رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت حسین انتقال کر گئے

رکن قومی اسمبلی اور معروف ٹی وی اینکر ڈاکٹر عامر لیاقت حسین 49 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

ڈی آئی جی شرقی مقدس حیدر نے عامر لیاقت کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ رکن اسمبلی کی رات میں طبیعت بگڑ گئی تھی اور آج صبح حالت زیادہ خراب ہونے پر ان کو آغا خان ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹرز نے ان کی موت کی تصدیق کردی۔

انہوں نے کہا کہ عامر لیاقت کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے جناح ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔

پی ٹی آئی رہنما جمال صدیقی کا کہنا ہے کہ عامر لیاقت کے ملازم نے ان کے موت کی خبر دی۔ ہسپتال انتظامیہ نے بھی اس خبر کی تصدیق کردی ہے جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم کے بعد ہی عامر لیاقت کے موت کا سبب پتہ چلے گا۔‎

واضح رہے کہ عامر لیاقت حسین گزشتہ کچھ عرصے سے نجی زندگی میں شدید مسائل سے دوچار تھے اور ان کی تیسری شادی کا اختتام بھی طلاق پر ہوا تھا۔

عامر لیاقت نے پہلی شادی ڈاکٹر بشریٰ سے کی تھیں، جن سے انہیں دو نوجوان بچے بھی ہیں، جن کی عمریں 20 سال سے زائد ہیں۔

ڈاکٹر بشریٰ اقبال نے دسمبر 2020 میں تصدیق کی تھی کہ شوہر نے انہیں طلاق دے دی۔

عامر لیاقت نے دوسری شادی ماڈل و اداکارہ طوبیٰ انور سے جولائی 2018 میں کی تھی جو ان سے کئی سال کم عمر تھیں اور دونوں کی شادی 4 سال سے بھی کم عرصے تک چلی۔

گزشتہ سال فروری میں طوبیٰ انور نے تصدیق کی تھی کہ انہوں نے عامر لیاقت سے خلع لے لی ہے تاہم عامر لیاقت مسلسل اس کی تردید کرتے رہے۔

عامر لیاقت نے تیسری شادی فروری 2022 میں بہاولپور کی 18 سالہ لڑکی دانیہ شاہ سے کی تھی، جنہوں نے رواں ماہ مئی کے آغاز میں خلع کے لیے وہاں کی مقامی عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔

دانیہ شاہ کی جانب سے طلاق کے لیے درخواست دائر کرنے کے بعد عامر لیاقت نے ان کی مبینہ آڈیو اور بعد ازاں دانیہ شاہ نے بھی عامر لیاقت کی مبینہ آڈیو اور ویڈیوز لیک کی تھیں اور دونوں نے ایک دوسرے پر سنگین الزامات بھی لگائے تھے۔

بعد ازاں عامر لیاقت نے ہار تسلیم کرتے ہوئے دانیہ شاہ سے معافی مانگتے ہوئے پاکستان چھوڑ جانے کا اعلان کیا تھا، تاہم انہوں نے ملک چھوڑنے کی تاریخ نہیں دی تھی۔

عامر لیاقت نے 2002 میں ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کی نشست پر کامیابی حاصل کی تھی اور وزیر مذہبی امور کا منصب بھی حاصل کرنے میں کامیاب رہے تھے۔

وہ پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے پر 2008 میں ایم کیو ایم سے نکال دیئے گئے تھے ، تاہم ان کی پارٹی رکنیت کچھ سال میں بحال کردی گئی تھی۔

کم و بیش 8 سال تک سیاست سے کنارہ کش رہنے کے بعد 2016 میں وہ ایک مرتبہ سیاست میں ماضی کی طرح سرگرم ہونے لگے تاہم 22 اگست 2016 کو متحدہ قومی موومنٹ کے بانی الطاف حسین کی متنازع تقریر کے بعد انہوں نے ایم کیو ایم سے اپنی راہیں جدا کر لی تھیں اور کہا تھا کہ اب وہ کبھی سیاست میں قدم نہیں رکھیں گے۔

تاہم سیاست میں واپس نہ آنے کا فیصلہ انہوں نے جلد ہی تبدیل کر لیا تھا اور مارچ 2018 میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کردیا تھا اور پھر اسی سال کراچی سے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

عامر لیاقت اب کئی برسوں سے میڈیا انڈسٹری میں کام کر رہے تھے۔ 2001 میں انہوں نے جیو ٹی وی میں شمولیت اختیار کی تھی جہاں انہوں نے ایک مذہبی پروگرام عالم آن لائن کی میزبانی کی تھی جس نے انہیں بڑی پیمانے پر مقبولیت بخشی تھی۔

گزشتہ کچھ برسوں میں عامر لیاقت نے جیو ٹی وی اور بول نیوز دونوں پر رمضان ٹرانسمیشنز کی میزبانی کی تھی۔ انہوں نے ٹی وی پر جو آخری شو کیا تھا وہ ’بول ہاؤس ود عامر لیاقت ‘ تھا۔

ٹیلی ویژن میزبان کے طور پر اپنے کیریئر میں انہیں متعدد تنازعات کا سامنا رہا۔

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے نفرت انگیز تقاریر پر ان کے متعدد شوز پر بھی عارضی طور پر پابندی عائد کی تھی۔ 2018 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے انہیں الیکٹرانک میڈیا پر آنے سے روک دیا تھا۔

قومی اسمبلی کے اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے رکن قمی اسمبلی کے انتقال کی خبر ملتے ہی آج شروع ہونے والا اجلاس جمعہ کی شام 5 بجے تک ملتوی کر دیا ہے۔

اظہار تعزیت کا سلسلہ

عامر لیاقت کے موت کی خبر سنتے ہی سیاستدانوں کی جانب سے تعزیت کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے لیاقت کی ناگہانی موت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

ٹوئٹر پر جاری بیان میں انہوں نے مرحوم کی مغفرت اور بلند درجات کے لیے دعا کی ہے۔

وزیرِاعظم شہباز شریف نے عامر لیاقت حسین کے انتقال پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے اُن کے لیے دعائے مغفرت کی ہے۔

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے عامر لیاقت کے انتقال پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے صحافت سے سیاست تک ایک متحرک زندگی گزاری۔ انہوں نے تحریر و تقریر سے زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ عامر لیاقت حسین کے انتقال کی خبر سے سخت صدمہ ہوا

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سندھ کے سابق گورنر عمران اسماعیل نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے سیاسی سفر میں عامر لیاقت نے اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ عامر لیاقت نے پارٹی سے استعفیٰ دینے کے بعد بھی ان کے پارٹی اراکین کے ساتھ ہمیشہ اچھے تعلقات رہے۔

سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے بھی رکن قومی اسمبلی کے اچانک انتقال پر افسوس کا اظہار کیا اور ان کے اہل خانہ کے لیے صبر کی دعا کی ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا نے بھی عامر لیاقت کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے مرحوم کی مغفرت اور بلند درجات کیلئے دعا کی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید خان نے عامر لیاقت کے اہل خانہ سے تعزیت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت عطا فرمائے اور ان کے اہل خانہ اور عزیز ق اقارب اور چاہنے والوں کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

صحافی حامد میر نے عامر لیاقت کی پرانی ٹویٹ شیئر کرکے لکھا ہے کہ جب کوئی دنیا سے چلا جائے تو اسکی اچھی باتوں کو یاد رکھنا چاہئیے اللّٰہ پاک عامر لیاقت صاحب کی مغفرت فرمائے اور انکے سفر آخرت کو آسان بنائے آمین۔

https://twitter.com/HamidMirPAK/status/1534827240575225856?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1534827240575225856%7Ctwgr%5E%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawnnews.tv%2Fnews%2F1183276

error: