سابق وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کی والدہ بیگم شمیم اختر کی لندن میں وفات

سابق وزیر اعظم نواز شریف اور سابق وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف کی بہن کوثر اپنی والدہ بیگم شمیم اختر کی میت کو لے کر اگلے دو سے تین روز میں لندن سے پاکستان روانہ ہوں گی۔

سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بی بی سی کے نامہ نگار جاوید سومرو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سابق وزیر اعظم کی والدہ کا ڈیتھ سرٹیفیکٹ اور دوسری دستاویزات مکمل کرنے میں دو سے تین دن کا وقت لگ جائے گا جس کے بعد ان کی میت تدفین کے لیے لاہور روانہ کی جائے گی۔

لاہور روانگی سے قبل مرحومہ شمیم اختر کی نماز جنازہ مرکزی لندن کی ریجنٹ اسلامک سینٹر میں بھی ادا کی جائے گی جہاں سابق وزیر اعظم نواز شریف اور خاندان کے دیگر قریبی مرد حضرات شرکت کریں گے۔

یاد رہے کہ میاں نواز شریف کے دونوں بیٹے، حسن اور حسین کے علاوہ شہباز شریف کے بڑے صاحبزادے سلمان شہباز، نواز شریف کے داماد اور اسحاق ڈار لندن میں موجود ہیں اور پاکستان میں بدعنوانی کے مقدمات میں مطلوب ہونے کے باعث پاکستان جانے سے قاصر ہیں۔

نواز شریف کے دونوں بیٹے اس سے قبل اپنی والدہ کلثوم نواز کی وفات پر بھی پاکستان نہیں گئے تھے اور انہوں نے یہاں لندن ہی میں ان کی نماز جناز ادا کی تھی۔

نواز شریف اس سے قبل اپنے والد کے جنازے میں بھی شرکت نہیں کر سکے تھے۔ اس وقت وہ مشرف حکومت سے ایک معاہدے کے تحت لندن میں مقیم تھے اور پاکستان نہیں جا پائے تھے۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ نواز شریف اور شہباز شریف کی بہن کوثر جو سلمان شہباز کی ساس بھی ہیں چھ سے سات ماہ قبل اپنی والدہ کے ہمراہ لندن آئیں تھیں۔

نواز شریف کی والدہ بیگم شمیم اختر کی لندن میں وفات

اسحاق ڈار نے تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ شمیم اختر کی وفات پارک لین میں واقع شریف فیملی کے فلیٹس میں ہوئی اور اسوقت نواز شریف ان کے ساتھ موجود تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ شمیم اختر جب پاکستان سے تشریف لائیں تھیں تو وہ بالکل صحت مند تھی لیکن کل رات ان کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی۔ اسحاق ڈار کے مطابق گھر پر موجود چار ڈاکٹروں کی ایک ٹیم ان کی نگہداشت کر رہی تھی لیکن پھیپھڑے فیل ہوجانے کی وجہ سے وہ جانبر نہ ہو سکیں۔

خاندانی ذرائع کے مطابق ان کی تدفین میاں شریف کی قبر کے ساتھ ہی جاتی امرہ میں کی جائے گی۔ جبکہ شریف سٹی گراونڈ لاہور میں ان کی نماز جنازہ ادا کی گی۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں کلثوم نواز کی نماز جنازہ بھی ادا کی گئی تھی۔

نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ 'میں نے میاں صاحب سے درخواست کی ہے کہ وطن واپس نہ آئیں۔' انہوں نے مزید کہا کہ یہ ظالم اور انتقام میں اندھے لوگ ہیں جن سے کسی قسم کی انسانیت کی توقع نہیں۔

مریم نواز اتوار کو حزب اختلاف کے جلسے میں شرکت کے لیے پشاور میں موجود تھیں جہاں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر موبائل فون سروس بند تھی جس کی وجہ سے بقول ان کے انھیں اپنی دادی کی وفات کی اطلاع تاخیر سے ملی۔

واضح رہے کہ نواز شریف گزشتہ سال علاج کی غرض سے چار ماہ کی اجازت لے کر لندن آئے تھے اور اس کے بعد سے لندن ہی میں مقیم ہیں۔مسلم ن کے رہنما عطا تاڑر کے مطابق وزیر قانون راجہ بشارت کے قانون کے تحت شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو جیل میں اکٹھا کیا گیا اور اجازت کے بعد ہی لندن میں ان دونوں کی میاں محمد نواز شریف سے ان کی ٹیلی فون کے ذریعے بات کروائی گئی۔

انھوں نے مزید بتایا کہ دونوں بھائیوں کی جب آپس میں بات ہوئی تو شہباز شریف آبدیدہ ہو گئے اور دونوں اس وقت کو یاد کرنے لگے جب ان کے والد فوت ہوئے تھے لیکن جلا وطنی کے باعث وہ پاکستان ان کی تدفین کے لیے نہیں آسکے تھے۔

ان کے مطابق بیگم شمیم کا جسد خاکی پاکستان لانے میں دو سے تین دن لگ سکتے ہیں۔ جبکہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی پرول پر رہائی کے لیے تقریبا چودہ سے پندرہ دن کی درخواست دی جائے گی تاکہ وہ نماز جنازہ اور تدفین کے انتظامات کر سکیں اور تعزیعت کے لیے آنے والوں سے ملاقات کر سکیں۔

عطا تارڑ

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مسلم لیگ نواز کے رہنما عطا تارڑ نے شمیم اختر کی وفات کی اطلاع دینے کے بعد بی بی سی سے گفتگو میں بتایا ہے کہ ’بیگم شمیم کی موت کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہے تاہم وہ کچھ عرصے سے علیل تھیں۔‘

واضح رہے کہ اتوار کو حزب اختلاف جماعتیں پاکستان ڈیموکریٹک اتحاد کے زیر اہتمام پشاور میں جلسہ کر رہی ہیں جس میں لیگی رہنما شرکت کر رہے ہیں۔

عطا تارڑ کا مزيد کہنا تھا کہ اس خبر کی اطلاع سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز کو جیل میں دی گئی۔ یاد رہے کہ دونوں رہنما بدعنوانی کے الزام میں زیر حراست ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں کی جانب سے نوازشریف اور شہباز شریف کی والدہ کی وفات پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

error: