سابق جج شوکت صدیقی جیسا واقعہ پہلے بھی ہوچکا ہے، جسٹس عمر عطا بندیال کا انکشاف

اسلام آباد: جسٹس عمر عطا بندیال نے انکشاف کیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی کی طرح کا ایک واقعہ پہلے بھی پیش آچکا ہے تاہم اس واقعے سے متعلق چیف جسٹس کو رپورٹ کردیا گیا تھا۔ .

جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ 'متعلقہ جج میں اس واقعے کی اطلاع دینے کی ہمت تھی'۔

 رپورٹ کے مطابق جسٹس عمر عطا بندیال نے جج کی شناخت ظاہر نہیں کی جنہوں نے عدلیہ کے امور میں مداخلت کی تھی، قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ اس واقعے میں ایک اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج ملوث ہیں اور ان کے خلاف ضروری کارروائی کی گئی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ عدلیہ کی آزادی پر قدغن لگانے کی کوششیں ختم نہیں ہوئیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال پانچ ججز پر مشتمل سپریم کورٹ کے بینچ کی سربراہی کر رہے تھے جس نے سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) کی رائے اور 11 اکتوبر 2018 کے نوٹیفکیشن کے خلاف شوکت عزیز صدیقی کی اپیل پر سماعت کی تھی جس کے تحت انہیں 21 جولائی 2018 کو راولپنڈی میں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میں تقریرکے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

عدالت میں سابق جج کے بیان جس میں انہوں نے آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید سے ملاقاتوں کا تذکرہ کیا تھا، پر وفاقی حکومت کی تردید کے بارے میں تذکرہ کیا تاہم جسٹس اعجاز الاحسن نے آبزرویشن دی کہ حکومت کا جواب نہ تو یہاں موجود ہے اور نہ ہی اس کا کوئی موجودہ کیس سے تعلق ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے مشاہدہ کیا کہ عدالت کا حکومت کے جواب سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور سینئر وکیل حامد خان جو سابق جج کی نمائندگی کررہے ہیں، کو ججز کی طرف سے اٹھائے جانے والے سوالات پر توجہ دینی چاہئے۔

یہ مشاہدہ اس وقت کیا گیا جب حامد خان خان نے عدالت کو یاد دلایا تھا کہ سابق جج کا حلف نامہ عدالت عظمیٰ کے رجسٹرار آفس نے واپس کردیا تھا مگر حکومت کے مبہم جواب کو ریکارڈ کا حصہ بنادیا گیا تھا۔

وکیل نے استدلال کیا کہ سپریم جوڈٰشل کونسل نے اپنی رائے میں ان کے مؤکل کے خلاف اپنی حیثیت کی وضاحت کرنے کا موقع فراہم کیے بغیر اس کے خلاف منفی رائے دی۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اگر ایس جے سی نے شوکت عزیز صدیقی کو شوکاز نوٹس جاری کرنے سے پہلے انکوائری کی ہوتی تو اسے ثبوت ریکارڈ کرنے اور گواہوں سے جرح کرنے کا موقع مل سکتا تھا، خاص طور پر انٹیلی جنس افسران سے۔

تاہم جسٹس عمر عطا بندیال نے مشاہدہ کیا کہ سابق جج غلط فورم پر گئے اور اس بات پر زور دیا کہ جب کوئی جج عوام میں بات کرتا ہے تو وہ عوام اور بار سے مدد لے طلب کر رہا ہوتا ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر کو تین خط لکھے تھے جس میں ان کے خلاف ریفرنس کی کاپی فراہم کرنے کی درخواست کی گئی تھی جس کے بارے میں انہیں میڈیا سے معلوم ہوا تھا تاہم انہوں نے اس سے انکار کیا کہ وہ کبھی بھی ان خطوط کی کاپی عوامی کے سامنے لائیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ 'اس طرح موجودہ معاملے میں حقیقت پسندانہ تنازع موجود نہیں کیونکہ کسی نے بھی اس سے انکار نہیں کیا کہ جسٹس شوکر صدیقی نے بار میں تقریر کی تھی'۔

انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ سابق جج نے نہ تو چیف جسٹس آف پاکستان اور نہ ہی اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو انٹیلیجنس حکام کی مداخلت سے آگاہ کیا تھا۔

جسٹس عمر عطا چندیال نے مشاہدہ کیا کہ 'اگر ہم اپنی پریشانیوں، احساسات اور شکایات کو عام کرنے کے لیے عوامی سطح پر جائیں تو ہم عدلیہ کے ادارے کو مضبوط بنانے کا اپنا کام نہیں کر رہے ہیں'۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے بتایا کہ بہت سارے ممالک ایسے ہیں جہاں ججز کے خلاف پارلیمنٹ کے ذریعے مواخذے کی کارروائی ہوتی ہے جبکہ اس کے برعکس پاکستان میں ایگزیکٹوز یا قانون سازوں کے بجائے ساتھی ججز اس کا فیصلہ کرتے ہیں۔

انہوں نے استفسار کیا کہ جب بار میں تقریر کرنا ایک اعتراف شدہ حقیقت تھی تو انکوائری کرنے کی ضرورت کیا تھی؟

حامد خان نے استدلال کیا کہ عدلیہ کی آزادی کا تحفظ کرنے کا ایک قابل تقلید تصور صرف شفاف طریقے سے عمل کے بعد ہی حاصل کیا جاسکتا ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ؛کیا آپ نہیں سمجھتے کہ جج کی انفرادی کارروائی کے بجائے، پورے ادارے کا مل کر ردعمل عدلیہ پر سمجھے جانے والے حملے کو پسپا کرے گا اور مداخلت کو روکنے میں مدد کا ایک بہتر طریقہ ہوگا'۔

وکیل نے جواب دیا کہ ان کے مؤکل نے چار مرتبہ چیف جسٹس سے ملاقات کی کوشش کی لیکن انہیں موقع فراہم نہیں کیا گیا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا سابق جج نے تحریری طور پر کچھ نہیں دیا۔

وکیل نے استدلال کیا کہ انہیں تشویش ہے کہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی جانب سے انٹیلیجنس افسران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع نہیں کی گئی جس کی وجہ سے سارا بوجھ شوکت عزیز صدیقی کے کندھوں پر آگیا۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ صرف متعلقہ جج ہی توہین عدالت کی کارروائی شروع کر سکتا ہے یا چیف جسٹس جسے واقعے کی اطلاع دی گئی تھی۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے مشاہدہ کیا کہ 'آپ یہ بات کہہ رہے ہیں کہ ہمیں توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنی چاہیے، ہم ایسا کریں گے اگر ہمیں لگے گا کہ ضرورت ہے لیکن ابھی ہم اس میں نہیں پڑنا چاہتے ہیں'۔

بعد ازاں عدالت نے کیس پر مزید سماعت 30 جون تک کے لیے معطل کردی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: