Site icon Dunya Pakistan

سانحۂ مری رپورٹ: ’ایڈوائزریز اتنی تاخیر سے پڑھی گئیں کہ منصوبہ بندی اور تیاری کے لیے وقت ہی نہیں بچا تھا‘

مری میں شدید برفباری کے بعد پیش آنے والے واقعات کی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صوبائی ڈزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے اپنی ذمہ داری نبھانے میں کوتاہی برتی اور چھ سے نو جنوری کے درمیان شدید برفباری کے الرٹ کی روشنی میں نتائج سے نمٹنے کے لیے کوئی رابطہ میٹنگ یا ہنگامی منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جب این ڈی ایم اے نے شدید موسم سے متعلق ایڈوائزری پنجاب میں ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے کو بھیجی تو اس وقت ڈی جی کا عہدہ ’خالی‘ تھا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے کے واٹس ایپ گروپ پر بھیجی گئی ایڈوائزریز اتنی تاخیر سے پڑھی گئیں کہ منصوبہ بندی اور تیاری کے لیے وقت ہی نہیں بچا تھا۔

یاد رہے کہ سات اور آٹھ جنوری کی رات کو مری میں برفانی طوفان اور رش کے باعث 22 افراد کی اپنی گاڑیوں میں ہی موت ہو گئی تھی جس میں ایک ہی خاندان کے آٹھ افراد بھی شامل تھے۔

اس واقعے کے بعد پنجاب حکومت نے ایڈیشنل چیف سیکریٹری ہوم کی سربراہی میں سانحہ مری کی تحقیقات کے لیے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی تھی۔

کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں قرار دیا ہے کہ تحقیقات کے دوران وفاقی حکومت کے وزارت دفاع، داخلہ اور مواصلات کے ماتحت محکموں کی مری واقعے سے پہلے، دوران اور بعد کے حالات سے نمٹنے کے لیے تیاریوں اور منصوبہ بندی میں بھی متعدد خامیاں پائی گئیں۔

کمیٹی نے سفارشات میں کہا ہے کہ ان محکموں کے خلاف متعلقہ وزارتیں ہی جائزہ لیں۔

تحقیقاتی رپورٹ میں وفاقی حکومت، وزارت دفاع اور داخلہ کے ماتحت محکموں کے خلاف کارروائی کرنے کی بھی سفارش کی گئی جس کے بعد وزیر اعلیٰ نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں تمام 15 افسران کی معطلی کا اعلان کیا تھا۔

یہ چار رکنی کمیٹی پنجاب حکومت کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری ظفر نصراللہ خان کی سربراہی میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار نے قائم کی تھی۔

بدھ کی شام کو اس کمیٹی نے اپنی رپورٹ وزیرِ اعلیٰ کو پیش کی، جس میں کمشنر اور چیف پولیس افسر (سی پی او) راولپنڈی سمیت پنجاب حکومت کے 15 افسران کی معطلی اور ان کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی تھی۔

رپورٹ میں پی ڈی ایم اے کے حوالے سے کیا کہا گیا ہے؟

مری واقعے کی اس تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق محکمہ موسمیات کی جانب سے مری میں شدید برف باری کی وارننگ کے بعد اگرچہ این ڈی ایم اے نے پانچ جنوری کو ٹریفک کے بہاؤ کو موڑنے کے لیے واضح وارننگز جاری کیں مگر متعلقہ افسران نے مؤقف اختیار کیا کہ انھیں یہ ’وارننگز‘ موصول ہی نہیں ہوئیں۔

کمیٹی نے این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ اس ایڈوائزری کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ یہ پانچ جنوری کو صرف پنجاب میں پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل کو بھیجی گئی تھی۔ کمیٹی کے مطابق اس وقت پنجاب میں ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے کا عہدہ خالی تھا کیونکہ اس وقت وہاں تعینات ڈی جی تین جنوری کو اپنے عہدے سے سبکدوش ہو چکے تھے۔

تاہم کمیٹی کے مطابق محکمہ موسمیات کی وارننگ ’پی ڈی ایم اے پنجاب انفو ڈیسک‘ نامی واٹس ایپ گروپ میں شیئر کی گئی تھی۔ اس گروپ میں راولپنڈی کے کمشنر اور ڈی سی بھی شامل تھے۔ تاہم جب کمیٹی نے اس گروپ کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ یہ ایڈوائزریز اتنی تاخیر سے پڑھی گئیں کہ منصوبہ بندی اور تیاری کے لیے وقت نہیں بچا تھا۔

کمیٹی نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم اے نے اپنی ذمہ داری نبھانے میں کوتاہی کی اور محکمہ موسمیات کی ایڈوائزری محض ایک واٹس ایپ گروپ میں شیئر کر دی اور خطرے کا ادراک ہی نہیں کیا گیا یا اس ایڈوائزری کو عام کرنے کے لیے ای میل، فون اور فیکس جیسے ذرائع کا استعمال نہیں کیا گیا۔

تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ این ڈی ایم اے نے پی ڈی ایم اے کے کنٹرول روم کے واٹس ایپ نمبر پر جو وارننگ بھیجی تھی اسے 18 جنوری تک پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر ہی نے کھول کر نہیں پڑھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے نے پانچ جنوری کو موصول ہونے والی ٹریول ایڈوائزری اپنی ویب سائٹ پر شئیر کی نہ ہی فوج کے مری میں سٹیشن کمانڈر کے ہنگامی حالات سے نمٹنے سے متعلق ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شیئر کی گئی۔

ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ 6 سے 9 جنوری کے درمیان شدید برفباری کے الرٹ کی روشنی میں نتائج سے نمٹنے کے لیے کوئی رابطہ میٹنگ یا ہنگامی منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔

فوج، ریسکیو اور دیگر امدادی اداروں سے متعلق شکایات

تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مری کے اسسٹنٹ کمشنر نے فوج کے ساتھ مل کر مال روڈ سے بانسرہ گلی تک ٹریفک کے لیے متبادل روٹ بھی کھولنے کی کوشش کی مگر یہ کوششیں ناکامی سے دوچار رہیں۔

کمیٹی نے سات جنوری کی رات مری میں پھنسے ہوئے کچھ سیاحوں کا بھی انٹرویو کیا جنھوں نے صاف صاف بتایا کہ انھیں مشکلات سے نکالنے کے لیے سول انتظامیہ آگے آئی نہ ہی فوج نے کوئی تعاون کیا۔

کمیٹی نے تین ایسے سیاحوں میں سے ایک ریٹائرڈ کرنل شہریار نعمت کے بیان کو رپورٹ کا حصہ بنایا۔ کرنل شہریار نعمت نے کمیٹی کو بتایا کہ باڑیاں سے کلڈنہ کی طرف تین کلومیٹر کے فاصلے پر وہ پھنسے ہوئے تھے، جہاں انھوں نے مدد کے لیے سویلین اور فوجی حکام کو اس صورتحال میں مددگار نہیں پایا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی نے مری واقعے سے متعلق متعدد ویڈیوز دیکھیں جن سے یہ پتا چلتا ہے کہ ریسکیو 1122 اور پولیس اہلکار بھی برف میں پھنسے ہوئے سیاحوں کی صیحح معنوں میں رہنمائی کرنے میں ناکام رہے۔

کمیٹی نے کہا ہے کہ فوج، ریسکیو اور دیگر امدادی اداروں کے اہلکاروں سے متعلق لوگوں نے یہ شکایات کی ہیں کہ انھوں نے مشکل وقت ان کی مدد سے صاف انکار کر دیا تھا اور کوئی اس مشکل سے نکالنے کے لیے کئی گھنٹوں تک باہر نکلنے کو تیار نہیں ہوا۔ کمیٹی کے مطابق ریسیکو حکام سے متعلق یہ شکایات بھی موصول ہوئیں کہ انھوں نے لوگوں کو گاڑیوں میں ہی رہنے کا مشورہ دیا۔

تحقیقاتی کمیٹی نے یہ بھی واضح کیا کہ مقامی آبادی سے متعلق استحصال کے بارے میں خبریں مبالغہ آرائی پر مبنی ہیں۔ کمیٹی کے مطابق تحقیقات سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ ’اس برفانی طوفان میں تمام ایڈمنسٹریٹو ریسکیو اور سپورٹ مشینری نے پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کے لیے نہ ہونے کے برابر کوشش کی۔‘

کن افسران کو معطل کیا گیا؟

یہ رپورٹ بدھ کو وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو پیش کی گئی۔ رپورٹ موصول ہونے کے بعد وزیر اعلیٰ نے ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا اور کہا کہ سانحہ مری کی وجوہات اورذمہ داروں کا تعین کرنے کیلئے اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس نے عرق ریزی سے سانحہ مری کے پس پردہ حقائق کا جائزہ لیا۔

ان کے مطابق یہ کمیٹی اس نتیجے پر پہنچی کہ متعلقہ حکام اپنے فرائض اور ’رسک‘ کا ادراک کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

وزیرِ اعلیٰ عثمان بزدار نے کہا کہ راولپنڈی کے کمشنر، ڈپٹی کمشنر، سی پی او، سی ٹی او، ڈی ایس پی ٹریفک اور اے ایس پی مری کو عہدے سے ہٹا کر انضباطی کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔

وزیراعلیٰ کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر مری کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے جبکہ ڈویژنل فاریسٹ آفیسر مری، ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر مری، انچارج مری ریسکیو 1122 اور ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے پنجاب کو معطل کر دیا گیا ہے۔

ان افسران کے خلاف اعلانات کے بعد وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ میں نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور آج ’قوم سے سانحہ مری کی شفاف انکوائری کا وعدہ پورا کیا ہے‘۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے این ڈی ایم اے کے بارے میں کیا کہا تھا؟

واضح رہے کہ اس واقعے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیر اعظم عمران خان کو حکم دیا تھا کہ وہ ایک ہفتے میں نیشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ کمیشن کا اجلاس طلب کر کے پنجاب کے تفریحی مقام مری میں 22 سیاحوں کی ہلاکت کے واقعے میں کوتاہی کے مرتکب افراد کی نشاندہی کریں۔

نیشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ کمیشن وزیرِ اعظم پاکستان کی زیرِ سربراہی کام کرنے والا وہ پالیسی ساز ادارہ ہے جو قدرتی آفات سے نمٹنے کے سلسلے میں حکمتِ عملی تیار کرنے کا ذمہ دار ہے۔ پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کا قومی ادارہ نیشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اسی ادارے کے تحت کام کرتا ہے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ تشکیل کے بعد سے اس کمیشن کے صرف دو اجلاس ہی منعقد ہوئے ہیں جن میں سے پہلا 2013 اور دوسرا 2018 میں ہوا تھا۔

Exit mobile version