ریکوڈک کیس: ’پی آئی اے کے اثاثے منجمد کرنے کے لیے دیے گئے احکامات منسوخ‘

پاکستان کے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کہا ہے کہ برٹش ورجن آئی لینڈ (بی وی آئی) کی ایک عدالت نے پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کے اثاثے منجمد کرنے کے لیے دیے گئے تمام تر احکامات منسوخ کر دیے ہیں جو کہ پی آئی اے اور پاکستان کے ایک بڑی کامیابی ہے۔

اٹارنی جنرل کا دعویٰ ہے کہ یہ حکم آسٹریلوی ٹیتھان کاپر کمپنی (ٹی سی سی) کی ریکوڈک فیصلے پر عملدرآمد کی درخواست پر دیا گیا ہے۔

پی آئی اے کے منجمد اثاثوں میں نیویارک کے روزویلٹ ہوٹل اور پیرس کے سکرائب ہوٹل شامل ہیں۔

یاد رہے کہ ایک غیر ملکی عدالت میں ریکوڈک مقدمہ ہارنے کے بعد اس وقت پاکستان کو چھ بلین ڈالر تک کے جرمانے کا سامنا ہے۔ پی آئی اے کے اثاثے اسی سلسلے میں منجمد کیے گئے تھے۔

واضح رہے کہ سات جنوری کو جب پی آئی اے کے بیرون ملک اثاثے منجمد کرنے کا فیصلہ سُنایا گیا تو اس وقت پاکستان اور پی آئی اے کی نمائندگی کرنے کے لیے بی وی آئی کی عدالت میں کوئی نمائندہ موجود نہیں تھا۔

’پی آئی اے حکومتِ پاکستان کی ملکیت نہیں‘

اثاثے ضبط ہونے کے موقعے پر اس مقدمے کی پیروی کرنے والے پاکستانی حکام اور کمپنی کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ پی آئی اے میں حکومت پاکستان کی سرمایہ کاری ضرور ہے مگر یہ ایئرلائن حکومتِ پاکستان کی ملکیت نہیں ہے۔

ان کے مطابق جو اثاثے ضبط کیے گئے وہ ’پی آئی اے انویسٹمنٹ‘ نامی کپمنی کی ملکیت میں ہیں جس کا انتظام پی آئی اے کے پاس نہیں ہے۔اس وقت حکام کا کہنا تھا کہ پی آئی اے نے اس وجہ سے اس مقدمے میں اپنا وکیل مقرر کیا ہے تاکہ وہ عدالت کو یہ سمجھا سکے کہ ’حکومت پاکستان کے خلاف مقدمے میں اس کمپنی کو سزا نہ دی جائے۔‘

خیال رہے کہ اس وقت پی آئی اے واحد پاکستانی کمپنی ہے جو بی وئی آئی میں رجسٹرڈ ہے، جس وجہ سے عدالت نے اس کمپنی کے اثاثے منجمد کرنے کا فیصلہ سنایا ہے۔

پی آئی اے کے ضبط کیے گئے اثاثوں کی مالیت کتنی؟

سنہ 2019 کی رپورٹ کے مطابق اس وقت پی آئی اے کے ان بین الاقوامی اثاثوں کی قیمت ایک ارب ڈالر سے کم بنتی ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ اگر یہ اثاثے ضبط کر کے غیر ملکی کمپنی ٹی سی سی کو دیے جاتے تو بھی کمپنی تقریباً چھ بلین ڈالر کا ہدف حاصل نہیں کر سکتی تھی۔

روزویلٹ ہوٹل
،تصویر کا کیپشننیو یارک کا روزویلٹ ہوٹل

جب پاکستان کے خلاف ریکوڈک کا فیصلہ آ گیا اور اس سلسلے میں عالمی اداروں کی فیصلہ پر عملدرآمد کی کوششیں شروع ہو گئیں تو پاکستانی حکام کے مطابق دفتر خارجہ نے کسی ممکنہ قانونی کارروائی کے نقصان سے بچنے کے لیے پی آئی اے سمیت پاکستانی اداروں کو بیرون ملک اپنے اثاثے کم سے کم رکھنے کی بھی ہدایات دی تھی۔

بلوچستان
،تصویر کا کیپشنٹی سی سی نے حکومتِ پاکستان سے صوبہ بلوچستان میں سونے اور تانبے کے کروڑوں ڈالر مالیت کے ریکوڈک پراجیکٹ کے مقدمے کے حوالے سے بی وی آئی کی ہائی کورٹ آف جسٹس سے تقریباً چھ ارب ڈالر حاصل کرنے کے لیے رجوع کیا تھا

یاد رہے کہ پاکستان کی عالمی ثالثی ٹریبونل کے 2019 والے فیصلے کے خلاف درخواست ابھی بھی زیر سماعت ہے جس میں بین الاقوامی ثالثی ٹریبیونل (ICSID) نے پاکستان کو ریکوڈک پراجیکٹ میں ٹی سی سی کو لیز دینے سے انکار کرنے پر قصور وار ٹھہرایا تھا۔

صوبہ بلوچستان میں واقع ان کانوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ دنیا میں وہ کاپر اور سونے کی سب سے بڑی کانوں میں سے ایک ہیں جن پر آج تک صحیح طرح کام شروع نہیں ہو سکا۔

بلوچستان

گذشتہ برس بین الاقوامی ثالثی ٹریبیونل نے پاکستان پر صوبہ بلوچستان میں سونے اور تانبے کے کروڑوں ڈالر مالیت کے ریکوڈک پراجیکٹ کے مقدمے میں تقریباً چھ ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا تھا۔

جولائی میں دیے گئے اس فیصلے کے بعد پاکستان کی درخواست پر ایک ایڈہاک کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے کچھ شرائط کے ساتھ پاکستان کے حق میں چند ماہ کا حکم امتناعی جاری کر دیا تھا، جسے اس وقت پاکستانی حکام نے بڑا ریلیف قرار دیا تھا۔

لیکن پھر نومبر میں پاکستان کے خلاف ایک اور فیصلہ سامنے آیا جس کے مطابق پاکستان بین الاقوامی ثالثی ٹریبیونل کی طرف سے ریکوڈک مقدمے میں حکم امتناعی کی شرائط پوری کرنے میں ناکام ہو گیا اور اس مقدمے میں شکایت کنندہ غیر ملکی کمپنی ٹی سی سی نے ایک بار پھر پاکستان سے اربوں ڈالر جرمانہ وصول کرنے کے لیے درخواست دائر کر دی تھی۔

جب حکم امتناع ملا تھا تو پاکستان کا مؤقف کیا تھا؟

نومبر میں اٹارنی جنرل آف پاکستان نے کہا تھا کہ اس فیصلے کے بعد اب پاکستان ایک نئی قانونی حکمت عملی کے تحت آگے بڑھے گا۔

چاغی

انھوں نے کہا تھا کہ 'یہ ایک بہت اہم ریلیف ہے کیونکہ اس وقت پاکستان مالی طور پر چھ ارب ڈالر کا جرمانے ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس فیصلے کے بعد اب پاکستان کو مئی 2021 تک کا وقت مل چکا ہے۔'

ان کے مطابق 'اب ہمارے پاس بہت سارے آپشن ہیں۔ ہم کوشش کریں گے اس عرصے میں ہم اس معاملے کا کوئی بہتر حل نکال سکیں۔'

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ 'ہماری پہلی کوشش ہو گی کہ اس مقدمے میں پاکستان کے خلاف جو فیصلہ آیا ہے اسے ختم کرایا جا سکے، جس کے اب آثار پیدا ہو گئے ہیں۔'

تاہم اُس وقت ایڈووکیٹ فیصل صدیقی کا کہنا تھا کہ 'اگر قانونی پوزیشن دیکھی جائے تو پاکستان یہ مقدمہ ہار چکا ہے اور اب 'ایوارڈ ریونیو' کرانا ہے، جس کے نظرثانی کے مرحلے میں امکانات بہت کم ہیں۔'

بعد میں ٹی سی سی نے پاکستان پر عائد جرمانے کے نفاذ کے لیے پانچ مختلف ممالک کی عدالتوں سے رجوع کیا۔

'پاکستان کے اثاثے ضبط ہونے کا خدشہ ہے'

پاکستان
،تصویر کا کیپشنپیرس میں ہوٹل سکرائب

نومبر میں آنے والے فیصلے کے بعد ہی اس بات کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا کہ غیر ملکی کمپنی ٹی سی سی کو یہ اختیار مل گیا ہے کہ وہ جرمانے کی رقم پاکستان کے بیرون ملک اثاثے ضبط کر کے بھی پورا کر سکتی ہے۔

صحافی خرم حسین نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اگر کسی ملک میں پاکستان کے کوئی اثاثے موجود ہیں، سمندر میں بحری جہاز کھڑا ہے، یا کسی ایئر پورٹ پر جہاز پرواز بھرنے کی تیاری میں ہے تو اس وقت ٹی سی سی قانونی طریقے سے یہ سب اثاثے قبضے میں لے سکتی ہے اور پھر ان اثاثہ جات کی فروخت سے اپنا نقصان پورا کر سکتی ہے۔

ٹی سی سی سے پاکستان کی قانونی جنگ کب شروع ہوئی؟

پاکستان میں ریکوڈک منصوبے کے حوالے سے بلوچستان کے بعض سیاسی حلقوں میں تحفظات پائے جاتے تھے۔ ان حلقوں کی جانب سے اس رائے کا اظہار کیا جاتا رہا کہ ریکوڈک کے معاہدے میں بلوچستان کے لوگوں کے مفاد کا خیال نہیں رکھا گیا۔

اس معاہدے کو پہلے بلوچستان ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا مگر ہائی کورٹ نے اس حوالے سے مقدمے کو مسترد کر دیا اور بعد میں ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا۔

جسٹس افتخار چودھری
،تصویر کا کیپشنجسٹس افتخار چودھری

سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے ایک بینچ نے ایک فیصلہ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں سنایا تھا، جس کے بعد ٹی سی سی نے سنہ 2012 میں پاکستان کے خلاف بین الاقوامی ثالثی ٹریبیونل میں مقدمہ دائر کر دیا۔

اس بینچ نے قواعد کی خلاف ورزی پر ٹی سی سی کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو کالعدم قرار دیا تھا۔

پاکستان کے موجودہ چیف جسٹس گلزار احمد بھی اس بینچ کا حصہ تھے جس نے ریکوڈک مقدمے کا فیصلہ سنایا تھا۔ اس بینچ کے تیسرے رکن جسٹس عظمت سعید شیخ اب ریٹائرڈ ہو چکے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ اگر یہ معاہدے منسوخ کیے گئے تو ملک کے لیے عالمی سطح پر بدنامی ہو گی اور آئندہ کوئی کمپنی ملک میں سرمایہ کاری کرنے سے ڈرے گی۔

بعد میں اس وقت کی بلوچستان حکومت نے لائسنس کی فراہمی کے لیے یہ شرط رکھی تھی کہ کمپنی یہاں سے حاصل ہونے والی معدنیات کو ریفائن کرنے کے لیے بیرون ملک نہیں لے جائے گی۔ حکومت کی جانب سے چاغی میں ریفائنری کی شرط رکھنے کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے حصے کو بھی بڑھانے کی شرط بھی رکھی گئی۔

سیندک پراجیکٹ سے کوئی خاطر خواہ فائدہ نہ ملنے کے باعث حکومت بلوچستان کی جانب سے یہ شرائط بلوچستان کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے کے لیے رکھی گئی تھیں۔

کمپنی کی جانب سے ان شرائط کو ماننے کے حوالے سے پیش رفت نہ ہونے اور محکمہ بلوچستان مائننگ رولز 2002 کے شرائط پوری نہ ہونے کے باعث معدنیات کی لائسنس دینے والی اتھارٹی نے نومبر2011 میں ٹی سی سی کو مائننگ کا لائسنس دینے سے انکار کر دیا تھا۔

اس فیصلے کے خلاف ٹی سی سی نے سیکریٹری مائنز اینڈ منرلزحکومت بلوچستان کے پاس اپیل دائر کی تھی جسے سیکریٹری نے مسترد کیا تھا۔

error: