رونقیں بحال کرنا اتنا مشکل بھی نہیں

ٹیلنٹ ہمارے ملک میں بہت ہے لیکن ٹیلنٹ کے قدردان بھی ہوں۔ پرابلم البتہ ہمارا یہ ہے کہ ٹیلنٹ کے نکھار کیلئے ہر چیز چھپ چھپ کے کرنا پڑتی ہے۔ کوئی خدا کا آدمی جس میں تھوڑی سی ہمت ہو وہ ہمارے گھٹن کے ماحول کو تھوڑا بہتر کر سکے۔ اسی چیز کی کمی ہے۔ نہیں تو کوئی مشکل نہیں ہے کہ اس سرزمین پہ پھر نکھار آجائے۔
باسی ہمارے دیس کے من موجی قسم کے لوگ ہیں، بڑا دل رکھنے والے، میزبانی جن کے مزاج کاحصہ ہے۔ یہی سمجھنا چاہیے کہ ملک کے نصیب خراب تھے کہ حکمران ایسے تنگ ذہن آئے کہ اچھی بھلی سرزمین کو بگاڑ کے چلے گئے۔ لیکن دائمی چیز مولا کی ذات ہی ہے۔ دنیا کے حالات بگڑ جائیں تو بہتر بھی ہو سکتے ہیں۔ بگڑی ہوئی قوموں کے حالات بھی درست ہو جاتے ہیں۔ ہماری یہ خواہش تو ہے نہیں کہ سمرقند اور بخارا فتح کریں یا دہلی کے لال قلعے پہ سبز پرچم گاڑ دیں۔ ایسی تمنائیں شاعری تک ہی رہیں تو بہتر ہوتا ہے۔ ہماری خواہشات سادہ سی ہیں۔ پاکستان ایک نارمل ملک ہو جائے اور جو گھٹن کا ماحول ہم نے اپنے اوپر طاری کیا ہوا ہے اس میں کچھ بہتری آئے۔ ایسی سوچ کو کیا آپ باغیانہ سوچ کہیں گے؟ دبئی ایک اسلامی امارت کا حصہ ہے۔ تمام کی تمام چیزیں جو دبئی میں پائی جاتی ہیں اُن کا نفاذ یہاں پہ ناممکن ہے۔ وہاں کے حالات اور ہمارے اور‘ لیکن کچھ تو وہاں کی چہل پہل یہاں واپس آ سکتی ہے۔
ہماری عمر کے لوگوں کو تو یاد ہے لیکن یہ سوچ آج کے نوجوان ذہنوں میں بھی بیٹھنی چاہیے کہ ایک زمانہ تھا جب دبئی ایک گاؤں کی مانند تھا اور پاکستان کے حالات اُس سے بہت آگے کے تھے۔ ابوظہبی کے حکمران سکون اور راحت کیلئے یہاں آیا کرتے تھے۔ اُن کیلئے لاہور اور کراچی کے شہر ایسی کشش رکھتے تھے جو شاید آج کے پاکستانیوں کیلئے دبئی رکھتا ہو۔ کیا چیز تھی جو یہاں میسر نہیں تھی؟ ہم نے تو اپنی حالت یہ بنا لی ہے کہ میخانے کا لفظ بھی استعمال کرنا ہو تو سوچنا پڑتا ہے کہ اگلوں کو بُرا نہ لگ جائے۔ کہنے کا مطلب یہ کہ منبر و محراب کے ساتھ ساتھ دیگر کاروبار بھی چلا کرتے تھے۔ زاہد اور ناصح اپنی راہ چلتے تھے۔ اُن پہ کوئی قدغن نہ تھی۔ اور جو ہم جیسے تھوڑی سی بے راہ روی کی جانب مائل ہوتے وہ اپنی راہ پہ چلتے تھے۔ اُن پہ بھی کوئی قدغن نہ تھی۔ طنز بھری جملہ بازی کا تبادلہ فطری امر تھا لیکن اُن گزرے زمانوں میں ہر چھوٹی بات پہ ڈنڈے نہیں اُٹھا لیے جاتے تھے۔
انگریزوں کے زمانے میں تو ایسی چیزوں میں ڈنڈے کے استعمال کا تصور بھی نہ تھا۔ سیاسی آزادیاں ایک حد تک سلب تھیں‘ لیکن سوشل آزادیوں پہ کوئی قید نہ تھی۔ مذہبی آزادی تو تھی ہی مکمل… مندر میں جائیں، گوردوارے یا مسجد میں‘ یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا۔ عبادت گاہوں پہ کوئی پابندی نہ تھی اور کلبوں کے دروازے بھی کھلے ہوتے۔ یہ اور بات ہے کہ چونکہ انگریز حاکم تھے؛ چنانچہ ایسے کلب بھی تھے جن میں دیسی لوگ یا یوں کہیے انگریزوں کی رعایا اتنی آزادی سے داخل نہیں ہو سکتی تھی‘ لیکن یہاں کے لوگوں کے اپنے مسکن تھے۔ لاہور کا وہ کون سا بازار ہے جس کا نام عموماً یاد نہیں رہتا‘ لیکن جس کا نام سردار ہیرا سنگھ سے منسوب ہے‘ اس میں گورے لوگ نہیں جاتے تھے۔ وہ تو یہاں کے لوگوں کی راہ گزر تھی۔ لہٰذا انگریز لوگ پنجاب کلب اور جمخانہ کلب جیسی جگہوں پہ اپنی پارٹیاں کرتے تھے اور اہل وطن کے اپنے طریقے ہوا کرتے تھے۔
1977ء ہماری تاریخ میں منحوس سال تھا۔ نظرِ بد لگ گئی اس سرزمین کو۔ ذوالفقار علی بھٹو نہ سمجھ سکے کہ اپنے انداز میں الیکشن کرا کے وہ کن تباہیوں کا سٹیج تیار کر رہے ہیں۔ پاپولر لیڈر تھے الیکشن ویسے بھی جیت جاتے‘ لیکن بد قسمتی اُن کی کہ اُس الیکشن کے لئے اپنے مشیرانِ خاص سیاسی ساتھیوں کی بجائے نوکر شاہی سے چنے۔ اپنا ذہن بھٹو کا آمرانہ ہو گا لیکن مشیرانِ خاص نے احتیاط کا درس کچھ زیادہ ہی دے دیا۔ ذہن ایسا بنا کہ فضول کے اقدامات کیے گئے۔ عام انتخابات میں بلا مقابلہ جیتنے کی تُک کیا بنتی ہے‘ لیکن بھٹو صاحب لاڑکانہ سے بلا مقابلہ منتخب ہوئے اور وہ اس طریقے سے کہ اُن کے مدِ مقابل جماعت اسلامی کے جان محمد عباسی کو کاغذاتِ نامزدگی ہی داخل نہ کرانے دئیے گئے۔ بھٹو کی دیکھا دیکھی چاروں چیف منسٹروں نے اہتمام کیا کہ وہ بھی بلا مقابلہ منتخب قرار پائیں‘ یعنی الیکشن سے پہلے ہی سارے عمل کو مشکوک بنا دیا گیا۔
اس بے وقوفی کے ساتھ اپوزیشن پارٹیوں کی بھی خطرناک حد تک منفی سوچ تھی۔ اپنے دورِ اقتدار میں بھٹو کی سیاسی حکمت عملی ہی ایسی رہی کہ سیاسی میدان میں ذاتی عداوت کا ماحول پیدا ہو گیا۔ اپوزیشن پارٹیوں میں کچھ عناصر ایسے تھے جنہیں کسی قیمت پہ بھٹو قبول نہ تھا۔ الیکشن کی پاداش میں تحریک چلی تو اس میں زہر بھرتا گیا۔ مذاکرات شروع ہوئے تو غیر ضروری طور پہ بھٹو نے انہیں طول دیا۔ نتیجہ فوجی مداخلت کی صورت میں نکلا‘ اور ملک کی بد بختی ہی سمجھیے کہ مداخلت کرنے والا سربراہ شخص کٹر ذہن کا مالک تھا۔ اُس نے پھر ملک کے ساتھ وہ کچھ کیا جس کے نتائج ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔
یہ سوچ بالکل غلط ہے کہ ایسے حالات پیدا ہوں تو وہ نا قابل اصلاح ہوتے ہیں۔ جنرل ضیاء کو گئے ایک مدت ہو چکی ہے۔ مزید بد قسمتی اس ملک کی یہ رہی کہ کوئی سوچ اور ہمت رکھنے والا حکمران اسے نصیب نہ ہوا، نہیں تو یہ کیا بات ہوئی کہ جنرل ضیاء کا پیدا کردہ ماحول تبدیل نہ کیا جا سکتا ہو۔ پاکستان نے سوئٹزر لینڈ نہیں بننا، اسی لیے ہم جیسوں کی کوئی خواہش نہیں کہ ہمارا دیس سوئٹزر لینڈ بنے‘ لیکن ماحول میں کچھ تو بہتری آئے۔ آج کل کی بے تُکی سیاست سے ہم جیسے لوگ ویسے ہی تنگ ہیں۔ ایاز صادق نے کیا کہا اور نواز شریف کا کون سا 'مزاحمتی بیانیہ‘ ہے، ایسی گفتگو سن کے کان پک چکے ہیں۔ جنہوں نے مال بنایا اور خوب بنایا وہ جانیں اور نیب جانے۔ بڑے مال بنانے والوں کو عدالت کی پیشیاں بھگتنا پڑیں تو ہم جیسے کے دلوں میں ہمدردی کی لہر کیسے اُٹھے یا تو ہم بھی اُن کے کھاتے دار اور شریک دار ہوتے‘ کچھ ہم نے بھی مال بنایا ہوتا۔ کوئی اِدھر اُدھر پلاٹ اور گھر ہتھیائے ہوتے، پھر تو کوئی بات تھی۔ پھر ہم بھی جمہوریت کے چیمپئن بن جاتے اور ہمارا بیانیہ بھی مزاحمتی نوعیت کا ہوتا۔ مال بنایا اوروں نے اور ماتم کرتے پھریں ہم جیسے بے سروسامان، یہ تو کوئی منطق بنتی نہیں۔
محکمہ زراعت کافی نہ تھا کہ اب محکمہ ایکسائز نے تباہیاں مچا رکھی ہیں۔ اہل شوق کیا بتائیں کہ کیا فضول کی مشکلات پیدا کی جارہی ہیں۔ یہ ہمارا ہی فن ہے کہ جو مسائل دوسری کسی دھرتی میں مسائل سمجھے ہی نہیں جاتے یہاں زندگی اورموت کا مسئلہ بنا دئیے جاتے ہیں۔ اہل شوق کا جو حشر کیا جا رہاہے ، شام ڈھلتے ہی مارے مارے پھررہے ہوتے ہیں۔ خدا کافضل ہے کہ اپنی یہ کیفیت نہیں ۔ مہربان ہیں جو خیال رکھتے ہیں لیکن ہم تو عمومی بات کررہے ہیں ۔ لاہور والے اہل لاہور کے ساتھ اچھا نہیں کررہے ۔ لیکن کیا کریں ذہن ہی اتنے محدود ہیں ۔خود پیسہ بنانے میں کوئی عار نہیں ہوتی لیکن عام آدمی کی زندگی ضرور مشکل بنانی ہے ۔ یہ پنجاب کی نوکرشاہی کا وتیرہ بن چکاہے ۔ خدا ہی ایسے لوگوں کو کوئی ہدایت دے ۔ ہمارا تو فقط اتنا ہی بیانیہ ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *