سترہ سال بعد سیدو شریف ائیرپورٹ سوات کے لیے فضائی سروس شروع

حکومت کی جانب سے ملک کے شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے فروغ اور تجارتی سرگرمیاں بڑھانے کے لیے توجہ دی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں لگ بھگ 17 سال بعد وادی سوات کے سیدو شریف ہوائی اڈے کو فعال کر دیا گیا ہے اور آج یعنی جمعہ کے روز پہلی پرواز سیدو شریف کے ہوائی اڈے پر اترے گی۔

گذشتہ کچھ عرصے سے شمالی علاقہ جات کے ہوائی اڈوں کو فعال کر کے فضائی سروس شروع کی جا رہی ہیں تاکہ ان علاقوں میں سیاحت کو مزید بڑھایا جا سکے۔

سوات کا سیدو شریف ایئر پورٹ اس سلسلے کا چوتھا ائیرپورٹ ہے۔ اس سے پہلے سکردو، گلگت اور چترال کے ہوائی اڈوں کو فضائی سروس کے لیے بحال کیا گیا ہے۔

پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ہفتے میں دو پروازیں یہاں آپریٹ کریں گی۔

’پہلی پرواز آج جمعہ کے روز صبح 8 بجے لاہور سے براستہ اسلام آباد سوات جائے گی اور واپسی شام پانچ بجے ہو گی۔ اسلام آباد سے سوات تک کا کرایہ 6200 روپے جبکہ لاہور سے سوات کا کرایہ 7800 روپے مقرر کیا گیا ہے۔‘

اس فضائی سفر کے لیے پی آئی اے چھوٹے مسافر طیارے اے ٹی آر طیارے استعمال کرے گا۔

سیدو شریف

سوات اور قریبی علاقوں میں شدت پسندی اور پھر ان علاقوں میں فوجی آپریشنز کی وجہ سے سیدو شریف ایئر پورٹ کو سنہ 2004 میں بند کر دیا گیا تھا۔ اب حالات میں بہتری اور امن کا قیام ممکن ہونے کے بعد خطے میں تجارتی اور سیاحتی سرگرمیاں جاری ہیں۔

حکومت اب ملک میں سیاحت کے فروغ اور تجارتی سرگرمیاں بڑھانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور سوات کے لیے فضائی سروس دوبارہ شروع کر دی گئی ہے۔

ایئر پورٹ بند ہونے سے پہلے پروازیں کیسی تھیں؟

سوات کے لیے اسلام آباد اور پشاور سے پروازوں کی بندش سے پہلے پاکستان انٹر نینشل ایئر لائن پی آئی اے کے چیف پائلٹ کیپٹن عمران سہیل کوئی سات سال تک ان فضاؤں میں جہاز اڑاتے رہے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کے ساتھ بات چیت میں بتایا کہ وہ اس وقت فوکر طیارے کے پائلٹ تھے اور 1996 سے 2004 تک ان فضاؤں میں فوکر طیارے کے معاون پائلٹ اور پائلٹ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سیدو شریف ایئر پورٹ وادی سوات کے پہاڑوں میں گھرا ہوا ایک خوبصورت ایئر پورٹ ہے۔ انھوں نے اپنے ماضی کے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اسلام آباد اور پشاور سے پرواز لینے کے بعد جب طیارہ سوات کی حدود میں داخل ہونے سے پہلے پہاڑوں کو جیسے ہی عبور کرتا ہے تو منظر یکسر تبدیل ہو جاتا ہے میدانی علاقوں کے بعد پہاڑوں کے مناظر جہاں ہریالی زیادہ ہوتی ہے اور دریاؤں میں تیزی سے بہتا پانی خوبصورت نظر آتا ہے۔

کیپٹن عمران سہیل نے بتایا کہ وہ پہلے جب سوات، چترال اور گلگت کے لیے جاتے تو اس وقت مقامی سیاحوں کے علاوہ بڑی تعداد میں غیر ملکی سیاح بھی ان کے ہم سفر ہوتے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ ایک غیر ملکی جوڑے نے کاک پٹ میں آنے کی خواہش ظاہر کی تو اس وقت حالات بہتر تھے وہ کبھی کبھار مسافروں کو کاک پٹ میں آنے کی اجازت دے دیا کرتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس غیر ملکی مسافر جوڑے نے بتایا کہ وہ امریکہ سے آئے ہیں اور ان کی خواہش تھی کہ وہ پاکستان کے شمالی علاقے دیکھیں خاص طور پر گلگت کے شہر ہنزہ کو دیکھنے کا بہت شوق تھا۔

انھوں نے بتایا کہ غیر ملکی مرد نے اپنی اہلیہ کو شادی کی سالگرہ کے تحفے میں ہنزہ کی سیر کروائی تھی۔

سیاحت کا فروغ کیسے ہو گا؟

پروازوں کی بحالی سے علاقے پر مثبت اثرات پڑیں گے۔ خیبر پختونخوا کے سیکرٹری سیاحت عابد مجید نے بی بی سی کو بتایا کہ ان پروازوں کی بحالی سے نہ صرف یہ کے آنے والے لوگوں کو فائدہ ہو گا بلکہ سوات سے جانے والے افراد کو بھی فائدہ ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ بڑی تعداد میں لوگ وقت بچانے کے لیے فضائی سفر کو ترجیح دیتے ہیں اور جہاں لوگ بیرونی ممالک سے آئیں گے وہاں ملک کے جنوبی حصوں یعنی لاہور، کراچی، اسلام آباد، پشاور اور دیگر علاقوں سے لوگ آنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ فضائی رابطے سے سوات سے ٹراؤٹ مچھلی، اور پھل بھی پاکستان کے دیگر علاقوں تک پہنچائے جا سکیں گے اور اس سے تجارت بہتر ہو گی۔

انھوں نے کہا کہ چونکہ ابتدائی طور پر پروازیں ہفتے میں صرف دو دن ہو گی اور ایئر پورٹ بحال ہو چکا ہے تو ایڈوینچر سیاحت کے فروغ کے لیے ہلکے جہاز اور گلائیڈرز کی اجازت بھی دی جائے اور یہ تجویز وزیر اعلیٰ کو بھیجی جا چکی ہے۔

انھوں نے کہا کہ 20 سال پہلے کوہ پیمائی اور ٹریکنگ کا سلسلہ جو سوات میں رائج تھا اسے دوبارہ شروع کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ضروری نہیں ہر کوئی کے ٹو اور ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنا چاہتا ہے بلکہ کم صلاحیت والے لوگوں کے لیے سوات میں کوہ پیمائی اور ٹریکنگ کی سہولت فراہم کرنے کے لیے کام جاری ہے اور اس کے لیے لوگ ضرور ان علاقوں کا رخ کریں گے۔

تجارت پر کیا اثرات ہوں گے؟

سیاحت اور تجارت کے لیے کم وقت میں زیادہ فائدہ اٹھانے کا کلیہ استعمال کیا جاتا ہے اور جب سفر پر زیادہ وقت لگ جاتا ہے تو لوگ گھومنے پھرنے اور سیر کے لیے کم وقت لگاتے ہیں۔

سوات میں ہوٹل ایسوسی ایشن کے صدر احد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان پروازوں کی بحالی سے علاقے میں نہ صرف ہوٹل کی صنعت کو فائدہ ہو گا بلکہ دیگر تجاری سرگرمیاں بھی بڑھیں گی۔ انھوں نے کہا کہ سنہ 2004 میں جب فضائی سروس معطل کر دی گئی تھی تو اس وقت ایک تو شدت پسندی کی وجہ بتائی گئی تھی اور دوسری وجہ ایئر لائن کو خسارہ بتایا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ضروری نہیں تمام پروازیں فائدے کے لیے ہوں بلکہ بعض پروازیں علاقائی صورتحال کے تناظر میں جاری رکھی جا سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان پروازوں پر کرائے کم رکھے جائیں اور پروازوں کی تعداد بڑھائی جائے اور اس کے علاوہ حکومت سڑکوں کی تعمیر کی طرف بھی توجہ دے۔

زاہد خان نے بتایا کہ سوات اور قریبی علاقوں کے لوگ غیر ممالک میں کام کرتے ہیں اور ان پروازوں کی بحالی سے ان لوگوں کو بھی فائدہ ہو گا۔

ان کا کہنا تھا صرف ایک موٹر وے بننے سے اس سال سیاحت میں بہت اضافہ ہوا ہے اور تجارتی سرگرمیاں بھی بڑھی ہیں اور اب اگر یہ فضائی سروس بحال ہو رہی ہے تو اس سے مزید فوائد ہوں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: