سال بدل گیا ۔۔۔رویہ بدلیے

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں رہنے اور سفر کرنے کے تجربات نے میری سوچ بدل ڈالی۔ جب کوئی روائتی سوچ رکھنے والا پاکستانی یہ جملہ سنتا ہے تو سب سے پہلے اس کے دماغ میں میرا ظاہری حلیہ آتا ہے۔ کیونکہ پاکستان میں کسی بھی عورت کو پرکھنے کا پہلا معیار اس کا حلیہ اور اس کے کپڑے ہیں۔ اگر ایک عورت ابایا نہیں پہنتی اور حجابی نہیں ہے تو قابل برداشت ہے، دوپٹہ یا چادر نہیں کرتی لیکن قمیض شلوار پہنتی ہے تو معاشرتی اقدار پر پورا نہیں اترتی، اگر جینز اور ٹی شرٹ پہنتی ہے تو ایک بڑے طبقہ کے لیے نا قابل قبول ہو جاتی ہے اور اگر ٹی شرت کی جگہ ٹینک ٹاپ اور جینز کی جگہ کیپری پہن لی تو بس پھرچند ایک رشتہ داروں اور دوستوں کے علاوہ باقی سب کی نظر میں یہ ایک بگڑی ہوئی خاتون ہے۔ اور اگر اس کی عمر ۳۰ برس سے زائد ہے تو پھر مزید سوالات اٹھائے جائیں گے۔
ایک بار پھر سے بات شروع کرتے ہیں۔۔۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں رہنے اور سفر کرنے کے تجربات نے میری سوچ بدل ڈالی۔ اب کی بار یہ جملہ سن کر آپ نے وہ نہیں سوچا ہو گا جو میں پہلے سے بیان کر چکی ہوں۔ اب سوچا جائے گا کہ اسی لیے شادی اور خاندان کے نام سے بھاگتی ہوں۔ ہمارے ہاں اگر ایک خاتون خود اپنی مرضی سے اکیلے زندگی بسر کرنے کا فیصلہ کرے تو پاکستانی معاشرہ اسے شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ ایک خاتون شادی کے فلسفہ ہی کو نہ مانتی ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ لوگوں کے سامنے ٹرالیاں پیش کر چکنے کے بعد عاجز آ گئی ہو یا پھر اپنے والدین کے فرمانبردار بیٹوں نے اسے شادی کے خواب دکھا کر یہ کہہ کر چھوڑ دیا ہو کہ وہ اپنے والدین کے فیصلہ کے سامنے مجبور ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ کسی کی بے وفائیسہنے کے بعد اس فیصلہ پر پہنچی ہوں۔ لیکن کسی بھی طور اکیلے زندگی گزارنے کا فیصلہ اس کا اپنا فیصلہ ہے یہ قبول کرنا ہی معاشرے کے لیے مشکل ہے۔
تیسری بار پھر سے کہتی ہوں ۔۔۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں رہنے اور سفر کرنے کے تجربات نے میری سوچ بدل ڈالی۔ اب آپ نہ میرے حلیے کو سوچیں گے نہ میرے اکیلے رہنے کے فیصلہ پر مزید غور کریں گے۔ اب آپ کو میری بات میں کوئی دلچسپی ہو گی۔ کیونکہ جس بات کا جواب ہمارا دماغ خود سے نہ تراش سکے اس بات پر ہمیں تجسس ہوتا ہے۔ پھر ہم جاننا چاہتے ہیں کہ بولنے والا یا لکھنے والا آخر کہنا کیا چاہ رہا ہے۔
ترقی یافتہ ممالک میں رہنے اور کام کرنے والے لوگوں میں ایک بات ہمارے ہاں پائے جانے والے رویوں سے مختلف ہے اور وہ ہے ان کی اپنے کام کے ساتھ لگائو۔ میں نے جس ملک کی بھی ترقی کا راز جاننے کی کوشش کی وہاں کام کرنے والوں کی محنت اور انتھک محنت ہی سب سے بڑی وجہ سمجھ میں آئِی۔ ان ممالک میں لوگ کام ختم نہیں کرتے بلکہ مکمل کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں مزدور سے لے کر ریسرچ سکالر تک سب لوگ کام شروع تو بڑے انہماک سے کرتے ہیں لیکن پھر بس ختم کرنے کے لیے۔ انہیں کام کے مکمل ہونے نہ ہونے کا علم بھی نہیں اور ادراک بھی نہیں۔ سڑک بنتی دیکھئے، کپڑوں کی سلائی دیکھئے یا کسی کاریگر کو بجلی یا گیس کے ہیٹر یا گیزر کی مرمت کرتا دیکھئے۔ سب کام نامکمل ہی ختم کر دیے جاتے ہیں۔ طلبہ اپنی اساءینمنٹ اور پیپر بھی بس ختم کرتے ہیں۔ زیادہ تر لوگوں میں عمومی رویہ یہی ہے۔ اور کام ختم کر کے وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے بڑا تیر مارا ہے۔ پھر جب نتیجہ بھی عمومی سا آتا ہے تو پریشانی دیدنی ہوتی ہے۔
میری سوچ میں تبدیلی نہ آتی اگر میں نے دنیا کو دن رات کام کرتے اور نتیجہ تک انتھک محنت کرتے نہ دیکھا ہوتا۔ ان کی خوشی دیدنی ہوتی ہے جب وہ کام مکمل کرتے ہیں۔ اگر ناکامی پر پھر سے کام شروع کر دینے اور کامیابی کی وہی لگن برقرار رکھنے کی روش کو خود نہ دیکھا ہوتا تو میں بھی بہت سے پاکستانی بہن بھائیوں کی طرح سسٹم اور دوسرے لوگوں پر ناکامی کا الزام دھرتی رہتی۔ پاکستان میں ۱۶ سالہ تعلیم اور ۱۰ سال کا تجربہ لینے کے بعد میں بھی اپنا کام ختم کرتی اور نتیجہ کی زمہ داری دوسروں پر دھرتی تھی۔ اس کا نقصان یہ ہو رہا تھا کہ میں اپنے کام میں بہتری اور مزید کاوش پر نہیں سوچتی تھی۔ دو دو تین تین بار اسائنمنٹ دہرانے اور اس میں مزید بہتری کرنے سے مجھے لگنے لگا کہ میں نے ہمیشہ اپنی پہلی کاوش کو کافی مانا لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ہماری بھرپور کاوش میں بھی بہتری کی گنجاءش ہوتی ہے۔ کام ختم ہو جائے تو بھی اس پر نظر ثانی اس لئیےچاہئے کہ وہ نامکمل تو نہیں۔
نیا سال ہے ہو سکے تو ایسی کچھ تبدیلی اپنے اندر کیجئے گا، اپنا کام مکمل کیا کیجئے۔ نتیجہ ویسا نہ آئے جیسا آپ نے سوچا تھا تو پھر سے کاوش کیجئے، کچھ نہ کچھ کمہ ہر بار رہ جاتی ہے۔

سال بدل گیا ۔۔۔رویہ بدلیے” پر ایک تبصرہ

  • January 6, 2021 at 7:33 pm
    Permalink

    G ham to aik bar apna kam jesy tesy mukamal kr k bra maaraka samajh bethty hn.nazr e sani ka to kabhi sochty bhi nahi.dobara krna to door ki bat hy!

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *