سائنسدان مردہ خنزیر کے اعضا کو متحرک کرنے میں کامیاب

امریکی ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں مردہ خنزیر کے بعض اعضا کو مصنوعی طریقے سے سانس اور خون دے کر متحرک کرنے میں کامیابی حاصل کرلی، جس سے مستقبل میں مردہ جانوروں یا انسانوں کے اعضا کو متحرک کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

طبی جریدے ’نیچر‘ میں شائع مضمون کے مطابق امریکا کی ییل یونیورسٹی کے ماہرین نے مردہ خنزیر کے دل اور دماغ کے بعض اعضا کو جانور کی موت کے ایک گھنٹے بعد مصنوعی طریقے سے متحرک کیا۔

اسی حوالے سے ’رائٹرز‘ نے بتایا کہ سائنسدانوں نے جانور کے مرنے کے 60 منٹ بعد اس کے دل اور دماغ کو مصنوعی مشین کے ذریعے سانس اور خون کی ترسیل کی، جس سے اس کے اعضا کی سوجن کم ہونا شروع ہوئی اور ان میں خون بھی دوڑنے لگا۔

ماہرین کے مطابق مصنوعی مشین بلکل اسی طرح خون اور مصنوعی سانس کی ترسیل کرتی ہے، جیسے انسان یا جانور زندہ رہتے وقت سانس لیتے ہیں۔

طویل کوششوں کے بعد ماہرین مردہ جانور کے مکمل دماغ یا دل سمیت کسی بھی دوسرے عضو کو متحرک یا زندہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے بلکہ انہیں اعضا کے کچھ حصوں یا اجزا کو متحرک بنانے میں کامیابی ملی۔

مذکورہ تجربہ ان ہی سائنسدانوں کی جانب سے 2019 میں کیے گئے اسی طرح کا ایک تجربے کا تسلسل ہے، جس میں ماہرین نے اس وقت خنزیر کی موت کے 4 گھنٹوں بعد اس کے دماغ کے کچھ حصوں کو متحرک کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔

ماہرین نے امید ظاہر کی ہے کہ اس طرح کے مزید تجربوں سے یہ بات سمجھنے میں مدد ملے گی کہ کسی بھی حیوان کے مرنے کے بعد اس کے کچھ اعضا کو بچاکر ٹرانسپلانٹ میں استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟

ماہرین کو پوری امید ہے کہ اس طرح کے تجربات سے مستقبل میں موت کے کچھ منٹ بعد کسی بھی انسان کے اعضا کو متحرک کرکے انہیں ٹرانسپلانٹ کے لیے استعمال کیا جا سکے گا، تاہم اس کے لیے ماہرین کو طویل اور وسیع تجربات کی ضرورت ہے۔

ماہرین کے مذکورہ تجربے پر 2019 میں بھی کئی عالمی ماہرین نے خدشات اور اخلاقیات کے سوالات اٹھائے تھے اور تجربوں کو شکوک کی نظر سے دیکھا گیا تھا۔

error: