سائبریا میں 24 ہزار سال منجمد رہنے کے بعد کثیر خلوی جاندار دوبارہ متحرک ہو گیا

ایک نئی سائنسی تحقیق کے مطابق سائبیریا میں 24 ہزار سال منجمد رہنے کے بعد بھی خرد بینی کثیر خلوی جاندار ڈیلائڈ روٹیفر زندگی کی طرف واپس لوٹ آیا۔

سائنسدانوں نے ڈیلائڈ روٹیفر نامی اس جاندار کو دریائے عالیزہ سے کھود کر نکالا ہے۔ ہزاروں برس بعد جب یہ جمی ہوئی حالت سے باہر آیا تو بغیر سیکس کے افزائش نسل کے قابل تھا۔

اس سے قبل ہونے والی تحقیق میں کہا گیا تھا کہ یہ 10 سال تک اس حالت میں زندہ رہ سکتے ہیں۔ پیر کو کرنٹ بائیولوجی نامی جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق یہ خلیے اگر لامتناہی مدت کے لیے نہیں بھی تو کئی ہزار سال تک زندہ رہ سکتے ہیں۔

روس کے ’انسٹیٹیوٹ آف سائیکوکیمیکل اینڈ بائیولوجیکل پرابلمز اِن سوائل سائنس‘ کے سٹاس ملاوین نے پریس ایسوسی ایشن کو بتایا کہ اس تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ کثیرخلوی جاندار کئی ہزار سال تک منجمد رہنے کے بعد بھی واپس زندگی میں پہلے کی طرح آ جاتے ہیں جو کہ افسانہ نگاروں کے لیے ایک خواب کی تکمیل کے برابر ہے۔

ان کے مطابق ابھی یہ دیکھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ یہ سب کس طرح ممکن ہو سکا ہے۔ سائنسدانوں نے اس عمل کے مشاہدے کے لیے درجنوں جانوروں کو ایک لیبارٹری میں منجمد کیا اور پھر پگھلایا۔

ریڈیو کاربن ڈیٹنگ کے مطابق اس ڈیلائڈ روٹیفر کی عمر 23،960 سے لے کر 24،485 سال کے درمیان ہو سکتی ہے۔

ڈیلائڈ روٹیفر دنیا بھر میں تازہ پانی میں پائے جاتے ہیں۔ ان کے نام کے ساتھ روٹیفر ایک لاطینی زبان سے لیا گیا ہے جس کا مطلب ہوتا ہے کہ ’پہیے والا‘۔

ان خلیوں کی خاص بات انتہائی شدید ناموافق حالات میں بھی زندہ رہنا ہوتا ہے۔ نیو یارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق یہ زمین پر ریڈیائی شعاعوں کا مقابلہ کرنے کی سب سے زیادہ صلاحیت رکھنے والے جانداروں میں شامل ہیں اور اس کے علاوہ کم آکسیجن، خوراک کی کمی، تیزابیت کی زیادتی کے ساتھ اور کئی برس تک جسم میں پانی کی کمی کے باوجود زندہ رہ سکتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *