سابق چیف جج رانا شمیم کے بیان حلفی کا معاملہ: اسلام آباد ہائیکورٹ کا توہین عدالت کی کارروائی کا فیصلہ، فریقین کو شوکاز نوٹس جاری

اسلام آباد ہائی کورٹ نے گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم کے بیان حلفی کے معاملے پر جنگ گروپ کے صحافی انصار عباسی، میر شکیل اور رانا شمیم کے خلاف باقاعدہ توہین عدالت کی کارروئی شروع کرنے کا فیصلہ سُنایا ہے۔

عدالت نے صحافی انصار عباسی اور سابق جج رانا شمیم سمیت فریقین کو شوکاز نوٹسز جاری کرتے ہوئے سات دن میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 26 نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔

منگل کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ’یہ تنقید نہیں بلکہ عدالت پر حملہ ہے، اہم حقائق کو جانچے بغیر ایک اتنے بڑے اخبار نے یہ حلف نامہ دے دیا۔‘

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ہمارا احتساب ضرور کریں مگر نظام عدل کے رستے میں رکاوٹ نہ بنیں۔

یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کے نواز شریف اور مریم نواز کی ضمانت کیس پر اثرانداز ہونے کے دعوے کا نوٹس لیتے ہوئے سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم سمیت صحافی انصار عباسی اور جنگ اور جیو گروپ کی انتظامیہ کو آج ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان کے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس رانا شمیم کی طرف سے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور پاکستان مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز کو سنہ 2018 کے عام انتخابات سے قبل ضمانت نہ دینے پر اصرار کرنے کے دعوے کی تردید کر چکے ہیں۔

نواز شریف

’یہ تنقید نہیں بلکہ عدالت پر حملہ ہے‘

منگل کے روز ہونے والی اس سماعت میں جنگ گروپ کے ایڈیٹر ان چیف میر شکیل الرحمان، دی نیوز کے ایڈیٹر عامر غوری، صحافی انصار عباسی، رانا شمیم کے وکیل اور بیٹے احمد حسن رانا، اٹارنی جنرل پاکستان سمیت دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کا آغاز کرتے ہوئے جنگ گروپ کے ایڈیٹر ان چیف میرشکیل الرحمان کو روسٹرم پر بلایا اور کہا کہ ’ہم نے بھاری دل کے ساتھ آپ کو طلب کیا لیکن آپ کی خبر سے اس عدالت پر حرف آیا ہے۔‘

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ’اگر لوگوں کا عدالت سے اعتماد اٹھ جائے گا تو پھر افراتفری ہو گی اور آپ نے بدقسمتی سے یہی کام کیا ہے۔‘

جسٹس اطہر من اللہ نے میر شکیل اور صحافی انصار عباسی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ زرا دی نیوز کی ہیڈ لائن پڑھیں۔‘ جس پر انصار عباسی نے عدالت میں اپنی خبر کی ہیڈ لائن پڑھ کر سنائی۔

جس کے بعد جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ’یہ تنقید نہیں بلکہ عدالت پر حملہ ہے۔ میں کہتا ہوں کہ یہ میرا احتساب ہے۔ آپ نے جج کے نام کے بجائے جگہ خالی چھوڑ دی، جس سے ہمارے اوپر حرف آیا۔‘

جسٹس اطہر من اللہ نے مزید کہا کہ ’اہم حقائق کو جانچے بغیر ایک اتنے بڑے اخبار نے یہ حلف نامہ دے دیا۔ اگر میرے سامنے کوئی چیف جسٹس ایسی بات کرے تو فوراً سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھ کر دوں گا۔‘

انھوں نے کہا کہ ایسے پراسرار حلف نامے شائع کر دیے جاتے ہیں، ’ہمارا احتساب ضرور کریں مگر نظام عدل کے راستے میں رکاوٹ نہ بنیں۔‘

انصار عباسی نے جب عدالت سے بولنے کی اجازت مانگی تو چیف جسٹس نے کہا کہ ’اب آپ کیا کہیں گے، آپ نے جو نقصان کرنا تھا وہ کر دیا۔‘

انصار عباسی نے پھر کہا کہ ’مجھے بولنے تو دیں‘، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ تھوڑا صبر کریں، دوسرے فریق کہاں ہیں؟‘

سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان رانا شمیم کی طرف سے ان کے بیٹے جو وپیشے کی اعتبار سے وکیل ہیں، عدالت میں پیش ہوئے۔

صحافی انصار عباسی نے عدالت کو بتایا کہ ’میں صحافی ہوں، میں میسینجر ہوں‘ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’آپ صرف میسینجر نہیں ہیں۔ کیا لندن میں گارڈین ایسا حلف نامہ شائع کرنے کی اجازت دے سکتا ہے‘

جس پر انصار عباسی نے کہا کہ ’میں نے سب اس عدالت کی عزت کے لیے کیا، میرے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کر دیں مگر اس معاملے پر تحقیقات ہونی چائیے۔‘

رانا شمیم
،تصویر کا کیپشنرانا شمیم

’ضمیر پر بوجھ مزید برداشت نہیں کر سکتا تھا‘

گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس رانا شمیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بیان حلفی میں لکھی تحریر پر قائم ہیں اور یہ کہ وہ بڑے عرصے سے اس بات کا بوجھ اپنے ضمیر پر لے کر چل رہے تھے لیکن اب مزید اس بوجھ کو اٹھانے کی ہمت نہیں تھی اس لیے انھوں نے اس واقعہ سے متعلق بیان حلفی پر سب کچھ کہہ دیا ہے۔

رانا شمیم کا کہنا تھا کہ اگر اس سلسلے میں حقائق جاننے کے لیے کوئی کمیشن بنایا جاتا ہے تو وہ اس کے سامنے پیش ہونے کو بھی تیار ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے رانا شمیم نے اس دعوے کو دہرایا جو ان کے بیان حلفی میں درج ہے۔

سابق چیف جسٹس رانا شمیم کے مطابق سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار 14جولائی 2018 کو ایک 27 رکنی وفد کے ہمراہ گلگلت بلتستان آئے تھے، وہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ لان میں بیٹھے تھے اور وہ ٹیلی فون پر ہدایات دے رہے تھے۔

رانا شمیم کے مطابق سابق چیف جسٹس کے وفد میں دو بزنس مین بھی شامل تھے جو کہ گلگت بلتستان میں ایک جھیل کے قریب ایک ہوٹل بنانا چاہتے تھے۔

رانا شمیم کے مطابق اس وفد میں شامل تمام افراد کا خرچہ انھوں نے اپنی جیب سے ادا کیا تھا۔

گلگلت بلتستان کے سابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایک روز وہ لان میں اپنی مرحومہ اہلیہ کے ہمراہ میاں ثاقب نثار اور ان کی اہلیہ بھی موجود تھے کہ انھوں نے دیکھا کہ اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان پریشان بیٹھے تھے اور اپنے رجسٹرار سے مسلسل فون پر بات کر رہے تھے اور انھیں ہدایات دے رہے تھے کہ فلاں جج کے پاس جاؤ۔

رانا شمیم کے بقول پاکستان کے سابق چیف جسٹس کہہ رہے تھے کہ اس جج سے میری بات کرواؤ اور اگر بات نہ ہو سکے تو ہائی کورٹ کے اس جج کو میرا پیغام دے دیں کہ سنہ 2018 میں ہونے والے عام انتخابات سے قبل سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز شریف کو کسی بھی قیمت پر ضمانت پر رہائی نہیں ملنی چاہیے۔

گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ انھوں نے میاں ثاقب نثار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ یہاں چھٹیاں گزارنے آئے ہیں تو تمام معاملات کو ایک طرف رکھیں اور اپنی چھٹیاں گزاریں۔

رانا شمیم کا دعویٰ ہے کہ پہلے تو پاکستان کے سابق چیف جسٹس ناراض ہوگئے لیکن کچھ دیر کے بعد لہجہ بدلتے ہوئے کہا انھیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ (راناشمیم ) پنجاب کی کیمسٹری کو نہیں سمھجتے اور پنجاب کی کیمسٹری گلگت بلتستان سے بہت مختلف ہے۔

گلگت بلتسان کے سابق چیف جسٹس نے دعویٰ کیا کہ جب ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران دوسری جانب سے یقین دہانی ملی تو میاں ثاقب نثار پُرسکون ہو گئے اور اس کے ساتھ ہی انھوں نے ایک اور چائے کا کپ طلب کیا۔

واضح رہے کہ رانا شمیم 30 اگست سنہ 2018 میں اپنی مدت ملازمت مکمل کر کے ریٹائر ہو گئے تھے۔

ثاقب نثار
،تصویر کا کیپشنجسٹس ریٹائرڈ ثاقب نثار

’اتنی حساس باتیں اُن کے سامنے کیسے کر سکتا ہوں‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سوال اٹھایا کہ کیسے اتنی حساس باتیں وہ گلگت بلتستان کے چیف جسٹس کے سامنے کر سکتے ہیں اور یہ کہ کیا انھیں ریلیکس ہونے کے لیے چائے کا کپ اس وقت کے گلگت بلتستان کے چیف جسٹس رانا شمیم سے ہی پینا تھا۔

پاکستان کے سابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ نہ تو انھوں نے اس وقت کے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک سے ملاقات کی اور نہ ہی انھیں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت نہ دینے کے سلسلے میں کسی کو ہدایات دی تھیں۔

جب سابق چیف جسٹس سے پوچھا گیا کہ کیا وہ گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس کے اس بیان پر ان کے خلاف کوئی قانونی چارہ جوئی کریں گے جس پر پاکستان کے سابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے اس لیے وہ اس بیان پر چارہ جوئی کر کے رانا شمیم کے اس بیان کو اہمیت نہیں دینا چاہتے۔

انھوں نے کہا کہ چند روز قبل ایک غیر سرکاری تنظیم نے ایک تقریب کا اہتمام کیا ہوا تھا جس میں انھوں نے تقریر کی تھی۔ جسٹس ریٹائرڈ میاں ثاقب نثار کے بقول انھیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید انھیں (رانا شمیم کو) ان کی تقریر ناگوار گزری ہے جس پر انھوں نے ایسا بیان دیا ہے۔

پاکستان کے سابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ جب وہ پاکستان کے چیف جسٹس تھے تو انھوں نے رانا شمیم کی بطور چیف جسٹس گلگلت بلتستان کی مدت ملازمت میں توسیع دینے سے انکار کر دیا تھا جس کی وجہ سے شاید انھوں نے ایسا بیان دیا ہے۔

جسٹس ریٹائرڈ میاں ثاقب نثار کا مزید کہنا تھا کہ جب وہ خود پاکستان کے چیف جسٹس تھے تو انھیں سابق وزیر اعظم کو جیل میں رکھنے سے متعلق کسی جج سے ملاقات کرنے یا ہدایات دینے کی کیا ضرورت تھی۔

انھوں نے کہا کہ انھوں نے ماتحت عدلیہ کے کسی جج کو سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کی عام انتخابات سے قبل ضمانت نہ لینے کا حکم نہیں دیا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: