رونے دھونے کی بجائے حل ڈھونڈیں

مینارِ پاکستان کے سائے تلے ہماری ’’نوجوان نسل‘‘ نے ایک خاتون کے ساتھ جو سلوک کیا ہے اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، تین چار سو ’’پاکستانی مسلمان‘‘ نوجوانوں نے خاتون ہی نہیں مینارِ پاکستان کی حرمت بھی جس طرح پامال کی اُس پر چیخیں مار مار کر رونے کو جی چاہتا ہے اور اُس سے بھی زیادہ جہلا کی ایک بڑی تعداد جس طرح اس مظلوم خاتون کو اس ساری بےہودگی کا ذمہ دار قرار دے رہی ہے، وہ دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ لوگ خودبھی ذہنی طور پر کرپٹ ہیں۔ اُن کی سوچ کے مطابق تو بقول شخصے بہت سے مقامات عورتوں کے لئے غیرمحفوظ ہیں، مثلاً مینارِ پاکستان، موٹر وے، سیاسی جلسے، دفتر، مرد رشتہ دار یا دوست، مدرسہ، اسکول/ کالج، سبزی منڈی اور مارکیٹ، بس، قبر، گھر۔ پاکستانی عورتوں کو اِن مقامات پر جانے سے گریز کرنا چاہئے خصوصاً مرنے کے بعد بھی ان کی قبر کو تالا لگانا ضروری ہے، قبر سے عورتوں کی میت نکال کر بھی ان کی بےحرمتی کے واقعات موجود ہیں!

موجودہ دور حکومت میں خواتین کی ذلت کے بہت سے واقعات ہوئے ہیں، جب میڈیا اُن کا نوٹس لیتا ہے تو فوراً حکومتی اعلان بھی سامنے آ جاتا ہے کہ حکومت نے نوٹس لے لیا ہے لیکن ابھی تک اس طرح کے بےشمار واقعات کے مجرموں کے خلاف کوئی عملی کارروائی سامنے نہیں آئی... میرا دل نہیں چاہتا کہ اُن مکروہ واقعات پر میں بھی نوحہ گری کا سلسلہ جاری رکھوں، اُس کی بجائے اگر فوری سزا کے علاوہ کوئی حل ہے جو کہ عارضی نوعیت کا ہے اُس کی جگہ کیوں نا دائمی حل تجویز کیا جائے۔ یہ تو وہ واقعات ہیں جو میڈیا کی وجہ سے سامنے آ جاتے ہیں، ہماری معصوم قوم یہ جانتی ہی نہیں کہ فرسٹریٹڈ نوجوان اور کئی ’’بزرگ‘‘ اس حوالے سے قعرِ مذلت میں گرے ہوئے ہیں، بسوں اور ویگنوں میں خواتین کے ساتھ روزانہ جو سلوک ہوتا ہے، وہ بھی جانتے ہیں اور یوں میں اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔ میں اتنا کہوں گا کہ ہر طرف انسانوں کی شکل میں بھیڑیے پھر رہے ہیں، لباس میں بھی عورت کو دیکھ کر اُن کی شیطانیت جاگ اٹھتی ہے، عورتوں کو چھوڑیں ہمارے ہاں جانوروں کی ’’عفت‘‘ بھی محفوظ نہیں ہے۔ اِن بھوکے بھیڑیوں کے ہاتھوں بےچاری پاگل عورتیں بھی محفوظ نہیں ہیں، چنانچہ کھلے گندے بالوں اور میلے کچیلے ادھورے کپڑوں میں ملبوس اُن بےزبانوں پر مجرمانہ حملے کرنے والے بھی موجود ہیں، میں نے ابھی گزشتہ روز ایک پاگل عورت کو پھٹی پھٹی آنکھوں کے ساتھ سڑک کے کنارے بیٹھے دیکھا جو حاملہ ہو چکی تھی!

یہ سب کیا ہے؟ اور کیوں ہے؟ اُس کی کئی وجوہ ہیں، ایک تو یہ کہ ہم بچپن میں ’’تعلیم و تربیت‘‘ کے الفاظ سنا کرتے تھے اور یہ کہ بچوں کی تعلیم و تربیت والدین کی ڈیوٹی ہے مگر اب صرف تعلیم پر زور دیا جاتا ہے، تربیت کی کوئی بات ہی نہیں کرتا، تعلیم بھی صرف ایسی جس سے اچھی نوکری مل جائے۔ باقی رہی تربیت وہ تو ہم بھول ہی چکے ہیں، سو اس کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ اِن وحشیانہ واقعات کا ایک پہلو یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں عورتوں اور مردوں کے درمیان دیوار چین جیسی دوریاں ہیں، جس کے نتیجے میں عورت ان کے لئے ایک پُراسرار مخلوق بن گئی ہے، چنانچہ ترسے ہوئے لوگوں کو جب موقع ملتا ہے وہ اس معمہ کی ’’گتھیاں سلجھانے‘‘ میں لگ جاتے ہیں اور اس کے اسرار تک رسائی کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں شادیاں بھی خوش نصیبوں کی ہوتی ہیں، چنانچہ بعض اوقات ادھیڑ عمر تک یہ لوگ صرف شہنائیوں کی آوازیں ہی سنتے رہتے ہیں۔ ہم عرب معاشرے کی پاکیزگی کی مثالیں دیتے ہیں جبکہ ان کے ہاں اس حوالے سے بےشمار رعایتیں تھیں چنانچہ ان رعایتوں کی موجودگی میں بھی اگر جرائم پیشہ ذہن معاشرے کی کھینچی ہوئی لکیر کراس کرتا تھا تو اسے نشانِ عبرت بنا دیا جاتا تھا۔

اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے میرے پاس دو تجاویز ہیں۔ ایک بزرگ نے کہا ہے کہ دو باتیں پورے غور سے سنو، ایک یہ کہ پوری بات کبھی کسی کو نہ بتائو۔ اس کے بعد دوسری بات انہوں نے بھی نہیں بتائی۔ میں بھی معذرت چاہتا ہوں کیونکہ اگر میں نے پوری بات بتائی تو اس کے بعد کسی کو آدھی بات بتانے جوگا بھی نہیں رہوں گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *