زویا ناصر: پاکستانی اداکارہ کا جرمن وی لاگر کرسچن بیٹزمین سے منگنی ختم کرنے کا اعلان، پاکستان کے بارے میں اُن کے تاثرات وجہ قرار

پاکستانی اداکارہ زویا ناصر نے اعلان کیا ہے کہ وہ اب اپنے منگیتر کرسچن بیٹزمین کے ساتھ شادی نہیں کریں گی اور اس کی وجہ اُنھوں نے پاکستان، اُس کی ثقافت، لوگوں اور مذہب کے بارے میں کرسچن کے عدم احساس کو قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ کرسچن بیٹزمین نے اپنی انسٹاگرام سٹوری میں پاکستان کے لوگوں کی جانب سے فلسطینیوں کے حق میں مظاہروں پر پاکستان کے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ مظاہرے اپنے ملک میں اپنے ہی لوگوں کے لیے کیوں نہیں کیے جا رہے؟

اُنھوں نے کہا تھا کہ 'کیوں سڑکیں اب بھی کچرے سے بھری ہوئی ہیں۔ کیوں لوگ اب بھی کم سے کم پیسوں میں گزارا کر رہے ہیں؟'

اس کے بعد اُنھوں نے 'سوشل میڈیا کی طاقت' کے بارے میں کہا کہ 'اگر سوشل میڈیا اتنا طاقتور ہے تو کیوں آپ کی حکومت اور آپ کی پولیس میں مثبت تبدیلی نہیں آ رہی؟'

اُنھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے لکھا تھا کہ 'ہم نے پاکستان میں پینے کے صاف پانی کے لیے ایک لاکھ ڈالر چندہ اکٹھا کیا ہے۔ یہ خبروں میں کبھی نہیں آتا۔ لاکھوں لوگوں کا ہر سال آلودہ پانی کی وجہ سے ہلاک ہونا کبھی خبروں میں نہیں آتا۔'

زویا ناصر، کرسچن بیٹزمین

پھر کرسچن بیٹزمین نے پاکستانیوں کو کہا کہ جب وہ اپنے ملک میں کچرا پھیلا رہے ہوں اور اپنے لوگوں کی مدد نہ کر رہے ہوں تو اُنھیں دوسروں کے لیے افسردہ ہونا چھوڑ دینا چاہیے۔

اُن کے ان تبصروں کو پاکستانی سوشل میڈیا صارفین نے بالعموم مسترد کرتے ہوئے اُن کو سوشل میڈیا پر جواب دیے اور اس کے بعد سنیچر کی دوپہر کو زویا ناصر نے اعلان کیا کہ وہ اور کرسچن بیٹزمین اب شادی نہیں کریں گے۔

اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں اُنھوں نے لکھا کہ 'کچھ مذہبی اور سماجی حدود ہیں جنھیں کسی بھی صورت میں پار نہیں کیا جانا چاہیے، اس لیے علیحدگی کا فیصلہ لیا گیا ہے۔'

بی بی سی کی طرف سے کوشش کے باوجود زویا ناصر سے رابطہ قائم نہیں ہو سکا ہے۔

زویا ناصر کو ٹی وی ڈراموں ہانیہ، دیوانگی اور زیبائش میں اپنے کام کے لیے جانا جاتا ہے اور وہ کرسچن بیٹزمین کے ساتھ پاکستان کے سفر پر مبنی وی لاگز بھی کر چکی ہیں۔

سوشل میڈیا پر پاکستانی صارفین عمومی طور پر زویا ناصر کی حمایت کرتے ہوئے نظر آئے۔

ایک صارف اقصیٰ نے لکھا کہ زویا ناصر نے ایک فوری اور متاثر کن اقدام کیا۔ 'اگر آپ کی سوچ نہیں ملتی، اگر چیزیں مشتبہ محسوس ہوں، تو آپ کو کسی برے تعلق میں پھنس جانے سے پہلے چیزوں کو ختم کر دینا چاہیے۔'

زویا ناصر، کرسچن بیٹزمین

ایک اور صارف نے لکھا کہ زویا ناصر نے اس لیے اُن کے ساتھ منگنی ختم کر دی کیونکہ وہ اُن کے مذہب، ثقافت اور لوگوں کی جانب حساسیت سے عاری تھے۔ 'اُن کا فیصلہ بہادرانہ تھا۔ وہ واقعی اقدار اور اصولوں کی حامل خاتون ہیں۔'

اُنھوں نے زویا ناصر کے اچھے مستقبل کے لیے دعا کی۔

زویا ناصر، کرسچن بیٹزمین

احسن ٹویٹس نامی ایک اکاؤنٹ نے لکھا کہ ایسے بھی کچھ لوگ ہیں جو اپنے فالوورز کھونے کے ڈر سے فلسطین کے بارے میں بات نہیں کر رہے اور دوسری جانب زویا ناصر ہیں جنھوں نے اپنی منگنی اس لیے ختم کر دی کیونکہ کرس 'اسرائیل کے حامی' تھے۔

زویا ناصر، کرسچن بیٹزمین

ایک اور صارف جویریہ رشید نے کرسچن بیٹزمین کی انسٹاگرام سٹوری اور زویا ناصر کی انسٹاگرام پوسٹ کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ پہلے وہ کہہ رہے تھے کہ ’سوشل میڈیا کے پاس کوئی طاقت نہیں‘ اور پھر یہ (منگنی کے خاتمے کا اعلان) ہو گیا۔

زویا ناصر، کرسچن بیٹزمین

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *