زمانہ عدالت نہیں ہے

یہ عنوان بیسویں صدی میں اردو کے ایک بڑے شاعر مبارک احمد کی 1961ء میں لکھی نظم سے ماخوذ ہے۔ مبارک احمد کا کچھ ذکر رہے گا مگر اس سے پہلے صاف کہنا ہے کہ پچھلے کچھ دن بے کراں ذہنی انتشار، پژمردگی اور اعصابی دباؤ میں گزرے۔ ملکی سیاست بدستور دگرگوں ہے اور میری نسل کے عرصہ حیات میں کسی بامعنی بہتری کے کوئی آثار نہیں۔ خیر یہ تین نسلوں کی رائیگانی کی حکایت ہے اور چوتھی نسل کے ناگزیر بانجھ پن کا عذاب ہے اور اب ہمیں اس پر صبر آ چکا۔ خطے میں بگاڑ کے خدوخال واضح ہو رہے ہیں، ہاتھیوں کی اس لڑائی میں ہماری گھاس روندی جائے گی۔ جنہیں اندھیرے میں گھات لگائے ہیولوں پر آنکھ رکھنا تھی، انہیں طالع آزمائی کے غمزوں سے فرصت نہیں۔ عالمی نقشے پر ہماری یہ بے توقیری بھی اب نئی نہیں رہی۔ باہر کی دنیا میں جو جگ ہنسائی ہوتی ہے، ابنائے وطن پر کسی نئی نشتر زنی سے اس کا مداوا کر لیتے ہیں۔ حالیہ اضطراب کی اصل وجہ عورتوں کے خلاف ناقابل بیان جرائم کا غیرمعمولی سلسلہ ہے۔ ایک آدھ واقعہ ہو تو اسے معمول کے جرائم میں شمار کیا جائے۔ یہاں تو لین ڈوری بندھی ہے۔ اسلام آباد کی نوجوان خاتون کا قتل اپنے سیاق و سباق میں قابل فہم ہے اگرچہ غیر مشروط مذمت کرنی چاہیے۔ یہاں تو لب سڑک اپنے بچے کو لئے بیٹھی بھکاری خاتون محفوظ ہے اور نہ گھر کے دروازے پر کھیلتی چھ سالہ بچی۔ معلوم ہوتا ہے گویا کجروی کے بند میں کہیں شگاف آ گیا ہے جس کا کٹاؤ ہر لمحہ پھیلتا جا رہا ہے۔

معاشرت اور جرم و سزا کے اساتذہ واقعات کی انفرادی چھان بین کے علاوہ اس نکتے پر بھی توجہ دیا کرتے ہیں کہ خارجی سطح پر کونسے ممکنہ عوامل نے ایسی صورت حال کو جنم دیا ہے۔ جنگ اور قدرتی آفات کے دوران موت کا ہاتھ بھر فاصلے پر موجود امکان جنگل کی دبی ہوئی نفسیات کو آشکار کر دیتا ہے۔ کہیں حکومت کی عمل داری کمزور پڑ جائے تو جرائم پیشہ عناصر سرتابی پر اتر آتے ہیں۔ یہاں تو ایسا کچھ نہیں۔ حکومت قائم ہے، ریاست استوار ہے۔ کووڈ 19 کی وبا ضرور ہے لیکن دیگر ممالک کی نسبت حالات بڑی حد تک قابو میں رہے ہیں۔ پھر ایسا کیوں ہے کہ ماؤں کے دل سہم گئے ہیں، ہر باپ کی آنکھوں میں وہم اتر آیا ہے، دیکھئے، ہم نے پہلے روز سے اپنے ملک میں چار بنیادی نکات میں توازن قائم نہیں کیا، ریاست، شہری، دستور اور اصول انصاف۔ ہماری سیاسی فہم کمزور تھی اور سماجی شعور پیش پا افتادہ تھا۔ اس پر ہم نے آمریت کا وبال پال لیا۔ ایک تو اونٹنی تھی دیوانی، اس پر گھنگرو باندھ لئے۔ ہم نے گھر کے در و بست پر توجہ نہیں دی، چنانچہ ہماری چھت کی کڑیاں ایک ایک کر کے ٹوٹ رہی ہیں اور ہماری دیواروں میں رخنے نمودار ہو گئے ہیں۔ آپ نے اسلام آباد کی متمول بستی ای الیون کے برساتی پانی میں کاغذی ناؤ کی طرح بہتی گاڑیاں دیکھیں؟ پانی، ہوا، آگ اور ہجوم کی حرکیات کا حساب کتاب انگلیوں پر نہیں کیا جاتا، اس کے خاص کلیے قاعدے ہیں۔ کلیے سے ہمیں نفور ہے اور قاعدے کی پابندی ہمارے مزاج پر گراں گزرتی ہے۔ ہم اٹھارہویں صدی کی اقدار کے ساتھ اکیسویں صدی کی معاشی ترقی چاہتے ہیں۔ نوجوان ادیب بلال تنویر کے ناول کا عنوان ہے The scatter here is too great۔ ادب کی زبان کا ترجمہ نہیں ہوا کرتا۔ اسی مضمون کا ایک اور نمونہ پیش کر دیا جاتا ہے۔ بلال تنویر کی واردات کو مرحوم اعزاز احمد آذر نے یوں بیان کیا، اجاڑ موسم میں ریت دھرتی پہ فصل بوئی تھی چاندنی کی / اب اس میں اگنے لگے اندھیرے تو کیسا جی میں ملال رکھنا۔

1950 کی دہائی میں برطانوی شہریوں کی نجی زندگی کے بارے میں پے در پے ایسے انکشافات ہوئے کہ صدیوں پرانے قوانین پر نظر ثانی کا سوال اٹھ گیا۔ ماہرِ قانون جان وولفنڈن(Wolfendon) کی سربراہی میں ایک کمیشن قائم کیا گیا۔ وولفنڈن کمیشن نے 1957ء میں اپنی رپورٹ پیش کی جس کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ ’قانون کا اصل مقصد امن و امان قائم رکھنا نیز عام شہری کو دوسرے افراد کے ہاتھوں نقصان، استحصال یا بدعنوانی سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔ قانون کا کام شہریوں کی نجی زندگی میں مداخلت کرنا یا معاشرتی طرزِ عمل کا کوئی خاص نمونہ نافذ کرنا نہیں ہے۔‘ وولفنڈن رپورٹ کی روشنی میں شہری آزادیوں کے بارے میں جدید قوانین تشکیل دیے گئے۔

اب اپنے ہاں کا قصہ سنیے۔ تشدد کی غیر متعین مذمت بے معنی ہے۔ تشدد کی حقیقی روک تھام کے لئے شہری اور ریاست میں براہ راست تعلق درکار ہے۔ اس میں دو رکاوٹیں ہیں، ایک تو یہ کہ ریاست خود تشدد کے سہارے کھڑی ہے۔ درس گاہ، پولیس، صحافت، عدالت اور پارلیمنٹ تک تشدد کی درپردہ تائید موجود ہے۔ دوسرے یہ کہ تشدد کے کماحقہ خاتمے کے لئے خاندان بالخصوص شادی کے ادارے کو ازسرنو مرتب کرنا پڑے گا۔ اس پر ہماری ثقافت والی رگ جاگ جاتی ہے اور ہماری ثقافت کی تعریف پیوستہ مفادات سے جڑی ہے۔ دستور میں دی گئی بنیادی حقوق اور آزادیوں کی ضمانتوں پر شفاف مکالمے سے بہت کچھ واضح ہو سکتا ہے لیکن صاحبو، ہماری تو دستور کی بالادستی کا لفظ سنتے ہی ہنسی نکل جاتی ہے۔ یہ جدید ریاست اور قدیم معاشرت میں تضاد کے شاخسانے ہیں۔ بدقسمتی سے ریاست قدیم مفاد کی پروردہ ہے اور معاشرے میں ریاست کی شعوری مزاحمت کی سکت نہیں۔ تعلیم یافتہ نور مقدم ہو یا وہاڑی کی ناخواندہ نسیم بی بی، تھر کا ہندو آب فروش ہو یا تربت میں کھجوریں اتارتا حیات بلوچ، ہمیں مبارک احمد کی تعلیم، شعور اور تہذیب میں رچی ہوئی آواز واپس چاہئے:

بوسیدہ صدیوں کے مردہ سوالوں کی تکرار چھوڑو

کہ تکرار میں موت ہے

زندگی دو قدم آگے بڑھنے کو کہتے ہیں،

نیکی بدی اور سزا و جزا ایک مربوط و نامنقسم تجربہ ہے…

زمانہ حقیقی عدالت نہیں ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: