زمانے جو ہمیں یاد ہیں

ایوب خان سے پہلے کے ادوار کے بارے میں ہم نے کتابوں میں پڑھا ہے۔ اُن کے 1958ء کے مارشل لاء کے حوالے سے ایک دو باتیں ہی یاد ہیں کہ قصاب حضرات کو اپنی دکانوں پہ جالیاں لگانا پڑیں اور یہ کہ بلیک کا کاروبار کرنے والوں پہ بھاری جرمانے عائد ہوئے۔ اُس زمانے میں سونے کے بہت مشہور سمگلر قاسم بھٹی تھے۔ اُن کی گرفتاری کا بہت چرچا ہوا۔
لارنس کالج کے جونیئر سکول کی ہیڈ مسٹریس مس گلیگ (Glegg) تھیں، ایسی شخصیت کی مالک کہ اُن کا کوئی طالب علم انہیں کبھی بھلا نہ سکا۔ ایک دن قریب کے پہاڑوں پہ ہمیں سیر کیلئے لے جایا جا رہا تھا‘ جب ہم میں سے کسی نے مس گلیگ سے پوچھا کہ مارشل لاء کا مطلب کیا ہے۔ آواز میں سختی لاتے ہوئے وہ بولیں: مارشل لاء کا مطلب ہے کہ اگر تم لڑکے سکول میں صحیح پڑھائی نہیں کرو گے تو تمہیں فوج کے حوالے کر دیا جائے گا اور تم اپنے والدین کو کبھی نہ دیکھ سکو گے۔ ہم سب ڈر گئے کیونکہ ہمیں یقین ہو گیا کہ مارشل لاء کا یہی مطلب ہے۔ کاش مارشل لاء کا یہی مطلب ہوتا۔
ایوب خان کا لمبا دورِ اقتدار تھا۔ دسویں جماعت میں پہنچے تو 1964ء کا صدارتی انتخاب ہورہا تھا۔ مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح نے جہاں اور جگہوں کا دورہ کیا‘ وہاں اُن کا جلسہ چکوال میں بھی منعقد ہوناتھا۔ جلسے کی تاریخ ہمارے لارنس کالج کے سالانہ امتحانات سے تقریباً دس دن پہلے کی تھی۔ والد صاحب چکوال میں سرکردہ اپوزیشن لیڈر تھے۔ انہوں نے پرنسپل مسٹر ایم ایل چارلزورتھ (ML Charlesworth) کو تار بھیجا کہ میں چاہتا ہوں‘ میرا بیٹا جلسے میں شریک ہو۔ پرنسپل نے مجھے بلایا اور چھٹی دے دی۔ اس واقعہ کو بیان کرنے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ والد صاحب کبھی فیملی میں وفات بھی ہوتی تو چھٹی نہ کراتے‘ لیکن مادرِ ملت کے جلسے کیلئے انہوں نے ایسا کیا۔ پرنسپل صاحب کے روّیے کا بھی ملاحظہ ہوکہ انہوں نے اجازت دینے میں کوئی عار محسو س نہ کی ۔
اگلے سال یعنی 1965ء میں بھارت کے ساتھ جنگ چھڑ گئی۔ جنگ کے محرکات کی اُس وقت اتنی سمجھ نہ تھی۔ بس یہی یقین تھاکہ بھارت نے بلاوجہ ہم پہ حملہ کیا ہے۔ جنگ کے شروع ہونے پہ ایوب خان نے جو تقریر کی‘ اُس سے ہم سب لوگ بہت انسپائر ہوئے۔ ہمارے ناپختہ ذہنوں میں یہی تاثرتھا کہ ہمارے فوجی صدر بھارتی جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کررہے ہیں۔ میں تب بھی باقاعدہ اخبار پڑھتاتھا اور پاکستان ٹائمز کی رپورٹیج سے یہی پتا چلتاکہ ہم بھارت کو بُری طرح شکست دے رہے ہیں‘ لہٰذا جب سترہ دن بعد جنگ بندی کا اعلان ہوا تو کم ازکم مجھے سمجھ نہ آئی کہ اگر ہم اتنی فتوحات حاصل کررہے تھے تو اتنی جلدی جنگ بندی کی طرف کیوں جانا پڑا۔
اگلے سال یعنی 1966ء میں معاہدہ تاشقند کے خلاف مختلف شہروں میں ہنگامے شروع ہوئے۔ اِس دوران ذوالفقار علی بھٹو ایوب خان کی کابینہ چھوڑ چکے تھے۔ جب ایوب خان کے خلاف دو سال بعد یعنی 1968ء میں تحریک شروع ہوئی تو میں تب پی ایم اے کاکول ٹریننگ کیلئے جاچکا تھا۔ تحریک کے دوران جو ہنگامے اُٹھے وہ ایوب خان کنٹرول نہ کرسکے۔ عہدے سے سبکدوش ہوگئے اور اقتدار فوج کے کمانڈر انچیف جنرل یحییٰ خان کو منتقل کردیا۔
1969ء کے وسط میں ایک ہائی لیول فوجی مشق ہوئی جس کا انتظام کاکول اکیڈمی میں کیا گیاتھا۔ ایک شام زیر تربیت کیڈٹوں کے میس میں فوجی کمانڈ کے اعزاز میں ڈنر کا اہتمام ہوا۔ جنرل یحییٰ خان کے چہرے کی رنگت ویسے ہی سرخ و سپید تھی۔ ڈنر کے لئے پہنچے تو اُن کا چہرہ دیدنی تھا۔ یوں لگتا تھا‘ گالوں کے بیچ کوئی موم بتی جل رہی ہے۔ ظاہر ہے ڈنر سے پہلے کے لوازمات بھرپور انداز سے کیے گئے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ایسی چیزیں چلتی تھیں۔ جنرل یحییٰ خان لوازمات اور رنگین شاموں تک ہی محدود رہتے تو اِس میں اُن کا بھلا تھا اور ملک کا بھی‘ لیکن وہ سیاسی پیچ و خم میں پھنستے گئے جو اُن کے بس کا روگ نہ تھا۔ اُن کی رنگین شامیں ملک سہہ لیتا۔ اُن کی سیاسی ناپختگی نے ملک کا بیڑہ غرق کردیا۔
1971ء کی جنگ کے ختم ہونے کے چند روز بعد بہ اَمر مجبوری جنرل یحییٰ خان کو ذوالفقار علی بھٹو کے ہاتھ اقتدار منتقل کرنا پڑا۔ 20دسمبر 1971ء کو اقتدار سنبھالتے ہی بھٹو نے ریڈیو اور ٹیلی ویژن پہ فی البدیہہ تقریر کی جو میں نے والٹن ائیرپورٹ لاہور پہ سُنی‘ جہاں میں کچھ طیارہ شکن توپوں کے ساتھ متعین تھا۔ دوران خطاب جب بھٹو نے کہا کہ ''طویل سیاہ رات ختم ہو رہی ہے‘‘ تو میرے 21-20 سالہ وجود نے واقعی سمجھاکہ ایسا ہورہا ہے۔ اپنے آپ کو خوش نصیب بھی جاناکہ ایک سنہرا دور آنے کو ہے اور ہم نے جوانی کی دہلیز پہ ابھی قدم رکھا ہے۔ کچھ زیادہ وقت نہ لگاکہ وہ حسین تصورات چکنا چور ہوگئے۔ سیاہ رات نے ختم کیا ہونا تھا، 1977ء کی بھٹو مخالف تحریک شروع ہوئی تو ملکی تاریخ ایک اور سیاہ دور میں ڈھل گئی۔ 1977ء میں میری ماسکو سفارتحانے میں پوسٹنگ تھی۔ بی بی سی واحد ذریعہ تھا یہ جاننے کیلئے کہ ملک میں کیا ہورہا ہے۔ جذباتی اعتبار سے بُری طرح ملکی حالات سے متاثر ہوا۔ اِس حد تک کہ ماسکو میں بیٹھے 15 اپریل کو اپنا استعفا داغ دیا۔ استعفے کی خبر خفیہ رکھی لیکن اُسی شام بی بی سی پہ یہ خبر چل پڑی۔ ظاہر ہے کہ لیک ہوئی تو دفتر خارجہ اسلام آباد سے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھٹو صاحب کا حکومتی مشینری پہ کنٹرول اُس وقت کمزور پڑتاجا رہاتھا۔
واپس پاکستان لوٹے تو جنرل ضیاء الحق کا دور شرو ع ہوچکا تھا۔ جنرل صاحب نے وعدہ کیاتھا کہ 90 دن میں عام انتخابات کرائیں گے۔ میں چکوال اپنے ڈیرے پہ بیٹھا تھا اور ہم چند لوگ اِس نکتے پہ بحث کررہے تھے کہ الیکشن ہوں گے یا نہیں۔ اتنے میں چکوال کا پٹواری انوار شاہ سکنہ علاول شریف بھی وہاں آگیا۔ میں نے کہا: جنرل صاحب نے دنیا کے سامنے وعدہ کیا ہے، اُسے ضرور نبھائیں گے، نہیں تو اُن کی اخلاقی ساکھ خطرناک حد تک متاثر ہوگی۔ انوار شاہ ہماری عالمانہ گفتگو چپکے سے سنتے رہے‘ پھر انہوں نے کہاکہ جناب آپ لوگ دانشور حضرات ہیں‘ میں تو کم علم ہوں‘ لیکن اتنی میری عرض سُن لیں کہ چکوال میں کون پٹواری تعینات ہوگا یہ مسئلہ پہلے ڈپٹی کمشنر جہلم کے پاس گیا‘ سفارشیں دونوں طرف تگڑی تھیں لہٰذا فیصلہ نہ ہوسکا۔ پھر معاملہ کمشنر راولپنڈی کے پاس پہنچا، وہاں بھی فیصلہ نہ ہوسکا۔ پھر پٹواری چکوال کا فیصلہ چیف سیکرٹری پنجاب نے کیا۔ انوار شاہ نے کہا کہ یہ مسئلہ تو تھا پٹواری چکوال کا اور آپ حضرات کہہ رہے ہیں کہ جو ملک کا سربراہ ہے وہ ویسے ہی اپنی کرسی چھوڑ کے چلاجائے گا۔ حالات نے ثابت کیا کہ انوار شاہ کی رائے ہی مقدم ٹھہری۔
بحیثیت قوم بڑی غلطیاں ہم سے کون سی ہوئیں؟ 1965ء کی جنگ فاش غلطی تھی۔ اُس نے ملک کی سمت بدل دی اور ہم ترقی کی پٹڑی سے اُتر گئے ۔ بھارت سے کشیدگی تو شروع دن سے تھی لیکن اس جنگ کی وجہ سے کشیدگی اٹل دشمنی میں تبدیل ہوگئی۔ ذوالفقار علی بھٹو انتقامی مزاج رکھتے تھے۔ مخالفین کے خلاف اُن کے سخت روّیے نے وہ حالات پیدا کیے جن کے ردِ عمل کے طور پہ مولویانہ رجعت پسندی نے فروغ پایا۔ نام نہاد افغان جہاد میں ملوث ہوکر پاکستان نے بے حد نقصان اُٹھایا۔ پاکستان کی تشکیل نو کیسے ہو سکتی ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ اس بارے کچھ سمجھ نہیں آتا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *