ستارے : 20 جنوری اور مابعد

میری ماں اللہ بخشے ’’بڑا بول‘‘ بولنے سے گریز کی تلقین کیا کرتی تھیں۔ ان کی نصیحت کو نظر انداز کرتے ہوئے نہایت رعونت سے ’’ضعیف العتقادی‘‘ کا مذاق اُڑاتا رہا۔ عمر کے آخری حصے میں داخل ہونے کے بعد مگر نجومیوں کے بیان کردہ خدشات کو سنجیدگی سے لینا شروع ہوگیا ہوں۔یوٹیوب پر ان کی پیش گوئیوں کو اگرچہ وقت گزارنے کے لئے شغلاََ دیکھنا شروع کیا تھا۔

جنوری 2021کے آغاز میں نجومیوں نے خبردارکیا تھا کہ ابلاغ کا حاکم سیارہ-عطارد- برج دلو میں پہلے سے موجود مشتری کو مہمیز لگائے گا۔اس برج میں نظم وضبط لاگو کرنے کو مصر زحل بھی موجود ہے۔یہ حکمرانوں کو ریاستی جبر کے بھرپور استعمال پر بھی اُکساتا ہے۔ عطارد کی بدولت مگر میڈیا میں حکمران اشرافیہ کے خلاف سکینڈل بھری کہانیوں کا سیلاب امڈ آئے گا۔بہتر یہی ہے کہ ’’تخریبی کہانیوں‘‘ کوایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیں۔

مجھے ہرگز خبر نہیں کہ یہ عطارد کی وجہ سے ہوا یا نہیں۔اس ماہ کا آغاز ہوتے ہی مگر براڈشیٹ نامی کمپنی کا ایرانی نژاد سربراہ یا CEOلندن میں مقیم ایک پاکستانی صحافی کے یوٹیوب چینل پر نمودار ہوگیا۔مجھے اس صحافی سے شناسائی کا شرف حاصل نہیں ہوا۔ شنید مگر یہ ہے کہ وہ ایک ’’سینئر‘‘ صحافی ہیں۔’’اندر کی خبریں‘‘ ڈھونڈ نکالتے ہیں۔ ’’عدالت سے سزا یافتہ‘‘ نواز شریف برطانوی دارالحکومت میں بیٹھ کر جن ’’ملک دشمن سازشوں‘‘ میں مصروف ہیں ان سب کا تفصیلات سمیت سراغ بھی لگالیتے ہیں۔ 

حکومتِ پاکستان سے 28ملین ڈالر کی خطیر رقم بطور ’’تاوان‘‘ وصول کرلینے کے بعد ایرانی نژاد ’’جیمز بانڈ‘‘ نے اسی صحافی کو شریف خاندان کی مبینہ کرپشن کی ہوشرباداستانیں سنائیں۔ رونق لگ گئی۔بعدازاں لندن میں مقیم اس صحافی کے اتباع میں ہمارے ٹی وی چینلوں پر چھائے مقبول ترین اینکر خواتین وحضرات بھی براڈشیٹ کے سربراہ سے گفتگو کو مجبور ہوئے۔مجھ جیسے ڈنگ ٹپائو قلم گھسیٹتے شخص کو بھی کاوے موسوی کے بارے میں کئی بارلکھناپڑا۔

’’تاریخ ساز‘‘ اور سنسنی خیز انٹرویو کرتے ہوئے یوٹیوب چینل کے سینئر صحافی نے براڈشیٹ کے سربراہ کو ’’موساوی‘‘ پکارا۔میں ابھی تک طے نہیں کر پایا کہ وہ ’’موساوی‘‘ ہے یا ’’موسوی‘‘۔ فارسی کی واجبی شدبدھ اگرچہ ’’موسوی‘‘ پکارنے کی ترغیب دیتی ہے۔موصوف کے First Nameکے بارے میں بھی ذہن صاف نہیں ہوا ۔ ’’کاوکاوے سخت جانہائے…‘‘ سے شروع ہونے والے غالبؔ کا ایک مشہور شعر ہے۔ اُردو سکول میں نصاب کے لئے ’’لازمی‘‘ ہونے کی وجہ سے پڑھی ہے۔میٹرک کے بعد یہ زبان سیکھنے کے لئے کسی اُستاد سے رجوع کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ اسی باعث ابھی تک جان نہیں پایا ہوں کہ غالبؔ کا استعمال شدہ ’’کاوکاوے‘‘ اس کیفیت کو بیان تو نہیں کرتا جو عموماََ ’’ہائے ہائے‘‘ کے ذریعے مجھ جیسے کم علم بیان کرتے ہیں۔

لسانی عقدہ خواہ مخواہ ذہن میں آگیا۔بہرحال کاوے موسوی کے روایتی اور سوشل میڈیا پر بے شمار انٹرویو ہوئے ۔انہوں نے جو رونق لگائی بالآخر عمران حکومت کو برطانوی عدالت کا وہ فیصلہ عوام کے روبرو لانے کو مجبور ہوئی جس کے طفیل حکومتِ پاکستان کو ابھی تک 28ملین ڈالر ادا کرنا پڑے ہیں۔ ’’ابھی تک‘‘ میں اس لئے لکھنے کو مجبور ہوا ہوں کیونکہ اکثر مبصرین کا اصرار ہے کہ بالآخر ’’قومی خزانے‘‘ سے ہمیں براڈشیٹ والے قضیے کو ختم کرنے کے لئے مزید رقم ادا کرنا ہوگی۔ ہمارا دفاع کرنے والے وکلا کی فیس مثال کے طورپر 28ملین ڈالر میں شامل نہیں۔ عمومی تاثر یہ ہے کہ ’’کھایا پیا کچھ نہیں ‘‘کے بعد ’’گلاس توڑنے‘‘کی وجہ سے میرے اور آپ کے ادا کردہ ٹیکسوں سے بالآخر پانچ ارب پاکستانی روپے لندن منتقل ہوجائیں گے۔نجومیوں کا بیان کردہ عطارد المختصر ہمیں کافی مہنگا پڑے گا۔

عطارد نے تو اپنا ’’خراج‘‘ وصول کرلیا۔ نجومیوں نے اب بھی مگر جنوری 2021کی 20تاریخ سے ڈرایا ہوا ہے۔بتایا جارہا ہے کہ اس روز ہمہ وقت جنگ کو تیار مریخ  نامی آتشی سیارہ برج ثور میں یورینس نامی سیارے سے اس طرح ملے گا کہ ’’میں تے ماہی‘‘ کا ’’ٹچ بٹنوں‘‘ والی جوڑی کی طرح باہم مل جانے کا گماں ہوگا۔ان دونوں کا ملاپ برج دلو میں موجود زحل اور مشتری کو ترچھی نظروں سے بھی دیکھے گا۔ تاروں کا یہ ملن کسی چونکا دینے والی ’’انہونی‘‘ کی خبر بھی دیتا ہے۔ اللہ خیر کرے۔

20جنوری 2021تاہم میرے لئے اہمیت کی حامل بنیادی طورپر اس لئے ہوگی کہ اس روز جوبائیڈن نے امریکی صدر کے عہدے کا حلف اٹھانا ہے۔ امریکی تاریخ میں امریکی صدر کی حلف برادری کے دن واشنگٹن میں ہمیشہ بہت رونق دیکھنے کو ملی ہے۔ اب کے برس مگرہوکا عالم ہوگا۔وجہ اس کی کرونا کی وجہ سے نازل ہوئی ویرانی نہیں۔حقیقی سبب 6جنوری 2021کے روز ہوئے واقعات ہیں جب ٹرمپ کے جنونی حامیوں نے امریکی پارلیمان میں گھس کر اسے جوبائیڈن کی انتخابی جیت کی توثیق سے روکنے کی کوشش کی۔

امریکہ کے مقابلے میں پاکستان ایک نوزائیدہ جمہوریت شمار ہوتا ہے۔ہمارے ہاں بھی مگر اگست 2014میں جب عمران خان صاحب اپنے کینیڈا سے آئے ’’کزن‘‘ کے اسلام آباد لائے لشکر سمیت ’’دھاندلی‘‘ کی بدولت قائم ہوئی قومی اسمبلی کی عمارت تک پہنچ گئے تو اس میں داخل نہیں ہو پائے تھے۔ ’’گدھے‘‘ پر سوار نہ ہونے کی خفت پاکستانی ٹیلی وژن کی عمارت میں گھس کر مٹانے کی کوشش ہوئی۔ ’’قومی نشریاتی ادارے‘‘ کا رابطہ بقیہ دُنیا سے چند لمحوں کے لئے منقطع ہوگیا۔ٹی وی پر اس دھاوے کو ہمارے کئی بہت ہی مہذب شمار ہوتے انگریزی زبان کے مہا لکھاری تبصرہ نگاروں نے ’’انقلاب‘‘ پکارا۔ ان میں سے ایک لکھاری کی حال ہی میں عمران خان صاحب سے بنی گالہ میں ملاقات بھی ہوچکی ہے۔موصوف کی دانش انہیں مارچ میں سینٹ کی پنجاب سے خالی ہوئی نشستوں پر بطور ’’ٹیکنوکریٹ‘‘ منتخب ہونے کی راہ بھی نکال سکتی ہے۔

فی الوقت مگر جنوری 2021کی 20تاریخ پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔دُنیا کی ’’واحد سپرطاقت‘‘ شمار ہوتے امریکہ میں اس دن ہوکا عالم ہوگا۔مظاہرین کے خوف سے ’’دُنیا کی سب سے طاقت ور جمہوریت‘‘ میں جشن کا سماں بھی برپا نہیں ہوپائے گا۔نو منتخب صدر خوف کے سائے میں حلف اٹھاتا نظر آئے گا۔ واشنگٹن میں لاگو ہوئے حصار کے باوجود اس امر کی ضمانت دینے کو کوئی تیار نہیں کہ امریکہ کے دیگر شہروں میں بھی 20جنوری کے روز ٹرمپ کے جنونی حامی 6جنوری جیسے مناظر نہیں دہرائیں گے۔

کرونا اور سیاسی خلفشار کے خوف سے بھونچکا ہوئے امریکہ میں امید کی لوجگانے کے لئے جوبائیڈن نے اپنے اقتدار کے پہلے دس دنوں میں چند ایسے احکامات پردستخط کا ارادہ باندھ رکھا ہے جو فی الفور یہ پیغام دیں کہ ’’نیا دور‘‘ شروع ہوگیا ہے۔ٹرمپ کی Legacyکو سابق صدر کے اٹھائے چند اقدام کو منسوخ کرنے کے ذریعے ماضی کے کوڑے دان میں پھینکنے کی کوشش ہوگی۔یہ سوال اگرچہ اپنی جگہ برقرا رہے گا کہ ٹرمپ کیا محض ایک عجیب وغریب یااستثنائی شخصیت تھا جس نے اپنے تئیں امریکی ’’تشخص‘‘ کو مجروح کردیا۔ اس سوال کا سادہ انکار کی صورت جواب نہ دینا میرے لئے ممکن ہی نہیں ۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ وہ امریکہ کے سفید فام شہریوں کی اکثریت کے دلوں میں کئی دہائیوں سے موجود تعصبات کا بھرپور نمائندہ تھا۔ حالیہ انتخاب کے دوران اس نے 2016کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ پاپولر ووٹ حاصل کئے ہیں۔محض چند صدارتی احکامات پر دستخط اس کی بھڑکائی آتش کا ازالہ فراہم نہیں کرسکتے۔

20جنوری 2021کے امریکہ کی بابت غور کرتے ہوئے وطن عزیز کے نومبر1988کی یاد آگئی۔محترمہ بے نظیر بھٹو نے اس روز مسلم اُمہ کی پہلی خاتون وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھاتے ہوئے ’’تاریخ‘‘ بنائی تھی۔اکثر سوچنے کو مجبور ہوجاتاہوں کہ یہ مہینہ ہمارے لئے جنرل ضیاء کی چھوڑی Legacyسے نجات کی راہ بناپایا یا نہیں۔ا س ضمن میں بھی میرا جواب سادہ انکار کی صورت میں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *