سائیں صاحب

معانی و مطالب کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے مگر الفاظ کااپناسحر ہوتا ہے۔لفظوں کا ترجمہ توپھر بھی ممکن ہے،ان کے صوتی اثرات کے تراجم کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔دنیابھرکی تمام زبانیں ایسے الفاظ کے خزانوں سے لبریز ہیں۔پاکستانی زبانوں پربھی یہی بات صادق آتی ہے۔لسانی اعتبار سے پاکستان بڑامتنوع اورامیرملک ہے۔اس جہانِ آب و گل میں چند ہی ممالک ایسے ہوں گے جہاں ہماری طرح سو کے لگ بھگ زبانیں بولی جاتی ہوں۔ہماری دھرتی کے لوگوں کایہ امتیاز رہا ہے کہ انہوں نے بیرونی دنیا سے آنے والوں کے ساتھ ہمیشہ وسیع المشربی کامظاہرہ کیا۔کبھی کسی گروہ کو مجبور نہیں کیاکہ وہ اپنی زبان و ثقافت سے دستبردارہو جائے۔اسی سبب سے یہ لسانیاتی قوم قزح وطن عزیزمیں وجود میں آئی ہے۔ثقافتی رنگارنگی کے علاوہ اس خطہئ ارض کے لوگوں نے خارجی زبانوں کے بارے میں بھی کبھی کوئی تعصب نہیں رکھا ہے۔کسی بھی زبان کا کوئی بھی لفظ اگر دل کو بھایا،بامعنی و بھرپور لگاتواسے فوراًاپنا لیا۔عرب جب سندھ میں آئے تواپنے ساتھ اسلام اور عربی زبان بھی لے کر آئے تھے۔اسلام کو من وعن وادیئ سندھ کے اکثر لوگوں نے اپنا لیا،عربی زبان نے بھی اس خطے کی مقامی زبانوں پر بڑے گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔عربی لغت سے ہمارے روز مرہ میں آنے والا ایساہی ایک لفظ صاحب ہے۔یہ لفظ جب پنجاب پہنچاتوسیدھاپنجابیوں کے دل میں اتر گیا۔صوفیاکرام نے صاحب کالفظ خدائے بزرگ و برترکے لئے استعمال کیا ہے۔عظیم صوفی شاعرسلطان باہوؒنے جیسے فرمایا
؎ جے باہو صاحب سر منگے ہرگزڈھل نہ کریے ہو

ایک اورمعروف صوفی بزرگ شاعر نے دیکھیں کس خوبصورتی سے صاحب کو مالک کائنات کے لئے استعمال کیا ہے۔
؎ چنگی آں کہ مندی آں،

صاحب تیری بندی آں

سکھ مذہب کے پیروکاروں نے اس لفظ کو تقدیس کے ایک نئے مرتبے پر فائزکردیا۔گرونانک کی تعلیمات پرمبنی اس دھرم نے ہر مقدس نام ومقام کے ساتھ”صاحب“کا لاحقہ لگا دیا ہے،جیسے ننکانہ صاحب،گوردوارہ صاحب،گرنتھ صاحب،پنجہ صاحب آپ نے یقیناسنے ہوں گے۔سندھی زبان کا لفظ سائیں،پنجابی زبان میں عربی سے آئے لفظ صاحب کی چوٹ کا ہے۔ویسا ہی مقدس اور خوبصورت ہے۔صاحب کی طرح سائیں بھی پروردگارعالم کے لئے استعمال کرتے ہیں۔سائیں اور صاحب کاذکرایک ساتھ کرنے کی وجہ خوبصورت لہجے کے مقبول شاعر حسن عباسی کے دوحمدیہ کلام پر مشتمل مجموعے ہیں۔جن میں ایک کا نام ”صاحب“اور دوسرے کا نام ”سائیں“ہے۔حسن عباسی سے میری دوستی کا سفر دودہائیوں پر مشتمل ہے۔مگر باطن کا سفرتوہر انسان کاالگ الگ ہی ہوتا ہے۔باطنی سفر میں توانسان اگر کسی کو شریک سفربنانابھی چاہے تب بھی ہم سفر نہیں بنا سکتا۔یہ ہر فرد کی اپنی تقدیر اور توفیق ہوتی ہے۔خالق و مالک کائنات کی ثنا ء بیان کرنا اور اتنی حمد کہناکہ شعری مجموعہ بن جائے،یہ بڑے نصیب کی بات ہے۔سائیں اور صاحب اتنے خوبصورت نام ہیں کہ سیدھے دل پر اثر کرتے ہیں۔عربی زبان میں جس طرح لفظ مولا کے اٹھارہ مطالب و معنی بیان کئے جاتے ہیں،جن میں بیک وقت دوست،ساتھی سے لے کر آقا وخادم تک بات جاتی ہے،بالکل ایسے ہی الفاظ سائیں اور صاحب ہیں۔ان سے ویسی ہی تقدیس چھلکتی ہے جیسی مولا کے لفظ سے اور مقدس لہریں پیدا ہوتی ہیں۔ یہاں آپ کو ایک دل چسپ بات بتاؤں کہ سندھی خواتین اپنے خاوند کو نام لے کرنہیں بلاتی ہیں،بلکہ سائیں کہہ کرمخاطب ہوتی ہیں۔پنجابی میں سائیں مالک کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے،علاوہ ازیں مجذو ب شخص کے لئے بھی یہ لفظ مستعمل ہے۔البتہٰ سرائیکی زبان میں لفظ سائیں سندھی زبان جیسی گہرائی،وسعت اور تقدس رکھتا ہے۔شوہر کو سرائیکی عورتیں بھی سائیں کہہ کر پکارتی ہیں۔بلکہ ”میڈاسائیں“کے عنوان سے ایک مقبول کتاب بھی شائع ہوئی تھی۔جو سرائیکی وسیب سے تعلق رکھنے والے ایک سیاست دان کی سابق اہلیہ نے تحریر کی تھی۔گرچہ سائیں اور صاحب مجازی خدالے لئے استعمال ہوتا آیا ہے۔مگر ان الفاظ کا اصل مقام توخدائے وحدہ ُہو لا شریک کی ذات پاک ہی ہے۔حسن عباسی کو حمدیہ کلام کے دونوں مجموعوں کی اشاعت پر مبارکباد دیتا ہوں۔مجھے ذاتی طور پرخوشی اس بات کی بھی ہے کہ میرے تخلیق کاردوست نے سائیں اور صاحب لفظ کے ساتھ بھرپورانصاف کیاہے۔رمضان المبارک کے بابرکت ایام میں الوہیت کی شعری نغمگی سے لبریز یہ دونوں کتابیں اہل ایمان کے لئے ایک خوبصورت تحفہ ہیں۔

error: