کھڑی تھی۔

لیکن روم میں وہ نہیں ہوا جو میلبرن میں ہوا تھا۔

اس مرتبہ ایک نئی تاریخ رقم ہوئی۔ گیارہویں منٹ میں نصیر بندہ کے گول نے پاکستان کو ہاکی کے افق پر پہلی بار فاتح عالم بنا دیا۔

یہ اولمپکس مقابلوں میں انڈیا کی 32 سالہ بالادستی کا خاتمہ بھی تھا۔

پاکستان، ہاکی، 1960، روم اولمپکس، گولڈ میڈل، انڈیا
،تصویر کا کیپشنگروپ سٹیج میں پاکستان نے آسٹریلیا کو شکست دی تھی

روم اولمپکس کی فاتح ہاکی ٹیم کے کھلاڑی

روم اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے والی پاکستانی ٹیم عبدالرشید (گول کیپر)، ایم ایچ عاطف، بشیر احمد (فل بیکس)، انوار احمد خان، غلام رسول چوہدری، حبیب علی کڈی (ہاف بیکس)، نور عالم، عبدالحمید حمیدی، عبدالوحید خان، مطیع اللہ اور نصیر بندہ (فارورڈز) پر مشتمل تھی۔

اس زمانے میں ہر سکواڈ اٹھارہ کھلاڑیوں پر مشتمل ہوتا تھا لیکن میڈلز ان گیارہ کھلاڑیوں کو ملا کرتے تھے جو میدان میں ہوتے تھے۔

جو کھلاڑی فائنل نہیں کھیلے تھے، ان میں روری گارڈنر، منیر ڈار، خورشید اسلم، ظفرحیات، ذکا الدین، ظفر علی خان اور مشتاق احمد شامل تھے۔

روم اولمپکس کے پاکستانی ہیروز

روم اولمپکس میں پاکستان کے تمام ہی کھلاڑیوں نے غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ لیکن کپتان عبدالحمید حمیدی، نصیر بندہ اور عبدالوحید خان کا جادو سرچڑھ کر بولا تھا۔

حمیدی کا یہ چوتھا اولمپک ٹورنامنٹ تھا اور انھوں نے رائٹ ان کی پوزیشن پر کھیلتے ہوئے نو گول کیے تھے۔

پاکستان، ہاکی، 1960، روم اولمپکس، گولڈ میڈل
،تصویر کا کیپشنمطیع اللہ، روری گارڈنر اور انوار احمد خان

سینٹر فارورڈ کی پوزیشن پر عبدالوحیدخان چھ گول کر کے دوسرے نمبر پر رہے تھے۔

نصیر بندہ لیفٹ ان کی پوزیشن پر باکمال کھلاڑی تھے جنھوں نے پورے ٹورنامنٹ میں پانچ گول کیے لیکن فائنل میں ان کے یادگار گول نے انھیں قومی ہیرو بنا دیا۔

مطیع اللہ اور نور عالم نے ونگرز کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں خوبصورتی سے نبھائی تھیں جبکہ ہاف لائن کا کردار کسی طور کم نہ تھا جو انوار احمد خان، حبیب علی کڈی اور غلام رسول چوہدری پر مشتمل تھی۔

روم اولمپکس میں پاکستانی ٹیم کی شاندار کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس نے چھ میچوں میں 25 گول کیے اور اس کے خلاف صرف ایک گول ہوا جو کوارٹر فائنل میں جرمنی نے کیا تھا۔

نصیر احمد کے نام کے ساتھ بُندہ کیوں؟

نصیر بُندہ کے بیٹے سابق انٹرنیشنل ہاکی کھلاڑی ناصر نصیر بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں ʹمیری دادی نے میرے والد نصیر احمد کو بچپن میں کوئی منت مانتے ہوئے کان میں چھید کرا کر ایک بُندہ پہنا دیا تھا۔

یہ بُندہ ’زندگی بھر ان کے نام کا حصہ بن گیا۔‘

ناصر نصیر نے یہ دلچسپ بات بھی بتائی ʹمیرے والد عام طور پر کھیلتے ہوئے جوتے نہیں پہنتے تھے۔ وہ ننگے پاؤں کھیلنے میں آسانی محسوس کرتے تھے۔ʹ

نصیر بُندہ
،تصویر کا کیپشننصیر بُندہ جنھوں نے شاید پاکستانی ہاکی کی تاریخ کا سب سے بڑا گول کیا

عبدالوحید خان بتاتے ہیں ʹروم اولمپکس میں نصیر بندہ کو جوتے پہن کر کھیلنا پڑا تھا کیونکہ اس گراؤنڈ میں گھاس بڑھی ہوئی تھی اور اس پر پانی بھی تھا۔‘

نصیر بندہ کے لیے گول کرنا جیسے معمول کی بات تھی۔ انھوں نے 44 بین الاقوامی میچ کھیلے اور 43 گول کیے۔

وہ میلبرن اولمپکس میں سلور میڈل جبکہ ٹوکیو اور جکارتا کے ایشیائی کھیلوں میں گولڈ میڈل جیتنے والی ٹیم میں بھی شامل تھے۔

نصیر بندہ اپنی برق رفتاری سے دفاعی کھلاڑیوں کو بے بس کرنے میں مہارت کی وجہ سے اپنے کیریئر میں ’مکی ماؤس‘ کے نام سے بھی مشہور تھے۔

سانولی رنگت کے عبدالوحید کا چمکدار کھیل

روم اولمپکس کا فائنل کھیلنے والی فاتح پاکستانی ٹیم کے صرف دو کھلاڑی عبدالوحید خان اور مطیع اللہ اس وقت حیات ہیں۔

83 سالہ مطیع اللہ کی قوت سماعت کمزور ہوچکی ہے لہذا وہ گفتگو میں دقت محسوس کرتے ہیں۔

انھوں نے تین اولمپکس مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کی جن میں ایک گولڈ میڈل اور دو سلور میڈل حاصل کیے۔ وہ دو ایشیائی کھیلوں میں طلائی تمغہ جیتنے والی ٹیم کا بھی حصہ تھے۔

مطیع اللہ کے دو بھتیجے سمیع اللہ اور کلیم اللہ اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔

84 سالہ عبدالوحید خان کے پاس اس دور کی یادوں کا بہت بڑا خزانہ موجود ہے۔

وہ بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں ʹمجھے یاد ہے کہ جب قومی ہاکی کیمپ لگا تو مجھے یہ کہہ کر اس میں شامل نہیں کیا گیا تھا کہ میں ختم ہوگیا ہوں۔‘

عبدالوحید خان
،تصویر کا کیپشنعبدالوحید خان کو ابتدائی طور پر یہ کہا گیا کہ ٹیم میں ان کی جگہ مشکل ہے

’میں کسٹمز کی ٹیم کے ساتھ ممبئی کھیلنے چلا گیا۔ جب میں بحری جہاز سے واپس آرہا تھا تو اس وقت مجھے اطلاع ملی کہ مجھے کیمپ میں بلا لیا گیا ہے۔

’یہ چار ماہ کا کیمپ تھا جو لاہور کی سخت گرمی میں لگایا گیا تھا۔ کرنل علی اقتدار شاہ دارا کیمپ کمانڈنٹ تھے جنھوں نے کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھانے کا ایک نفسیاتی حربہ اختیار کیا تھا۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’انھوں نے کھلاڑیوں کے کمرے اور ڈائننگ ہال میں پوسٹر لگا دیا تھا جس پر درج تھا ʹوکٹری ایٹ رومʹ تاکہ انھیں ہر وقت اس بات کا احساس رہے کہ انھیں روم اولمپکس میں جیتنا ہے۔‘

عبدالوحید خان کہتے ہیں ʹسخت ٹریننگ نے کھلاڑیوں کو ذہنی اور جسمانی طور پر مکمل فٹ کردیا تھا۔ مجھے اس بات کا اندازہ تھا کہ یہ میرا آخری قومی سلیکشن ہوسکتا ہے۔ لہذا میں اپنی ٹریننگ پر بہت زیادہ توجہ دے رہا تھا۔ʹ

عبدالوحید خان نے روم اولمپکس کے بعد 1962 کے ایشیئن گیمز میں سترہ گول کیے تھے جو ایک ریکارڈ ہے۔ اس میں ان کی ایک ڈبل ہیٹرک بھی شامل تھی۔‘

نصیر بندہ کا تاریخی گول

عبدالوحید خان فائنل میں نصیر بندہ کے فیصلہ کن گول کے بارے میں بتاتے ہیں ʹعموماً لیفٹ آؤٹ اور رائٹ آؤٹ کے کراس کو سینٹر فارورڈ کے طور پر میں کنیکٹ کیا کرتا تھا۔

’فائنل میں انڈین کھلاڑیوں کے ذہنوں میں یہی بات تھی کہ جو بھی کراس آئے گا وہ میں کنیکٹ کروں گا۔ لیکن حمیدی کی ہٹ کو نور عالم نے روکا اور کراس لگایا۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ’انڈین کھلاڑی یہی سمجھے اس کراس کو میں روکوں گا۔ اسی وجہ سے ڈیفینڈر نصیر بندہ کو چھوڑ کر میرے پاس آگیا۔ لیکن میں نے گیند چھوڑ دی اور نصیر بندہ خالی کھڑے تھے اور انھوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گیند گول میں پھینک دی۔‘

حمیدی کی وزنی ہاکی سٹک

پاکستانی ٹیم کے کپتان عبدالحمید حمیدی دوسرے کھلاڑیوں کے مقابلے میں زیادہ وزنی سٹک استعمال کرتے تھے۔

پاکستان، ہاکی، 1960، روم اولمپکس، گولڈ میڈل
،تصویر کا کیپشنمیچ جیتنے کے بعد پاکستانی ہاکی ٹیم کے کپتان حمیدی پہلی پوزیشن پر کھڑے ہیں

عام طور پر فارورڈز کی سٹکیں 18 اونس کی ہوا کرتی تھیں۔ لیکن حمیدی 26 اونس وزنی ہاکی سٹک سے کھیلا کرتے تھے۔ وہ گیند کو پش نہیں کرتے تھے بلکہ زوردار ہٹ مارتے تھے۔

عبدالحمید حمیدی پاکستان کے پہلے ہاکی اولمپیئن ہیں جنھیں روم اولمپکس کے بعد تمغہ امتیاز دیا گیا تھا۔ ان کے بعد اس ٹیم کے مزید دو کھلاڑیوں نصیر بندہ کو 1962 میں اور منظور حسین عاطف کو 1963 میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔ جبکہ مطیع اللہ کو 1963 میں تمغہ امتیاز دیا گیا۔

عبدالوحید خان، انوار احمد خان اور منیر ڈار کے لیے حکومت پاکستان نے 2015 میں تمغہ امتیاز کا اعلان کیا تھا۔

ہاکی پاکستان کا قومی کھیل کیسے بنا؟

روم اولمپکس جیت کر پاکستانی ٹیم جب وطن واپس آئی تو صدر جنرل ایوب خان نے کراچی میں فاتح ٹیم کو مدعو کیا۔ اسی ملاقات میں انھوں نے ہاکی کو قومی کھیل کا درجہ دینے کا باقاعدہ اعلان کیا۔

عبدالوحید خان بتاتے ہیں ʹٹیم کو مختلف شہروں میں لے جایا گیا تھا جہاں اس کا زبردست استقبال ہوا۔ لاہور کے ریلوے اسٹیشن پر ٹیم کی آمد کے موقع پر اتنے زیادہ لوگ تھے کہ میں اس ہجوم میں گِر پڑا تھا۔

’جب ٹیم داتا دربار جارہی تھی تو سڑک لوگوں سے بھری ہوئی تھی جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ یہی حال دوسرے شہروں میں بھی تھا۔‘

عبدالوحید خان بتاتے ہیں ʹروم اولمپکس میں جب پاکستانی پرچم لہرایا گیا تو کئی لوگ ایسے بھی تھے جو پاکستان کے بارے میں نہیں جانتے تھے۔ لیکن پھر ہم نے یہ بھی دیکھا کہ جب بھی پاکستان کا نام آتا تھا تو لوگ کہتے تھے یقیناً آپ ہاکی کے کھلاڑی ہیں۔ مطلب یہ کہ ہاکی اور پاکستان لازم و ملزوم بن گئے تھے۔‘

پاکستان، ہاکی، 1960، روم اولمپکس، گولڈ میڈل، ایوب خان

ہم پر جیسے پہاڑ گر پڑا ہو

روم اولمپکس کا فائنل جیت کر پاکستانی کھلاڑیوں کی خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا۔ دوسری طرف انڈین ٹیم کے لیے یہ شکست کسی سانحے سے کم نہ تھی۔

اس ٹیم میں شامل اولمپیئن کلونت اروڑا بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ʹفائنل کی یادیں ہمارے لیے خراب ہیں کیونکہ ہم ہارے تھے۔ اس وقت ایسا لگا تھا جیسے ہم پر پہاڑ گر پڑا ہو۔ آج بھی اس میچ کو یاد کر کے ہمیں بہت برا محسوس ہوتا ہے۔ʹ

86 سالہ کلونت اروڑا کہتے ہیں ʹہمارے لیے یہی بات کسی دھچکے سے کم نہ تھی کہ پاکستان نے ہم پر پہلے گول کیسے کردیا۔ ہم اس کے عادی نہیں تھے۔

’ہماری ٹیم کے پاس گول کرنے والے کھلاڑی کم تھے۔ اس لیے ہم پاکستان کی ایک گول کی برتری ختم نہ کرسکے۔ کچھ کھلاڑی جنھیں ٹیم میں ہونا چاہیے تھا وہ سیاست کی وجہ سے اس ٹیم میں سلیکٹ نہیں ہوسکے تھے۔‘

روم اولمپکس کا فائنل کھیلنے والی انڈین ہاکی ٹیم کے سینٹر فارورڈ جسونت سنگھ اس وقت حیات ہیں اور ان کی عمر 90 سال ہوچکی ہے۔

پاکستان، ہاکی، 1960، روم اولمپکس، گولڈ میڈل، انڈیا
،تصویر کا کیپشنانڈیا کے کچھ کھلاڑیوں کے مطابق انھیں معلوم تھا پاکستان سے مقابلہ آسان نہیں ہوگا

جب میں نے ان سے فون پر رابطہ کر کے بات کرنا چاہی تو وہ زیادہ بات نہ کرسکے اور اتنا کہا کہ انھیں صرف یہ یاد ہے کہ وہ روم اولمپکس میں سینٹر فارورڈ تھے لیکن اس سے زیادہ کچھ اور یاد نہیں۔

یہ جسونت سنگھ ہی تھے جنھیں میچ کے ابتدائی لمحات میں گول کرنے کا موقع ملا تھا۔ لیکن وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکے تھے۔

عبدالوحید خان کہتے ہیں ʹجسونت سنگھ ساڑھے چھ فٹ طویل قامت کھلاڑی تھے اور جب میدان میں میرا ان سے سامنا ہوا تو مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے ہم گلی ڈنڈا ہیں کیونکہ میں قد میں چھوٹا اور دبلا پتلا تھا۔‘

چرنجیت سنگھ بھی 90 کی عمر کو پہنچ چکے ہیں۔ وہ ان فٹ ہونے کی وجہ سے فائنل نہیں کھیل سکے تھے تاہم اپنی یادداشت پر زور دیتے ہوئے انھوں نے بی بی سی اردو کو مختصراً بتایا کہ ʹاس زمانے میں پاکستان اور انڈیا کی ٹیمیں یکساں معیار رکھتی تھیں۔

’ہمیں میلبرن میں ہی یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ پاکستان سے ہونے والا آئندہ مقابلہ آسان نہیں ہوگا۔ لیکن ہماری ٹیم ایسی نہیں تھی کہ گولڈ میڈل نہ جیت سکتی۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *