ریکوڈک: بیریک گولڈ سے سونے اور تانبے کی کان کا معاہدہ کیا پاکستان اور بلوچستان کے مفاد میں ہے؟

صوبہ بلوچستان میں تانبے اور سونے کے سب سے بڑے منصوبے ریکوڈک پر نئے معاہدے کے بعد وفاقی وزارتِ خزانہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بیرک گولڈ کے عہدیداروں نے چاغی میں اس مقام کا دورہ کیا ہے اور توقع ہے کہ وہاں جلد کام شروع ہوجائے گا۔

مزمل اسلم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بیرک گولڈ کے حکام نے یہ دورہ اسلام آباد میں منصوبے کے حوالے سے معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد کیا۔

پاکستان میں وفاق اور بلوچستان دونوں حکومتوں نے اس معاہدے کو اہم پیشرفت قرار دیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اس سے پاکستان کی بڑی مدد ہوگی جبکہ بلوچستان کی کابینہ کو بتایا گیا ہے کہ اس سے صوبے کو کسی سرمایہ کاری کے بغیر 25 فیصد حصہ ملے گا۔

خیال رہے کہ اتوار کو پاکستان کے وزیِر خزانہ شوکت ترین کی جانب سے ایک پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ کارپوریشن نے 11 ارب ڈالر کے جرمانے کی تلافی کے ساتھ ساتھ 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا ہے۔ تنازع کے باعث ایران اور افغانستان سے متصل سرحدی ضلع چاغی میں اس منصوبے پر گذشتہ کئی سال سے کام بند تھا۔

ریکوڈک کا نیا معاہدہ پاکستان اور بلوچستان کے لیے ’بیل آؤٹ‘ کیوں؟

ریکوڈک کے حوالے سے وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ 'اپنی استعداد کے اعتبار سے ریکوڈک دنیا میں سونے اور تانبے کی سے بڑی کان ہوگی۔ اس سے ہمیں قدموں میں بیڑیوں کی مانند چمٹے قرض سے نجات ملے گی اور ہم ترقی و خوشحالی کے ایک نئے دور میں داخل ہوں گے۔‘

عمران خان کے مطابق اس نئے منصوبے سے قریب 11 ارب ڈالرز کے جرمانے کی تلافی، بلوچستان میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور روزگار کے آٹھ ہزار نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

وزارتِ خزانہ کے ترجمان مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ کئی حوالوں سے پاکستان کے لیے ’بیل آﺅٹ‘ یعنی مدد ہے۔ ان کے مطابق اس معاہدے کی وجہ سے جرمانے کی اس رقم کی ادائیگی نہیں کرنی پڑے گی جو کہ بین الاقوامی ثالثی فورم ایکسڈ سے پاکستان پر عائد کیا گیا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’پاکستان کسی طرح مالی لحاظ سے اس خطیر رقم کی ادائیگی کی پوزیشن میں نہیں۔ اگر جرمانے کی رقم کی ادائیگی نہ کی جاتی تو پاکستان کے بیرونی ممالک میں جو اثاثے تھے ان کو تحویل میں لے کر ان کی نیلامی کی جاتی اور وہ رقم ان کمپنیوں کو دی جاتی جو کہ ٹھیتیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی) میں شراکت دار تھے۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ پاکستان کو چھ ارب ڈالر جرمانے کے ساتھ دیگر چارجز ادا کرنا تھے اور یہ کل رقم قریب 11 ارب ڈالر تک بنتی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ حکومت نے بہتر انداز سے مذاکرات کیے اور اس رقم کو نو سو ملین ڈالر پر لایا اور یہ رقم اس کمپنی کو دینی پڑے گی جو دوبارہ کام کرنے پر آمادہ نہیں ہوئی۔ خیال رہے کہ ٹی سی سی میں بیرک گولڈ کے علاوہ دوسری شراکت دار کمپنی چلی کی انٹافگوسٹا تھی جو کہ دوبارہ ریکوڈک پر کام کرنے کے لیے آمادہ نہیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ نو سو ملین ڈالر کی یہ رقم بھی حکومت کو نہیں دینی پڑے گی بلکہ یہ رقم ریکوڈک پر کام کے لیے آمادہ ہونے والی کمپنی ادا کرے گی اور وہ اپنے حصے کے جرمانے کی رقم چھوڑ دے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ جہاں ملک خطیر جرمانے کی ادائیگی سے بچ گیا وہاں اس معاہدے کا دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ اس کے نتیجے میں کمپنی دس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی جو کہ ملکی تاریخ کی سب سے بڑی سنگل غیر ملکی سرمایہ کاری ہوگی۔

ریکوڈک منصوبے میں کس کا کتنا حصہ؟

مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ اس منصوبے میں بلوچستان کو 25 فیصد حصہ ملے گا اور اس سے وہاں روزگار کے 8000 نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

ادھر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں معاہدے پر دستخط کرنے کے موقع پر بیرک گولڈ کے سربراہ مارک برسٹو نے کہا کہ اگر سب کچھ منصوبے کے تحت جاری رہا تو ریکوڈک سے پانچ سے چھ سال میں پیداوار شروع ہوگی۔

نئے معاہدے کے تحت منصوبے کا پچاس فیصد حصہ کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ کا ہوگا جبکہ بقیہ پچاس فیصد مساوی طور پر وفاقی حکومت اور بلوچستان کے درمیان تقسیم ہوں گے۔

بلوچستان

وفاقی حکومت کا 25 فیصد حصہ تین سرکاری انٹر پرائزز کے درمیان برابر تقسیم ہوگا جو کہ اس میں سرمایہ کاری کریں گے۔ ان میں آئل اینڈ ڈویلپمنٹ کارپوریشن (او جی ڈی سی )، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل ) اور گورنمنٹ ہولڈنگز پاکستان لمیٹڈ شامل ہیں۔

حکام کے مطابق بقیہ 25 فیصد میں سے دس فیصد کسی حصہ دار کے بغیر حکومت بلوچستان کے ہوں گے۔ اور 15 فیصد حکومت بلوچستان کی کمپنی کے ہوں گے۔ ایک اعلامیہ کے مطابق بلوچستان کی کابینہ کو بتایا گیا ہے کہ رائلٹی اور ٹیکسز کو ملا کر بلوچستان کو اس سے 33 فیصد سے زیادہ معاشی فائدہ حاصل ہوگا۔

کیا ریکوڈک کا نیا معاہدہ بہتر یا اس پر بھی اعتراضات؟

بلوچستان کے سابق سیکریٹری خزانہ محفوظ علی خان کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے ماضی میں ریکوڈک کے حوالت سے جو معاہدہ کیا تھا اس کے مقابلے میں یہ نیا معاہدہ ’کئی گنا زیادہ فائدہ مند ہوگا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد مزید معاہدے ہوں گے جن میں مائننگ اور شیئر ہولڈنگ کے معاہدے شامل ہیں، جن کے لیے بلوچستان کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا اور ان معاہدوں کے لیے ماہرین کی ایک مضبوط ٹیم ہونی چاہیے۔

ان کے مطابق آگے جو معاہدے ہوں گے وہ دنیا کی ایک بڑی کمپنی سے ہوں گے، اس لیے بلوچستان کی جو ٹیم ہو ان میں کارپوریٹ لا، کارپوریٹ فنانس اور مائننگ وغیرہ کے ماہرین شامل ہوں تاکہ بلوچستان کے مفادات کا بہتر انداز سے تحفظ ہوسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے اگر بلوچستان حکومت کو بین الاقوامی ماہرین کی خدمت کی ضرورت پڑے تو اس سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔

تاہم بعض آئینی اور قانونی ماہرین کے علاوہ کچھ قوم پرست جماعتیں بیرک گولڈ سے ہونے والے معاہدے کو بلوچستان کے مفاد میں نہیں سمجھتے ہیں۔

بلوچستان کے سابق ایڈووکیٹ جنرل نے نئے معاہدے پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے اسے بلوچستان کے سرمایے پر ’ہاتھ صاف کرنے کا ایک قدم‘ قرار دیا ہے۔

امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ کا دعویٰ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے جرمانے کی رقم کو بڑھا چڑھا کر 11 ارب ڈالر ظاہر کیا ہے حالانکہ یہ ’ساڑھے پانچ ارب ڈالر تھی‘۔ انھوں نے کہا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت اس جرمانے کی رقم کا اصل تعین مقامی ہائی کورٹ کے ذریعے کیا جاسکتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ریکوڈک کے معاملے پر سپریم کورٹ نے جولائی 2013 میں تمام بیرونی معاہدوں کو کالعدم و منسوخ کیا تھا مگر اب ایک اور معاہدہ کر کے ’بلوچستان کی تین سو سالہ قیمتی معدنی دولت جو سونے سے کہیں زیادہ قیمتی ذخائر ہیں کو قربانی کے بھینٹ چڑھا دیا گیا۔‘

سابق ایڈووکیٹ جنرل کے مطابق ریکوڈک کی مالیت اس وقت ایک ہزار ارب امریکی ڈالر ہے اور یہ چھ سو کلو میٹر کی حدود اربع اور تین سو سال کی پیداواری استعمال کی صلاحیت رکھتا ہے۔

امان اللہ کنرانی کا کہنا ہے کہ ’بہتر ہے اس قومی دولت کو آئندہ نسلوں کے لتے بچا کر محفوظ رکھا جائے یا پھر کسی ایسی کمپنی کو دیا جائے جو ضلع چاغی میں ریفائنری لگائے تاکہ ہمیں ہماری آنکھوں کے سامنے اندازہ ہوسکے کہ ہماری دولت کی مقدار و قیمت کیا ہے۔‘

ادھر بلوچستان نیشنل پارٹی نے ریکوڈک کے حوالے سے اس معاہدے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم کے خلاف جب عدم اعتماد کی تحریک پیش ہوئی ہے تو انھیں یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ایسے معاہدے کرتے پھریں۔

پارٹی کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان کے وسائل پر اس کا حق پچاس فیصد سے زیادہ بنتا ہے اس سے کم کا معاہدہ کسی صورت میں قبول نہیں ہے اور پارٹی اس سلسلے میں قانونی چارہ جوئی کا حق رکھتی ہے۔

بیان کے مطابق چاغی میں ریفائنری لگانا ضروری ہے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ وہاں سے کتنے وسائل نکالے جارہے ہیں۔

جبکہ نینشل پارٹی نے بھی ریکوڈک کاپر اینڈ گولڈ پراجیکٹ کے معاہدہ کو بلوچستان کے عوام کے قومی وسائل پر قبضہ قرار دیا ہے۔

پارٹی کے اس حوالے سے بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان کے عوام اور نیشنل پارٹی ریکوڈک کاپر اینڈ گولڈ پراجیکٹ کے معاہدے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔

اسی طرح بلوچ نیشنل موومنٹ نے بھی اس معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچ سرزمین پر بلوچ قومی وسائل کا سودا کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔

پارٹی کے چیئرمین خلیل بلوچ نے کہا کہ بلوچ قوم کی مرضی و منشا کے بغیر کسی بھی ملک یا کمپنی کا سودا غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہوگا۔

ریکوڈک میں تانبے اور سونے کا منصوبہ متنازع کیوں؟

ریکوڈک بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ہے اور بعض رپورٹس کے مطابق ریکوڈک کا شمار پاکستان میں تانبے اور سونے کے سب سے بڑے جبکہ دنیا کے چند بڑے ذخائر میں ہوتا ہے۔

ریکوڈک کے قریب ہی سیندک کا مقام ہے جہاں ایک چینی کمپنی ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے تانبے اور سونے کے ذخائر پر کام کر رہی ہے۔ تانبے اور سونے کے دیگر ذخائر کے ساتھ ساتھ چاغی میں بڑی تعداد میں دیگر معدنیات کی دریافت کے باعث ماہرین ارضیات چاغی کو معدنیات کا 'شو کیس' کہتے ہیں۔

پاکستان

بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع معدنیات کے ذخائر کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ دنیا میں وہ کاپر اور سونے کی سب سے بڑی کانوں میں سے ایک ہیں جن پر آج تک مکمل انداز میں کام شروع نہیں ہو سکا ہے۔

پاکستان کی حکومت نے ان ذخائر کی تلاش کے لیے 28 برس قبل ریکوڈک منصوبے کا آغاز کیا لیکن اس سے ملک کو کسی فائدے کے بجائے ناصرف چھ ارب ڈالر کا جرمانہ ہوا بلکہ سرمایہ کاری سے متعلق تنازعات کو نمٹانے کے لیے ثالثی کے دو بین الاقوامی اداروں میں مقدمہ بازی پر خطیر اخراجات بھی ہوئے ہیں۔

گذشتہ برس بین الاقوامی ثالثی ٹریبیونل نے پاکستان پر صوبہ بلوچستان میں سونے اور تانبے کے کروڑوں ڈالر مالیت کے ریکوڈک پراجیکٹ کے مقدمے میں تقریباً چھ ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا تھا۔

بلوچستان کے سابق سیکریٹری خزانہ محفوظ علی خان کے ایک مضمون کے مطابق حکومت بلوچستان نے یہاں کے معدنی وسائل سے استفادہ کرنے کے لیے ریکوڈک کے حوالے سے سنہ 1993 میں ایک امریکی کمپنی بروکن ہلز پراپرٹیز منرلز کے ساتھ معاہدہ کیا۔

یہ معاہدہ بلوچستان ڈیویلپمنٹ کے ذریعے امریکی کمپنی کے ساتھ جوائنٹ وینچر کے طور پر کیا گیا تھا۔

چاغی ہلز ایکسپلوریشن کے نام سے اس معاہدے کے تحت 25 فیصد منافع حکومت بلوچستان کو ملنا تھا۔ اس معاہدے کی شقوں میں دستیاب رعایتوں کے تحت بی ایچ پی نے منکور کے نام سے اپنی ایک سسٹر کمپنی قائم کر کے اپنے شیئرز اس کے نام منتقل کیے تھے۔

منکور نے بعد میں اپنے شیئرز ایک آسٹریلوی کمپنی ٹھیتیان کوپر کمپنی (ٹی سی سی) کو فروخت کیے۔

نئی کمپنی نے علاقے میں ایکسپلوریشن کا کام جاری رکھا جس کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ریکوڈک کے ذخائر معاشی حوالے سے سود مند ہیں۔ بعد میں کینیڈا اور چِلی کی دو کمپنیوں کے کنسورشیم نے ٹی سی سی کے تمام شیئرز کو خرید لیا۔

ریکوڈک کے حوالے سے بلوچستان کے بعض سیاسی حلقوں میں تحفظات پائے جاتے تھے۔ ان حلقوں کی جانب سے اس رائے کا اظہار کیا جاتا رہا کہ ریکوڈک کے معاہدے میں بلوچستان کے لوگوں کے مفاد کا خیال نہیں رکھا گیا۔

اس معاہدے کو پہلے بلوچستان ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا مگر ہائی کورٹ نے اس حوالے سے مقدمے کو مسترد کر دیا اور بعد میں ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا۔

پاکستان کی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں ایک بینچ نے قواعد کی خلاف ورزی پر ٹی سی سی کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو کالعدم قرار دے دیا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹی سی سی نے مائننگ کے لائسنس کے حصول کے لیے دوبارہ حکومت بلوچستان سے رجوع کیا۔

اس وقت کی بلوچستان حکومت نے لائسنس کی فراہمی کے لیے یہ شرط رکھی تھی کہ کمپنی یہاں سے حاصل ہونے والی معدنیات کو ریفائن کرنے کے لیے بیرون ملک نہیں لے جائے گی۔

حکومت کی جانب سے چاغی میں ریفائنری کی شرط رکھنے کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے حصے کو بھی بڑھانے کی شرط بھی رکھی گئی۔

سیندک پراجیکٹ سے کوئی خاطر خواہ فائدہ نہ ملنے کے باعث حکومت بلوچستان کی جانب سے یہ شرائط بلوچستان کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے کے لیے رکھی گئی تھیں۔

کمپنی کی جانب سے ان شرائط کو ماننے کے حوالے سے پیش رفت نہ ہونے اور محکمہ بلوچستان مائننگ رولز 2002 کے شرائط پوری نہ ہونے کے باعث معدنیات کی لائسنس دینے والی اتھارٹی نے نومبر 2011 میں ٹی سی سی کو مائننگ کا لائسنس دینے سے انکار کر دیا تھا۔

اس فیصلے کے خلاف ٹی سی سی نے سیکریٹری مائنز اینڈ منرلز حکومت بلوچستان کے پاس اپیل دائر کی تھی جسے سیکریٹری نے مسترد کیا تھا۔