رونالڈو: پرتگال اور سربیا کا میچ ڈرا، گول مسترد ہونے پر فٹبالر کا شدید ردعمل اور سوشل میڈیا پر تبصرے

پرتگال اور سربیا کے درمیان کھیلے جانے والا فٹبال میچ دو دو کی برابری کے ساتھ ڈرا ہوا لیکن میچ کے اختتام سے چند لمحے قبل پرتگال کے معروف فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو غصے میں گراؤنڈ چھوڑ کر چلے گئے۔

سنیچر کو یہ سربیا کے لیے ورلڈ کپ میں جگہ بنانے کا موقع تھا لیکن پرتگال (اور لیورپول) کے ڈیوگو جوٹا نے دو ہیڈر سکور کر کے اپنی ٹیم کو برتری دلوائی تھی۔

دوسرے ہاف میں سربیا میچ میں واپس آیا اور اس کی طرف سے ایلکسینڈر میٹرووک اور فلپ کوسٹک نے ایک ایک گول کیا۔

لیکن مہمان ٹیم پرتگال اس بات پر کافی ناراض ہوئی جب رونالڈو نے میچ کے آخری لمحات میں گول کیا مگر ریفری نے فیصلہ کیا کہ اسے روک لیا گیا تھا۔

بہت سے شائقین کے خیال میں رونالڈو کے گول سے پرتگال میچ جیت سکتا تھا تاہم بعض کے مطابق ریفری کا فیصلہ درست تھا۔

رونالڈو کو لگا کہ ان کی کِک صحیح نشانے پر لگ چکی ہے مگر آفیشلز نے فیصلہ کیا کہ ایسا نہیں ہوا۔ میچ کے لیے گول لائن ٹیکنالوجی دستیاب نہیں تھی۔

پرتگال کے سب سے زیادہ گول سکور کرنے والے رونالڈو کو احتجاج کرنے پر جرمانہ بھی کیا گیا۔ میچ کے اختتام سے صرف چند لمحے پہلے انھوں نے اپنی کپتانی کا آرم بینڈ پھینک دیا اور گراؤنڈ سے چلے گئے۔

رونالڈو

انسٹاگرام پر ایک پیغام میں رونالڈو نے لکھا کہ ’ایسے لمحات برداشت کرنا مشکل ہوتا ہے جب پوری قوم کو سزا دی جا رہی ہو۔ ہم اپنے سر بلند رکھیں گے اور اگلے چیلنج کا سامنا کریں گے۔‘

پرتگال کے کوچ فرنینڈو سینٹوس نے کہا ہے کہ ’ریفری نے میچ کے بعد مجھ سے معذرت کی اور اب ہم آگے بڑھ چکے ہیں۔‘

'یہ واضح طور پر ہمارا گول تھا مگر اب ہم اس بارے میں کچھ نہیں کر سکتے۔ فرسٹ ہاف میں میچ ہمارے کنٹرول میں تھا لیکن سینکڈ ہاف میں ہماری توجہ ہٹی اور ہم سربیا کو روکنے میں ناکام ہوئے۔‘

’پہلا کھلاڑی جسے گول کرنے پر ییلو کارڈ دیا گیا‘

سوشل میڈیا پر اس حوالے سے مختلف تبصرے دیکھنے کو ملے ہیں۔ یہ گول اگر مان لیا جاتا تو پرتگال فاتح قرار پاتا، شاید اسی لیے اس کے مسترد ہونے پر شائقین کافی ناخوش ہیں۔

رونالڈو

پرتگال کے ایک فین اٹالو سنٹینا نے لکھا کہ ’رونالڈو کا غصہ جائز ہے۔‘ ان کے نزدیک سربیا کے کھلاڑی نے اس وقت بال روکی جب یہ لکیر عبور کر چکی تھی یعنی گول ہوچکا تھا۔ مگر کئی لوگ اس دلیل سے مطمئن بھی نہیں۔

اومنی اسرائیل نامی صارف کہتے ہیں کہ ’میں اپنے بچوں کو کیسے بتاؤں یہ گول نہیں؟‘

لطیف کے نام سے ٹوئٹر پر موجود صارف کہتے ہیں کہ رونالڈو نے جو بویا ہے اب وہ وہی کاٹ رہے ہیں۔ ’ان کا یہ رویہ اس وقت کہاں تھا جب ریال میڈرڈ کو متنازع پینلٹیاں دی جاتی تھیں؟‘

رونالڈو

مارون کہتے ہیں کہ ’اب یہ لوگ (جو رونالڈو کے فینز ہیں) کہیں گے کہ ’وہ رونالڈو سے نفرت کرتے ہیں کیونکہ ریفری سے بس ایک غلطی ہو گئی ہے۔‘

ایک صارف نے لکھا کہ ’رونالڈو تاریخ میں وہ واحد کھلاڑی بن گئے ہیں جنھیں گول کرنے پر ییلو کارڈ دکھایا گیا ہے۔‘

رونالڈو

بہت سے صارفین نے محض اتنا لکھنا کافی سمجھا کہ رونالڈو کو ان کے گول سے محروم کر دیا گیا۔

تاہم کچھ صارفین نے رونالڈو کے رویے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور کہا کہ انھیں ریفری کا فیصلہ اطمینان سے تسلیم کر لینا چاہیے تھا۔

سیم اپنے ٹویٹ میں کہتے ہیں کہ انھیں بدتمیزی پر جرمانہ کیا گیا اور انھوں نے اپنی کپتانی کا آرم بینڈ بھی پھینک دیا تھا۔

سیم

’وہ اچھے کھلاڑی ہیں لیکن کوئی بھی پیشہ ور کھلاڑی ایسا نہیں کرتا۔ انھیں اپنے غصے پر قابو رکھنا چاہیے۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.