Site icon Dunya Pakistan

ریکوڈک کیس: 'پاکستان بدعنوانی کے الزامات کے ذریعے دفاع نہیں کرسکتا'

لندن: ایک برطانوی جج نے کہا ہے کہ ریکوڈک کیس میں ثالثی ٹریبونل کے دائرہ اختیار کو چیلنج کرنے کے لیے پاکستان کو دفاع کے طور پر بدعنوانی کے الزامات لگانے کا حق نہیں ہے۔

 رپورٹ کے مطابق بلوچستان بمقابلہ ٹیتھیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی) کیس میں ہائی کورٹ کے جج نے بلوچستان کی اس مؤقف کو رد کردیا جس میں اس نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا تھا اور کہا کہ یہ ظاہر کرنا کافی نہیں کہ ٹریبونل کے سامنے بدعنوانی کے الزامات پیش کیے گئے۔

فیصلے کے مطابق برطانیہ کا ثالثی قانون فریقین کو عدالت کے سامنے وہ معاملات پیش کرنے سے روکتا ہے جو ثالثی کے دوران نہ اٹھائے گئے ہوں۔

حکومت بلوچستان نے دلیل دی تھی کہ بین الاقوامی چیمبر آف کامرس (آئی سی سی) ٹریبول ریکوڈک کیس کا دائرہ کار نہیں رکھتا کیوں کہ معاہدہ بدعنوانی کی وجہ سے کالعدم کیا گیا تھا۔

کئی برسوں سے صوبائی حکومت کا مؤقف یہ تھا کہ کان کنی کی کمپنی نے صوبے میں کان کانی کے لائسنس کے حصول میں ناجائز فوائد حاصل کرنے کے لیے سرکاری عہدیداران کو رشوت دی تھی۔

برطانوی جج نے کہا کہ حالانکہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے جوائنٹ وینچر (مشترکہ منصوبے) کو کالعدم قرار دے دیا لیکن اس کا فیصلہ پاکستان کے ان الزامات پر بنیاد نہیں کرتا تھا کہ معاہدہ رشوت کے ذریعے حاصل کیا گیا۔

جج نے کہا کہ جب عدالت عظمیٰ نے معاہدے کو غلط قرار پایا تو ان الزامات کا کوئی حوالہ نہیں دیا۔

فیصلے میں جج کا کہنا تھا کہ ‘بدعنوانی کے بارے میں وضاحتیں یا حوالہ جات ناکافی ہے، جہاں تک بدعنوانی سے متعلق سوال کا تعلق ہے تو وہ یہ ہے کہ کیا سپریم کورٹ آف پاکستان نے یہ دیکھا تھا کہ (معاہدہ) اور متعلقہ سمجھوتے بدعوانی کی موجودگی کی وجہ سے کالعدم ہوئے'۔

جج نے مزید لکھا کہ 'میری رائے میں ایسا نہیں تھا، اگر صوبے کے پاس بدعنوانی سے متعلق شواہد تھے جنہیں آئی سی سی ٹریبونل کے سامنے پیش نہیں کیا گیا تو صوبے کو یہ معاملات ثالثی ٹریبونل کے ساتھ حل کرنے چاہیے، یہ صوبے کے لیے جائز نہیں کہ انہیں ثالثی ٹریبونل کا دائرہ کار چیلنج کرنے کے لیے عدالت کے سامنے پیش کرے'۔

سال 2019 میں سرمایہ کاری تنازعات کے تصفیے کے بین الاقوامی مرکز (آئی سی ایس آئی ڈی) نے بھی پاکستان کے اس الزام کو مسترد کردیا تھا کہ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کو 2009 میں ریکوڈک کانوں کے سلسلے میں ٹیتھیاں کمپنی کی جانب سے 10 لاکھ ڈالر رشوت کی پیشکش کی گئی تھی۔

موجودہ کیس کان کن کمپنی کی پاکستان کے خلاف دوسری ثالثی کا حصہ ہے، پہلی ثالثی آئی سی ایس آئی ڈی کے سامنے تھی جس میں کمپنی جولائی 2019 میں پاکستان کے خلاف 6 ارب ڈالر کا ایوارڈ حاصل کرنے میں کامیاب رہی تھی۔

ریکوڈک تنازع

خیال رہے کہ آئی سی ایس آئی ڈی ٹریبونل میں پاکستان اور ٹیتھیان کاپر کمپنی کے درمیان یہ تنازع اس وقت زیر بحث آیا جب کمپنی نے 8 ارب 50 کرور ڈالر کا دعویٰ کیا جبکہ بلوچستان کی کان کنی اتھارٹی نے صوبے میں 2011 میں کئی ملین ڈالر کی کان کنی کی لیز دینے سے انکار کردیا تھا۔

جولائی 2019 میں آئی سی ایس آئی ڈی ٹریبونل نے آسٹریلین کمپنی کو کان کنی کی لیز دینے سے انکار پر پاکستان کو 5 ارب 97 کروڑ ڈالر ہرجانے کی ادائیگی کا حکم دیا تھا۔

جس کے فوری بعد کمپنی نے اس فیصلے کے نفاذ کے لیے کارروائی شروع کردی تھی، نومبر 2019 میں پاکستان نے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے ہرجانے کی منسوخی کی درخواست کی تھی۔

رواں برس مارچ میں اٹارنی جنرل کے دفتر نے اعلان کیا تھا کہ پاکستانی حکومت ایسے مواقع تلاش کر رہی ہے جس کے تحت 5 ارب 90 کروڑ ڈالر کے جرمانے پر عملدرآمد پر حکم امتناع حاصل کیا جاسکے اور 8 نومبر 2019 کو انہوں نے 'آئی سی ایس آئی ڈی' کے 12 جولائی 2019 کے فیصلے کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔

اس ہرجانے کی منسوخی کی درخواست کے ساتھ پاکستان نے 18 نومبر 2019 کو ہرجانے کے نفاذ کو عارضی طور پر معطل کرنے کی بھی درخواست دی تھی۔

چنانچہ پاکستان کو منسوخی کی کارروائی شروع ہونے پر عارضی حکم امتناع دے دیا گیا تھا۔

16 ستمبر 2020 کو ٹریبونل نے پاکستان کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے ہرجانے کے نفاذ پر حکم امتناع کی تصدیق کی تھی۔

تاہم 20 نومبر کو کمپنی نے بی وی آئی ہائی کورٹ میں ایوارڈ کے نفاذ کے لیے ایک علیحدہ کیس دائر کیا تھا جس میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے اثاثے منسلک کرنے کی درخواست کی گئی تھی تاہم حتمی فیصلہ پاکستان کے حق میں آیا تھا۔

آئی سی ایس آئی ڈی ٹیتھیان کاپر کمپنی کی ریکوڈک کان کنی کی لیز منسوخ کرنے پر ہرجانے کے خلاف پاکستان کی اپیل پر اب بھی غور کررہی ہے۔

ریکوڈک معاملہ تھا کیا؟

واضح رہے کہ ریکوڈک، جس کا مطلب بلوچی زبان میں 'ریت کا ٹیلہ' ہے، بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ایک چھوٹا گاؤں ہے جو ایران اور افغانستان سرحد کے قریب واقع ہے۔

ریکوڈک دنیا میں سونے اور تانبے کے پانچویں بڑے ذخائر کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔

جولائی 1993میں اُس وقت کے وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ذوالفقار علی مگسی نے ریکوڈک منصوبے کا ٹھیکہ آسٹریلوی کمپنی پی ایچ پی کو دیا تھا۔

بلوچستان کے 33 لاکھ 47 ہزار ایکڑ پر واقع اس منصوبے کا معاہدہ صرف ڈرلنگ کے لیے ہوا تھا لیکن آسٹریلوی کمپنی نے حکومت بلوچستان کو اعتماد میں لیے بغیر مزید کام کرنے کے لیے اطالوی کمپنی ٹیتھیان سے معاہدہ کرلیا تھا۔

آسٹریلوی کمپنی نے کوشش کی تھی کہ گوادر پورٹ کے ذریعے ریکوڈک کا سونا اور تانبہ کینیڈا، اٹلی اور برازیل کو فروخت کرے جس سے بلوچستان کو مجموعی آمدنی کا صرف 25 فیصد حصہ ملنا تھا۔

تاہم بلوچستان حکومت نے پی ایچ پی کی جانب سے بے قاعدگی کے بعد معاہدہ منسوخ کردیا تھا، بعد ازاں صوبائی حکومت نے 2010 میں یہ بھی فیصلہ کیا تھا کہ صوبائی حکومت اس منصوبے پرخود کام کرے گی۔

علاوہ ازیں جنوری 2013 میں اُس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بلوچستان حکومت اور آسٹریلوی مائننگ کمپنی کے درمیان ریکوڈک معاہدے کو ملکی قوانین کے منافی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا تھا۔

کمپنی کا نقطہ نظر

ٹیتھیان کمپنی کی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق ریکوڈک کان کنی منصوبہ 3 ارب 30 کروڑ ڈالر کی لاگت سے ایک ورلڈ کلاس کاپر، گولڈ اوپن پٹ مائن تعمیر کرنا اور اسے چلانا تھا۔

کمپنی کا کہنا تھا کہ 1998 میں حکومت بلوچستان کے ساتھ ہونے والے سمجھوتے کے تحت اسے کان کنی کی لیز ملنی تھی جس کے لیے حکومت کی معمول کی شرائط تھیں۔

منصوبہ 2011 میں درخواست مسترد ہونے کے بعد رک گیا تھا اور پاکستانی حکام نے کہا تھا کہ کان کنی کی لیز حکومت نے اس لیے ختم کردی کیونکہ اسے غیر شفاف طریقے سے حاصل کیا گیا تھا۔

اس وقت تک کمپنی ریکوڈک میں 22 کروڑ ڈالر کی رقم لگا چکی تھی چنانچہ کمپنی نے عالمی بینک کے ثالثی ٹریبونل سے 2012 میں مدد کی درخواست کی اور ٹریبونل نے 2017 میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف فیصلہ سنایا۔

ٹریبونل نے منسوخ شدہ لیز سے ہونے والے نقصان کا تخمینہ ٹیتھیان کے کان کنی سے 56 سال میں ممکنہ طور پر حاصل ہونے والے منافع کو فرض کر کے لگایا اور لیز منسوخ کرنے پر پاکستان کو 5 ارب 97 کروڑ ڈالر کا ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔

Exit mobile version