ریچھ کا غیر قانونی کاروبار: دو ماہ کا ’ڈبو‘ جس نے وادی نیلم سے لاہور کا مشکل سفر طے کیا

اپنی پیدائش سے ہی انتہائی بے رحمانہ سلوک کا نشانہ بننے والا دو ماہ کا کالا ریچھ اب لاہور کے چڑیا گھر پہنچ گیا ہے۔ اس کی تکلیف ایک ٹک ٹاک ویڈیو میں منظر عام پر آئی ہے۔

ڈبو نامی اس ریچھ کی جائے پیدائش پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی وادی نیلم ہے۔ اسے ایک تکلیف دہ سفر کرنے کے بعد پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے چڑیا گھر پہنچایا گیا ہے۔

لیکن یہ ننھا ریچھ یہاں تک کیسے پہنچا؟

جنگلی حیات کے غیر قانونی کاروبار کے شکار ڈبو کی زندگی آغاز سے ہی مشکلات کا شکار رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق ریچھ کی ماں کبھی بھی اپنے بچے کو کسی اور کے حوالے نہیں کرتی۔ ریچھ پکڑنے کے غیر قانونی اور انتہائی بے رحمانہ کاروبار سے منسلک افرد ریچھ کے بچے کو قابو کرنے کے لیے پہلے ریچھ کی ماں کو مارتے ہیں۔

اس لیے غالب امکان ہے کہ ڈبو کو پکڑنے کے لیے اس کی ماں کو مارا گیا ہوگا۔

ریچھ
،تصویر کا کیپشنبعض ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان میں ریچھ کی خرید و فروخت میں ایک ’مافیا‘ ملوث ہے جو ماں کا شکار کر کے اس کے بچوں کو بیچ دیتا ہے (فائل فوٹو)

پیدائش کے ساتھ ہی اسے اپنی ماں، اپنے قدرتی ماحول سے جدا کر دیا گیا۔ اس کے بعد اب اس بات کے انتہائی کم امکانات ہیں کہ وہ کبھی قدرتی آماجگاہ میں اپنی زندگی گزار سکے گا۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں وائلڈ لائف کے سیکریٹری جاوید ایوب کے مطابق ریچھ سمیت دیگر جنگلی جانور اپنی پیدائش کے بعد ہی سے جنگل میں زندگی کا طریقہ سیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اب جب کہ ڈبو کا پیدائش کے ساتھ ہی انسانوں سے واسطہ پڑ چکا ہے تو اس بات کے امکانات کم ہی ہیں کہ اس کو اگر کسی قدرتی آماجگاہ میں چھوڑا جائے تو وہ اس قابل ہوگا کہ وہ وہاں محفوط زندگی گزار سکے۔

جاوید ایوب کے مطابق ڈبو جیسے حالات کا شکار ہونے والے ریچھ کو صرف اسی صورت میں جنگلوں میں آماجگاہوں میں چھوڑا جاسکتا ہے کہ جب ان کو بحالی کے مراکز اور پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے کی تربیت فراہم کی جائے۔ ’یہ انتہائی مشکل تربیت ہے جس کے وسائل ابھی سرکاری طور پر ہمارے پاس دستیاب نہیں ہیں۔‘

اس وقت یہ بحث ہورہی ہے کہ ڈبو لاہور کے چڑیا گھر میں محفوظ ہے کہ نہیں۔ مگر پہلے اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ ڈبو کس طرح اور کیسے لاہور کے چڑیا گھر تک پہنچا اور اس کی خرید و فروخت کی کہانی کیا ہے؟

ریچھ کو ٹک ٹاک ویڈیو میں استعمال کیا گیا

پنجاب کے شہر راولپنڈی میں محکمہ وائلڈ لائف کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر رضوانہ عزیز نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈبو کی انسانی تحویل میں موجودگی کی اطلاع ایک ٹک ٹاک ویڈیو سے ملی تھی۔

پاکستان، ریچھ

اس کے بعد ’ہمارا محکمہ فوراً حرکت میں آیا اور اس نے فی الفور معلومات حاصل کرنے کے بعد خاتون انیلہ کے گھر سے اسے برآمد کرنے کے بعد چالان درج کیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ڈبو کو اپنی تحویل میں لینے کے بعد خاتون اور ڈبو کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے خاتون پر دس ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جبکہ ڈبو کو لاہور چڑیا گھر بھیجنے کا حکم دیا۔

رضوانہ عزیز کا کہنا تھا کہ یہ ریچھ پاکستان میں ان جانوروں میں شمار ہوتا ہے جنھیں خطرات لاحق ہیں۔ ’اسے انسانی تحویل میں رکھنا اور اس کی خرید و فروخت جرم ہے اور اس کی کسی بھی صورت میں اجازت نہیں دی جائے گئی۔‘

ٹک ٹاک پر مشہور انیلہ عمیر نے اس بات سے تو انکار نہیں کیا کہ ڈبو ان کے گھر سے برآمد ہوا ہے مگر ان کا دعویٰ تھا کہ وہ جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرتی ہیں اور ڈبو کو انھوں نے ’شکاریوں سے محفوظ کرنے کے لیے حاصل کیا تھا۔‘

ان کے مطابق ڈبو کی زندگی کو محفوظ بنانے کے لیے وہ اس کو کسی بحالی کے بین الاقوامی ادارے کے حوالے کرنا چاہتی تھیں۔

انیلہ کا کہنا ہے کہ جس ٹک ٹاک ویڈیو کی بات کی جارہی ہے وہ ان کی ایک ساتھی کارکن کے ساتھ ہے۔ یہ ویڈیو ’ریکارڈ رکھنے کے لیے بنائی گئی تھی مگر بدقسمتی سے ہم لوگ اس کو پرائیوٹ کرنا بھول گئے تھے۔‘

چندہ اکھٹا کرکے ریچھ خریدا

انیلہ عمیر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ رمضان میں انھیں اپنے ہمسائیوں کے ذریعے اطلاع ملی کہ وادی نیلم میں شکاریوں نے ایک مادہ ریچھ کو ہلاک کر کے اس کا بچہ اپنے قبضے میں کر لیا ہے اور وہ اس کو فروخت کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اس ریچھ کے بچے کو محفوظ کرنا چاہتے تھے۔ شکاری کے ساتھ رابطہ اطلاع دینے والوں کے ذریعے سے ہوا۔ وہ کسی بھی صورت میں اسے پیسوں کے بغیر دینے پر تیار نہیں تھے۔ وہ 45 ہزار روپے (کی قیمت) پر راضی ہوئے۔ انھیں بیس ہزار گاڑی کا خرچہ الگ سے دیا تھا۔‘

انیلہ عمیر کا کہنا تھا کہ ’مجھے شکاریوں نے نیلم سے ریچھ کی ویڈیو بھجوائی جس میں وہ رو رہا تھا۔ چیخ رہا تھا۔ فریاد کررہا تھا۔ اس کے بعد میں نے محکمہ وائلڈ لائف پنجاب سے رابطہ قائم کیا کہ ہماری مدد کی جائے کہ کسی طرح ہم اس کو بازیاب کروا سکیں جس پر ہمیں کوئی مناسب جواب نہیں ملا۔‘

’ڈبو کے رونے، چیخنے کی آوازیں ہمیں کچھ کرنے پر اُکسا رہی تھیں۔۔۔ ہم نے 45 ہزار روپے چندہ جمع کیا جس کی کچھ ادائیگی ان کو ایڈوانس دی۔ انھوں نے ایک تاریخ دی کہ ہم لوگ خود اس کو راولپنڈی پہنچا دیں گے۔ ہم لوگ اس تاریخ کا انتظار کرتے رہے مگر وہ نہیں آئے۔ ان کا صرف پیغام ملا کہ فکر نہ کریں ہم جلد پہنچا دیں گے۔‘

انیلہ کے مطابق اس کے ’دو، تین دن بعد انھوں نے اچانک فون کر کے کہا کہ وہ پہنچ چکے ہیں۔ باقی رقم لائیں اور ریچھ کو لے جائیں۔‘

’یہ بہت زیادہ زخمی تھا، اس کی حالت دیکھ کر میرے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ اس کو خطرہ لاحق تھا۔ اس وقت وائلڈ لائف کو اطلاع دینے سے زیادہ اہم یہ تھا کہ اس کی جان بچائیں۔‘

ان کے مطابق وہ محکمۂ وائلڈ لائف کے رویے پر مایوس تھیں۔

ریچھ

تاہم محکمہ وائلڈ لائف راولپنڈی کا کہنا ہے کہ ’کشمیر ہمارے علاقے میں نہیں آتا۔ خاتون کے دعوے کے مطابق جب ان کو راولپنڈی میں ریچھ پہنچایا گیا تو اس وقت ہمیں کوئی اطلاع فراہم نہیں کی گئی۔ اگر خاتون کا دعویٰ درست ہے تو ہمیں اطلاع کرتیں۔ ہم ہر صورت میں کارروائی کرتے۔‘

محکمہ وائلڈ لائف کشمیر کا بھی یہی کہنا تھا کہ ’اگر ہمیں اطلاع فراہم کی جاتی تو اس پر کارروائی کرتے۔‘

انیلہ نے ریچھ کی دیکھ بھال ’انٹرنیٹ کے ذریعے‘ کی

انیلہ کا کہنا تھا کہ جب وہ ’میرے پاس پہنچا تو بس چند دن کا اور زخمی تھا۔

’ہم لوگوں نے اس کا ویٹنری ڈاکٹر سے علاج کروایا۔ میں نے اس کو اپنے ڈرائنگ روم میں رکھا۔ اس کو تمام سہولتیں فراہم کیں۔ انٹرنیٹ کے ذریعے سیکھا کہ میں اس کو کیسے اچھے سے سنبھال سکتی ہوں۔ اس کو ڈبو کا نام دیا۔ اس کو فیڈر کے ذریعے دودھ دینے کا طریقہ سیکھا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ انھیں لگتا تھا کہ ڈبو ان کے ساتھ اچھا محسوس کر رہا ہے اور دونوں میں ایک تعلق پیدا ہوچکا ہے۔

’میرا اور میرے ساتھیوں کا کبھی یہ ارادہ نہیں تھا کہ ہم اس کو اپنے گھر میں رکھیں گے۔۔۔ ہم اس کوشش میں تھے کہ اس کے لیے کوئی بین الاقوامی معیار کا بحالی کا مرکز ہو۔‘

انیلہ کا دعویٰ ہے کہ ڈبو لاہور کے چڑیا گھر میں ’بالکل بھی محفوظ نہیں۔‘

ڈبو کا مستقبل کیا ہوگا؟

اسلام آباد وائلڈ لائف مینیجمنٹ بورڈ کی چیئرمین رعنا سعید کے مطابق لاہور کا ماحول اور گرمی کسی بھی صورت میں ریچھ اور بالخصوص انتہائی کم عمر ڈبو کے لیے محفوظ مقام نہیں۔ ’اسلام آباد کا موسم اور حالات کسی حد تک اس کی قدرتی آماجگاہوں سے ملتے جلتے ہیں۔‘

انھوں نے اسے محکمۂ وائلڈ لائف اسلام آباد کو دینے کی گزارش کی مگر ’ایسا ممکن نہ ہوسکا کیونکہ عدالتی حکم موجود تھا۔ اب ہم نے وائلڈ لائف پنجاب کو خط لکھ کر گزارش کی ہے۔‘

انیلہ اس سے اتفاق کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ’ڈبو کو انتہائی نامناسب حالات میں رکھا گیا ہے۔ میں حکام سے توقع کرتی ہوں کہ اس کو کسی بحالی کے مرکز میں پہنچائیں گے۔۔۔ کم از کم اس کو اب ایک اچھی زندگی مل سکے گی۔‘

لاہور چڑیا گھر کی ڈپٹی ڈائریکٹر کرن سلیم کا دعویٰ ہے کہ وہ ڈبو کی بہت زیادہ دیکھ بھال کر رہے ہیں۔ ’اس پر 24 گھنٹے نگران مقرر ہے۔ اس کو گرمی کی شدت سے بچانے کے لیے دو روم کولرز کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ اسے چڑیا گھر میں موجود باقی جانوروں اور ریچھوں سے الگ ایسے مقام پر رکھا گیا ہے جہاں پر اس کو تمام سہولتیں دستیاب ہیں۔‘

ان کے مطابق ڈبو اس وقت ’محفوظ مقام اور محفوظ ہاتھوں میں ہے۔‘

ریچھ کا غیر قانونی کاروبار کوئی راز نہیں

ماہرین اور جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں کے مطابق ریچھوں کو مارنا، پکڑنا اور غیر قانونی کاروبار کوئی راز نہیں ہے۔ حکام کی جانب سے سختی کے باوجود یہ ابھی بھی کسی نہ کسی طرح جاری ہے۔

اسلام آباد وائلڈ لائف مینیجمنٹ بورڈ کے سابق چیئرمین ڈاکٹر انیس الرحمن کے مطابق ریچھ کی خرید و فروخت میں منظم مافیا کام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’جب میں چیئرمین تھا تو اس وقت ہم پر باقاعدہ دباؤ ڈالا گیا۔ یہاں تک کہ ہمیں پھر عدالت سے رجوع کرنا پڑا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ اکثر اوقات ہوتا یہ ہے کہ ریچھ کے کاروبار کے معاملے میں جو لوگ پکڑے جاتے ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی، وہ صرف ملازم ہوتے ہیں۔ اصل مالک کوئی اور ہوتا ہے۔ ان کا کام صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہ ریچھ کو گلیوں محلوں میں لے کر گھومتے پھراتے ہیں اور اس کا تماشا دکھا کر پیسے اکھٹے کرتے ہیں اور اس آمدن کا بڑا حصہ اصل مالک کو جاتا ہے۔'

ریچھ

ڈاکٹر انیس کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس تصدیق شدہ اطلاعات تو نہیں ہیں مگر ہمیں مختلف ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اسلام آباد اور گرد و نواح کے علاقوں میں مزید ریچھ بھی موجود ہیں جن پر ہمارے دور میں بھی ہاتھ ڈالا جاتا رہا اور اب بھی حکام کام کرتے رہتے ہیں۔‘

ریچھ خطرے کا شکار

ممحکہ ماحولیات صوبہ خیبر پختونخوا کے سابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر نعمان رشید کے مطابق ریچھوں کی آماج گاہیں وزیرستان کے علاقے سے لے کر گلگت بلتستان، کشمیر اور بلوچستان میں پائی جاتی ہیں۔ پختونخوا کے علاقوں میں کالا ریچھ پایا جاتا ہے جبکہ انتہائی نایاب بھورا ریچھ گلگت بلستان کے علاقوں میں پایا جاتا ہے۔

مختلف اطلاعات کے مطابق سوات میں ریچھ انتہائی کم ہو چکے ہیں جبکہ اس کی ایک قابل ذکر تعداد مانسہرہ اور کوہستان میں موجود ہے۔

جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے قانون دان امان ایوب ایڈووکیٹ کا کہنا تھا 'ہماری اطلاعات کے مطابق اس وقت ریچھ کی خرید و فروخت کے دو بڑے ٹھکانے پشاور اور گوجرانوالہ ہیں۔

’جب ریچھ کو مقامی لوگ یا خانہ بدوش پکڑتے ہیں تو وہ عمومی طور پر اس کی بلیک مارکیٹ سے ناواقف ہوتے ہیں۔ اس موقع پر ان سے مڈل مین رابطہ کرتا ہے جو ان سے 30 سے 50 ہزار روپے میں ریچھ خریدتا ہے جس کے بعد وہ یہ ریچھ پشاور پہنچاتا ہے جہاں سے اسے گوجرانوالہ پہنچایا جاتا ہے یا اس کو پشاور ہی میں اس دھندے میں ملوث لوگ 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے میں خریدتے ہیں۔‘

نعمان رشید نے بتایا ’حکومت پاکستان نے سنہ 2004 میں وائلڈ لائف پر ایک بین الاقوامی سروے منعقد کروایا تھا جس میں ریچھ کو انتہائی خطرے کا شکار قرار دیا گیا تھا۔ سنہ 2012 کی ایک اور بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بھورے ریچھ کی تعداد 200 جبکہ کالے ریچھ کی تعداد 450 کے لگ بھک ہوسکتی ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ سنہ 2004 میں سروے کے بعد اس صورت حال کا تجزیہ کیا گیا تو پتا چلا کہ دیگر ماحولیاتی عوامل کے علاوہ ریچھ کی کتوں سے لڑائی اور ناچ تماشے کے لیے استعمال بھی بڑا خطرہ ہے۔

’ریچھ اور کتوں کی لڑائی پر ایک مربوط پالیسی بنائی گئی جس میں جو آخری لڑائی رپورٹ ہوئی وہ سنہ 2014 میں ہوئی تھی اس کے بعد اب تک ایسی کوئی لڑائی رپورٹ نہیں ہوئی۔ تاہم خفیہ طور پر کی جانے والی ایسی سرگرمیوں کے امکانات موجود ہیں۔‘

نعمان رشید کے مطابق 'ناچنے اور تماشا دکھانے والے ریچھوں کے مالکان کے خلاف سب سے پہلے سنہ 2002 میں صوبہ خیبر پختونخوا میں کارروائی ہوئی اور اس حوالے سے قانون بنایا گیا تھا۔ اس کے بعد صوبہ خیبر پختونخوا میں اب تک ایسی سرگرمی سامنے نہیں آئی ہے۔ سنہ 2005 میں ایسا ہی قانون بلوچستان میں پاس ہوا جس کے بعد اس دھندے میں ملوث لوگ سندھ پہنچ گئے تھے جن کے خلاف سندھ میں وائلڈ لائف ایکٹ کے تحت تو کارروائیاں ہوتی تھیں مگر صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی طرح قانون نہیں تھا تاہم سنہ 2015 میں سندھ میں بھی ریچھ کو رکھنے، نچانے، تماشا دکھانے وغیرہ میں استعمال کرنے کو جرم قرار دے دیا گیا تھا اور وہاں پر بھی کارروائیاں ہوئی تھیں۔'

واضح رہے کہ ریچھ اور کتوں کی لڑائی پر پابندی کا قانون سنہ 2001 میں اس وقت کے صدر مشرف نے خصوصی آرڈیننس کے ذریعے جاری کیا تھا جو کہ پورے ملک میں مکمل طور پر آج بھی نافذ ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: