سابق جاپانی وزیراعظم کاقتل

گزشتہ روزایک انتخابی اجتماع سے سابق جاپانی وزیراعظم شنزوآبے خطاب کررہے تھے کہ ایک مسلح شخص نے انہیں گولی مار کرہلاک کردیا۔یہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے،پوری دنیااورجاپان میں اس خبرکو صدمے اورحیرانی کے ساتھ سناگیا۔صدمے کی وجہ تویہ ہے کہ شنزوآبے فقط ایک سیاستدان یاسب سے طویل عرصہ وزارت عظمیٰ کے منصب پرفائزرہنے کا اعزازہی نہیں رکھتے تھے،بلکہ ایک مقبول رہنمااورجاپان کے موجودہ معاشی رجحان کے بانی تھے۔ان کی معاشی پالیسیوں کوجداگانہ اورموثرطرزکی بنیادپرجاپانی اکنامک پالیسی ”آبے نامکس“یعنی شنزوآبے کی اکنامکس کہلاتی رہی ہے۔ایسے عوامی رہنمااورقومی لیڈرکا دن دیہاڑے کیمروں کے سامنے تقریرکرتے ہوئے لوگوں کے درمیان میں کھڑے قتل ہوجانابلاشبہ صدمے کی بات ہے۔بلکہ انتہائی دکھ اورافسوس کامقام ہے۔
حیرانی کاپہلویہ ہے کہ جاپان میں ایساپہلے کبھی نہیں ہوا۔گزشتہ سوسال کی تاریخ میں آبے سان وہ پہلے سابق وموجودہ وزرائے اعظم کی فہرست میں سے آدمی ہیں جنہیں قتل کیاگیا۔امریکی صدرکینیڈی اگرقتل ہوجاتے ہیں تویہ بات افسوس ناک ہے مگرحیران کن نہیں چونکہ ہرسال پینتیس ہزارامریکی گولی کا نشانہ بن جاتے ہیں،جبکہ اسی دوران جاپان میں گولی کاشکارہلاک ہونے والوں کی تعدادپانچ ہے۔اسلحے پریہاں شدیدکنٹرول ہے۔لائسنس ملنا ناممکنات کے قریب کی کوئی چیزہے۔یادرہے کہ اس قتل کی واردات میں استعمال ہونے والاپستول ملزم نے گھرپرخودتیارکیاتھا۔اس کی وجہ اس کا فوجی پس منظربھی ہے۔اب تک کی اطلاعات کے مطابق وہ نیوی کاسابق اہلکارتھا۔ملزم کی عمرگرچہ 41سال ہے مگروہ عرصہ پہلے بحری فوج سے علیحدہ ہوچکاہے۔فوج کا لفظ استعمال کرتے ہوئے میں جھجک رہاہوں۔اس تامل اور جھجک کی وجہ یہ ہے کہ جاپان میں آئینی طورپرکوئی فوج نہیں ہے۔ملک کاآئین جوکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکی ایٹمی بمباری کے نتیجے میں جاپان کی شکست کے بعد تحریرکیاگیاہے،اس آئین کی رو سے جاپان SDFیعنی سیلف ڈیفنس فورس کے نام سے دفاعی سپاہ تورکھ سکتاہے مگریہ سپاہ جاپان کی سرزمین سے باہر قدم نہیں رکھ سکتی تھی۔فوج کے متعلق ان تفصیلات کو تحریرکرنے کا ایک مقصدہے،یہ بلاجوازگفتگونہیں ہے۔سابق وزیراعظم کے قتل کے محرکات کا جائزہ لینے کے لئے ان تفصیلات سے آگاہی ضروری ہے۔چونکہ قاتل نے اپنے مجرمانہ فعل کا جوجوازبیان کیاہے وہ محولہ بالاتفصیل سے جڑاہواہے۔جب شنزوآبے وزیراعظم تھے توانہوں نے آئین میں تبدیلکی گئی شق کاباقاعدہ استعمال کیاکہ امدادی کاموں اور غیرمسلح کاروائیوں میں حصہ لینے کے لئے جاپانی فوج (SDF)کوبیرون ملک بھیجاجاسکتاہے۔ان کے دور کے آغازسے جاپانی فوج کمبوڈیاسے لیکرویتنام اور منگولیاتک امدادی کاروائیوں اورتربیت دینے کے عمل میں حصہ لیتی آرہی ہے۔یادرہے کہ شنزوآبے پہلی مرتبہ ایک سال کی مدت کے لئے 2006ء میں وزیراعظم بنے تھے اور پھر2012ء سے کر2020ء تک وہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر براجمان رہے۔2012ء سے ہی مختلف امدادی مشن ہیں جن میں حصہ لینے کے لئے جاپانی فوج غیر ملکی سرزمینوں پر غیرمسلح مگر فوجی نوعیت کے منصوبوں کا حصہ ہے۔یہ وضاحت بہرحال ضروری ہے کہ بیرون ملک فوج بھیجنے پر پابندی کی منسوخی کاقانون 1992ء میں ہی منظور ہوچکاتھا،جس کی وجہ خلیجی جنگ میں جاپان کی عدم شرکت تھی،اس کے عوض چیک بک پالیسی اپناتے ہوئے جاپان نے تیرہ ارب امریکی ڈالر اداکئے تھے۔دنیا بھرمیں جب اس طرزعمل پر تنقید کی گئی توپھرجاپان کی پارلیمنٹ نے یہ قانون پا س کیا کہ وہ انسانی بہبوداورامدادی کاروائیوں کے علاوہ عسکری تربیت توبیرون ملک محاذوں پر فراہم کرے گامگرکسی مسلح تصادم اورکاروائی میں حصہ نہیں لے گا۔یہی قانون اب تک رائج ہے۔
ٹوکیوشہرکے مرکزشنجیکومیں 1954میں پیداہوئے اورپلے بڑھے شنزوآبے تاریخی شہرنارامیں جب قتل ہوئے تووہ وہی کام کررہے تھے جوساری زندگی کرتے آئے تھے۔یعنی عوامی رابطہ،لوگوں کے ساتھ مکالمہ،اپنی جماعت کے ایک کارکن کے لئے انتخابی مہم سے خطاب۔اپنی جماعت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کی حمایت کے لئے کوشش۔برسبیل تذکرہ جاپان میں دوسری جنگ عظیم کے بعد تقریباً تمام عرصہ اسی سیاسی جماعت کی حکومت رہی،ماسوائے چندسال ڈیموکریٹک پارٹی کی حکومت کے مختصر دورانیے۔
مرحوم وزیراعظم روایتی پڑھائی میں زیادہ اچھے نہیں تھے۔بی اے کرنے کے بعدامریکہ کی کیلی فورنیایونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے گئے مگریونیورسٹی سے خارج کردیئے گئے اورتعلیم مکمل کئے بغیر ہی جاپان واپس آگئے۔1993میں پہلی مرتبہ وہ پارلیمان کے رکن منتخب ہوئے۔سیاست کا میدان ان کے لئے نیا نہیں تھا،چونکہ ان کے دادابھی وزیراعظم رہ چکے تھے۔2005میں پہلی مرتبہ وزیربنے اوراگلے ہی برس وزیراعظم منتخب ہو گئے۔بیماری کے سبب مگرایک سال بعدہی وہ مستعفی ہوگئے،سالہاسال اپنی سیاسی جماعت کے سربراہ کے طور پر کام کیااوراپوزیشن لیڈربھی رہے۔یہ دلچسپ بات ہے کہ طویل ترین عرصہ وزیراعظم رہنے والے شنزوآبے نے دومرتبہ اپنے منصب سے استعفیٰ دیااوردونوں مرتبہ وجہ ان کی خراب صحت رہی۔ورنہ عوام میں وہ ہمیشہ مقبول ہی رہے۔
ان کے قتل کے محرکات کا جائزہ لیا جائے تومحسوس ہوتاہے کہ مبینہ قاتل ان کی دفاعی پالیسی کا شدیدمخالف تھا۔دروغ برگردن راوی،کہاجاتاہے کہ شنزوآبے ایک ایسی قوم پرست نیم خفیہ تنظیم کے رکن تھے جوجاپان میں بادشاہت کی بحالی چاہتی ہے اور یہ دائیں بازوکی تنظیم جاپانی فوج کا روایتی،تاریخی کرداربحال کرکے اسے ایک لڑاکافوج میں تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ ہرقسم کاجدیداسلحہ حاصل کرنے کی حامی ہے۔شائد یہی سبب ہے کہ انہوں نے اپنی وزارت عظمیٰ کے دوران 2015میں پہلی مرتبہ جاپانی فوج کی مشترکہ جنگی مشقوں کااہتمام کیا۔چین کی پیش قدمی روکنے کے لئے QUADنامی فوجی اتحاکا ناصرف خیال پیش کیابلکہ امریکہ،آسٹریلیا اورانڈیا کے ساتھ مل کراس تنظیم کو عملی شکل دے ڈالی۔عالمی تزویراتی منظرنامہ آج اس تنظیم کے تذکرے کے بغیرمکمل نہیں ہوتا۔
شنزوآبے کے مبینہ قاتل کی چند ویڈیوزسامنے آئی ہیں جن میں وہ دائیں بازوکی اس مذکورہ تنظیم ”نیپون کھائی گی“کے تمام ارکان کوقتل کردینے کے عزم اورخواہش کا ارادہ ظاہرکررہاہے۔شنزوآبے کا شماراس قوم پرست تنظیم کے اہم ترین ارکان میں ہوتاتھا۔اس تنظیم کا مانناہے کہ جاپان کومعذرت خواہانہ رویہ ترک کرکے تاریخ میں مثبت کردارکو ابھارناچاہئیے،وہ قوانین جو جاپان کو ایٹمی اسلحہ اور بیلسٹک میزائل بنانے سے روکتے ہیں،ایسے قوانین کاخاتمہ کردینا چاہئیے۔نیزکسی ملک پرحملہ آورنہ ہونے کے عزم کے قانون کوتبدیل کردینا چاہئیے چونکہ بعض اوقات جارحیت ہی بہترین جنگی حکمت عملی ہوتی ہے۔ہوسکتاہے بہت سارے قارئین کوامن کے منافی یہ باتیں پسندنہ ہوں،یہ ایک رائے ہے جس سے اختلاف کیا جاسکتاہے۔نقطہ نظرکے فرق کوکسی بے گناہ اورمقبول عوامی رہنماکے قتل کاجوازبناکرپیش نہیں کیاجاسکتا۔ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ مبینہ قاتل جسے موقع واردات پرہی گرفتارکرلیاگیاہے،ذہنی طورپربیمارشخص ہے۔قتل کی تحقیقات تویقینااچھے اندازمیں انصاف اورشفافیت پرمبنی ہوں گی مگرشنزوآبے توبہرحال واپس نہیں آئے گا۔جاپان کی جمودکا شکار معیشت کوبھرپورتوانائی کے ساتھ ترقی کی شاہراہ پرڈالنے اور کم ازکم معیارزندگی کوبہترکرنے والے وزیراعظم کے طورپرانہیں ہمیشہ خراج عقیدت پیش کیاجائے گا۔

error: