روپے کی قدر میں بہتری کا سلسلہ جاری، انٹر بینک میں ڈالر مزید 4 روپے 60 پیسے سستا

انٹربینک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران روپے کی قدر میں نمایاں بہتری دیکھی گئی جب ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں مزید 4 روپے 6 پیسے کا اضافہ ہوا۔

فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان (ایف اے پی) کے مطابق دوپہر 12 بج کر 55 منٹ تک ڈالر کے مقابلے میں مقامی کرنسی کی قدر میں 4 روپے60 پیسے کا اضافہ ہوا جس کے بعد ڈالر 224 روپے 20 پیسے کا ہوگیا۔

گزشتہ روز انٹربینک مارکیٹ میں مقامی کرنسی کی قدر میں 9 روپے 59 پیسے یا 4.2 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا جو گزشتہ کئی برس کے بعد اس کی قدر میں سب سے بڑا اضافہ تھا، اس اضافے کے بعد 228 روپے 80 پیسے پر بند ہوا تھا۔

روپے کی قدر میں اضافے سے متعلق بات کرتے ہوئے اسمٰعیل اقبال سیکیورٹیز میں ریسرچ کے سربراہ فہد رؤف نے رائٹرز کو بتایا کہ مرکزی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق یہ 1999 کے بعد روپے کی قدر میں بلند ترین اضافہ ہے۔

گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران گراوٹ کے ساتھ 28 جولائی کو روپیہ ڈالر کے مقابلے اپنی کم ترین سطح پر آ گیا تھا اور 239 روپے 94 پیسے پر بند ہوا تھا جب کہ روپے کی قدر میں بحالی کا حالیہ سلسلہ جمعے کے روز سے شروع ہوا۔

ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری ظفر پراچا نے کہا کہ آج بھی پاکستان اور اس کی معیشت کے لیے ایک اچھا دن ہے کہ اس وقت انٹر بینک میں ڈالر کے مقابلے میں 224 روپے پر ٹریڈنگ جاری ہے۔

ظفر پراچا کا کہنا تھا کہ ڈالر کی قدر میں اضافے کی ایک بڑی وجہ بینکوں کی جانب سے پھیلائی گئی افرا تفری بھی ہے، ملک کی معیشت کو تباہ کرنے میں اس بے چینی اور افراتفری کا بہت بڑا کردار ہے، گزشتہ دنوں بینکوں نے برآمد کنندگان اور ایکسچینج کمپنیوں سے 240 روپے میں ڈالر خرید کر 255 روپے تک میں درآمد کنندگان کو مارکیٹ میں فروخت کیا۔

ظفر پراچا نے مزید کہا کہ اس تمام صورتحال کو دیکھتے ہوئے ریاست دشمن عناصر بھی متحرک ہوگئے، انہوں نے پشاور میں ڈالر 250 کا کردیا تھا اور افغانستان میں بھارت نے ڈالر 255 روپے کا کردیا تاکہ پاکستان کی معاشی صورتحال کو خراب کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ روپے کی قدر میں بہتری کی ایک وجہ ہمارا درآمدی بل کا کم ہونا بھی ہے اور رواں ماہ یہ بل مزید کم ہوگا، کیونکہ اس ماہ وافر ذخائر ہونے کی وجہ سے پیٹرول کی درآمد کی ضرورت نہیں ہے جب کہ عالمی مارکیٹ میں خوردنی تیل اور دیگر اشیا کی قیمتیں بھی کم ہوئی ہیں تو اس وجہ سے روپے پر دباؤ میں مزید کمی آئے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت بھی روپے کی قدر ہے جب کہ ڈالر کی بہت زیادہ ہے، اس وقت ڈالر کا ریٹ 190 روپے تک ہونا چاہیے تھا جب کہ طویل مدت کے دوران اقدامات کر کے اس کو 160 روپے تک لے کر آنا چاہیے، یہ لمبا سفر ہے، اس سلسلے میں ہمیں مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

ظفر پراچا نے کہا کہ اگر آئی ایم ایف کی جانب سے ڈالر کے ریٹ سے متعلق کوئی شرط ہے تو وہ الگ بات ہے ورنہ اس سلسلے میں اسٹیٹ بینک کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے جیسا کہ گزشتہ ایک دو روز کے دوران وہ سرگرم ہوئے اور وزارت خزانہ کے ساتھ مشترکہ بیان جاری کیا جس میں کہا کہ ملک کے دیوالیہ ہونے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس تمام صورتحال میں ڈالر مہنگا ہونے سے عوام کا نقصان ہوا ہے، حکومت نے اس سلسلے میں اپنا کردار تاخیر سے ادا کیا، انہیں روپے کی قدر میں بہتری کے لیے اس صورتحال سے قبل ہی اقدامات کرنے چاہیے تھے، مہنگے ڈالر کے ساتھ کھلنے والی ایل سی کے نتیجے میں مہنگائی کا مزید بوجھ عوام کو برداشت کرنا پڑے گا۔

error: