’’ساس بہو کے تعلقات‘‘

پاک امریکہ تعلقات کی73سالہ تاریخ ‘ نشیب وفراز کی دلچسپ کہانی ہے۔صدر اوباما کے پہلے دور میں ان کی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن پاکستان تشریف لائیں ۔ لاہور میں دانشور وں سے بے تکلف مکالمے میں ان تعلقات کو ''ساس بہو کے تعلقات ‘‘قرار دیا گیا۔ امریکی ماہرین بھی ان تعلقات کو پیچیدہ لیکن نا گزیر قرار دیتے ہیں۔ اس کہانی میں پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کا دورہ بھی ہے‘ جب ان کے استقبال کے لیے خود صدر ٹرومین ایئر پورٹ پر موجود تھے‘ تین ہفتے کے دورے میں وزیر اعظم پاکستان کو ہر جگہ وہی پروٹوکول دیا گیا جو اس سے قبل بھارتی وزیر اعظم جواہر لال نہرو کو ملا تھا اور پھر یوں بھی ہوا کہ صدر کلنٹن مارچ2002ء میں بنگلہ دیش اور بھارت کے چھ روزہ دورے سے واپسی پر اسلام آباد میں صرف چھ گھنٹے کے سٹاپ اوور پر اس شرط پر آمادہ ہوئے کہ جنرل مشرف کسی تصویر میں ان کے ساتھ نظر نہیں آئیں گے(جناب رفیق تارڑ کو ابھی صدارت سے فارغ نہیں کیا گیا تھا)۔سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان ایک اور دلچسپ کہانی بھی سنایا کرتے ہیں کہ ستمبر2002ء میں جنرل مشرف یو این جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کے لیے جا رہے تھے تو پاکستانی فارن آفس پر زوردیا گیا کہ وہ صدر کلنٹن کے ساتھ ان کے ہاتھ ملانے ہی کا اہتمام کردیں۔ اس موقع پر امریکی صدر دنیا بھر سے آئے ہوئے وفود کے سربراہوں کے ساتھ ''ملاقات‘‘ کا اہتمام کرتے ہیں۔ رسمی سی یہ علیک سلیک مشرف صاحب کے ساتھ بھی ہوگئی لیکن امریکی پروٹوکول نے اس کی تصویر نہ بننے دی۔ اور پھر وہ وقت بھی آیا کہ مشرف‘ وائٹ ہائوس کے چہیتے ہوگئے( اب بش جونیئر امریکہ کے صدر تھے) یہ الگ بات کہ اس کی بہت بھاری قیمت پاکستان کو ادا کرنا پڑی ۔ ''دہشت گردی کے خلاف‘‘ امریکی جنگ میں پاکستان کی زمینی‘ فضائی اور بحری سہولتوں کے علاوہ انٹیلی جنس کا تبادلہ اور امریکہ کو مطلوب''دہشت گردوں‘‘ کی سپردگی بھی شامل تھی۔
آج نوازشریف کی وزارتِ عظمیٰ کے ادوار میں پاک ‘ امریکہ تعلقات کے حوالے سے کچھ باتیں شیئر کرتے ہیں۔ 1990ء میں نوازشریف (پہلی بار) وزیر اعظم بنے تو ان سے ملاقات کے لیے امریکی سفیر رابرٹ اوکلے کی درخواست ہفتوں منظوری کی منتظر رہی۔ نومنتخب وزیر اعظم امریکیوں کو یہ احساس دلانا چاہتے تھے کہ وہ دورگزر گیا جب رابرٹ اوکلے کواسلام آبادمیں امریکی وائسرائے کہا جاتا تھا اور نوازشریف جس کے سخت ناقدرہے تھے۔ امریکی اب آئی ایس آئی کو ''کٹ ٹوسائز‘‘ کرنے پر اصرار کرنے لگے کہ سوویت یونین کی واپسی کے بعد افغان جہاد ختم ہوچکا تھا۔ وزیر اعظم نوازشریف پھر مزاحم تھے ان کا کہنا تھا کہ امریکی سی آئی اے یا ایف بی آئی کے معاملات میں ہم مداخلت نہیں کرتے تو اپنے ریاستی اداروں کے حوالے سے امریکی ڈکٹیشن کیوں لیں؟
رفیق تارڑ صاحب کے بقول نوازشریف حکومت کی برطرفی (اپریل 1993ئ) کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت تھا‘ صدر کے وکیل نے استدعا کی کہ بعض حساس معاملات وہ بند کمرے میں عرض کرنا چاہتے ہیں۔ بند کمرے میں صد رکے اس اقدام کا ایک اہم سبب یہ بتایا گیا کہ امریکہ اور بھارت اس حکومت سے خوش نہیں تھے(اور صدر صاحب کے خیال میں یہ صورت حال پاکستان کے مفادات کے لیے مناسب نہیں تھی)۔
نوازشریف کی دوسری وزارتِ عظمیٰ میں امریکہ (اور یورپ) کے تمام تر پریشر ‘ صدرکلنٹن کی پانچ ٹیلی فون کالوں‘ برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور فرانسیسی صدر کی طرف سے بھی ''کیرٹ اینڈ سٹک‘‘ کے تمام تر حربوں کے باوجود نیو کلیئر دھماکوں کی کہانی تو عام ہوچکی ۔ انہی دنوں ڈاکٹر قدیر نے یہ انکشاف بھی کیا تھا کہ صدر کلنٹن نے شریف برادران کے ذاتی اکائونٹ میں کروڑوں ڈالر کی پیش کش بھی کی تھی۔ ایک کہانی امریکی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل ٹونی زینی نے Battle Redyمیں بھی لکھی ہے۔ صدر کلنٹن نے ایٹمی دھماکوں سے روکنے کے لیے وزیر ِ دفاع ولیم کوہن کی زیر قیادت ایک اعلیٰ سطحی وفد اسلام آباد بھیجنے کا فیصلہ کیا۔بوئنگ 707 Tempaایئر بیس پر تیار کھڑا تھا لیکن وزیر اعظم نوازشریف اسے پاکستان کی سرزمین پر اترنے کی اجازت دینے سے انکاری تھے۔ آخر جنرل جہانگیر کرامت بروئے کار آئے‘وزیر اعظم سے ان کا کہنا تھا کہ آپ امریکیوں کی بات تو سن لیں۔ جنرل زینی کے بقول: امریکی وزیر اعظم نوازشریف سے ایٹمی دھماکے نہ کرنے کی بات نہ منوا سکے۔
وزیر اعظم نوازشریف جلا وطن تھے۔ لال مسجد/جامعہ حفصہ آپریشن اور چیف جسٹس کے خلاف کارروائی پر شدید ردِ عمل میں صدر مشرف کمزور تر ہوتے چلے گئے تو امریکیوں نے ''دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ میں اپنے نان نیٹو اتحادی کو سیاسی حمایت دلانے کے لیے بے نظیر بھٹو کے ساتھ این آر او کا اہتمام کیا ۔ایسے میں نوازشریف کا لندن سے پاکستان آنے کا اعلان امریکیوں کے لیے بھی سخت تشویش کا باعث تھا چنانچہ 10 ستمبر (2007ئ) کو اسلام آباد ایئر پورٹ سے میاں صاحب کی جبری واپسی کو امریکیوں کی بھرپور حمایت بھی حاصل تھی۔یہ بات بھی میڈیا میں آئی کہ خود کونڈولیزا رائس اس کارروائی کے ایک ایک لمحے کی رپورٹ حاصل کررہی تھیں۔ وکی لیکس کے مطابق رچرڈ بائوچر پریشان تھا کہ نواز شریف پاکستان واپس جاکر مشرف اور امریکہ کے خلاف مہم چلائیں گے۔
بے نظیر 18اکتوبر 2007ء کو وطن واپس آگئیں تو نوازشریف کی واپسی کو روکنا بھی ممکن نہ رہا اوروہ 25نومبر کو لاہور پہنچ گئے ۔ فروری2008ء کے انتخابات میں مسلم لیگ(ن) ایک بڑی سیاسی قوت کے طور پر سامنے آگئی۔ اب 3نومبر 2007ء والی عدلیہ کی بحالی اور مشرف کی رخصتی نواز شریف‘کے اہم ترین اہداف تھے۔ مشرف18اگست کو رخصت ہوگئے۔
صدر زرداری (اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی) چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے سوا باقی ججوں کی بحالی پر آمادہ تھے۔ امریکی سفیر این پیٹرسن نے بھی میاں صاحب کو اس پر رضا مند کرنے کی کوشش کی۔ وکی لیکس کے مطابق میاں صاحب کا صاف جواب تھا کہ وہ چیف جسٹس کے بغیر عدلیہ کی بحالی کا کوئی تصور نہیں رکھتے۔ آخر15مارچ 2009ء کے لانگ مارچ کے نتیجے میں چیف جسٹس سمیت3نومبر والے سارے جج بحال ہوگئے۔
یوں بھی نہیں کہ نوازشریف کے دور میں امریکہ کے ساتھ تعلقات میں مسلسل سرد مہری رہی۔اس میں خود صدر کلنٹن کی دلچسپی بھی کم نہ تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ دھماکوں کے معاملے میں نوازشریف کی صاف گوئی نے انہیں متاثر کیا۔ وزیر اعظم پاکستان کا امریکی صدر کو ایک ہی جواب ہوتا ‘ بھارت کے ایٹمی دھماکوں سے خطے میں طاقت کا توازن بگڑ گیا۔ یہ ہمارے لیے مورال کا معاملہ بھی ہے اور پھر وہ صدرکلنٹن سے استفسار کرتے: ایسے میں اگر آپ میری جگہ ہوتے تو کیا کرتے؟تعلقات کی بحالی ‘کارگل بحران میں بھی کام آئی جب صدر کلنٹن نے کارگل سے واپسی میں کردار ادا کیا۔صدراوباما کا دور بھی امریکہ کے ساتھ خوشگوارتعلقات کا دور تھا۔جب مشعل اوباما نے خواتین میں فروغ تعلیم کے پروگرام''Let girls learn‘‘میں مریم نواز کو اپناپارٹنر بنالیا۔
CPECبھارتیوں کے علاوہ امریکیوں کے لیے بھی ناقابل قبول تھا‘ لیکن وزیر اعظم پاکستان کسی کمزوری کا مظاہرہ کرنے کوتیار نہیں تھے۔ اب وائٹ ہائوس میں ڈونلڈ ٹرمپ براجمان تھے۔ دور کی کوڑی لانے والے ‘ نوازشریف کے زوال میںCPECکو بھی اہم سبب قرار دیتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *