ستمبر میں مہنگائی کی شرح 9 فیصد ریکارڈ

پاکستان شماریات بیورو (پی بی ایس) کے مطابق گزشتہ ماہ روپے کی قدر میں تیزی سے کمی اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں 3 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

 رپورٹ کے مطابق کنزیومر پرائس انڈیکس(سی پی آئی) کے ذریعہ افراط زر (مہنگائی) ستمبر میں اگست کے مقابلے میں 8.4 فیصد سے بڑھ کر 9 فیصد تک پہنچ گئی، اسی عرصے میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوا۔

رواں سال جنوری میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 40 ڈالر کے مقابلے میں 80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی۔

گزشتہ تین ماہ کے دوران سبزیوں، پھلوں اور گوشت کی قیمتوں میں بھی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔

جولائی تا ستمبر کے دوران اوسط افراط زر سالانہ بنیادوں پر بڑھ کر 8.58 فیصد ہو گیا، مہنگائی اپریل میں 11.1 فیصد تک بڑھنے کے بعد کم ہونا شروع ہوئی تھی جس کی بنیادی وجہ زرعی مصنوعات کی قیمتوں میں کمی تھی۔

2020-21 میں سالانہ سی پی آئی افراط زر 8.90 فیصد ریکارڈ کیا گیا جو کہ گزشتہ برس 10.74 فیصد تھا۔

گزشتہ دو برس سے چینی اور گندم کی کم پیداوار خوراک کی افراط زر میں اضافے میں ہوا جبکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا جس کی وجہ سے دیگر اشیا کی قیمتوںمیں میں غیرمعمولی اضافہ ہوا۔

اشیائے خور و نوش کی افراط زر اب بھی بلند سطح پر ہے کیونکہ شہری علاقوں میں یہ ستمبر میں سالانہ بنیادوں پر 10.8 فیصد اور ماہانہ بنیادوں پر 3.6 فیصد بڑھی جبکہ دیہی علاقوں میں متعلقہ قیمت کی سطح 9.1 فیصد اور 3.7 فیصد رہی۔

پی بی ایس کے اعداد و شمار کے مطابق اگست کے مقابلے میں ستمبر میں شہری علاقوں میں اشیائے خورونوش مثلاً مرغی 42.04 فیصد، پیاز 32.49 فیصد، دال مسور 15.70 فیصد، انڈے 14.43 فیصد، گندم کا آٹا 9.69 فیصد، گندم 7.31 فیصد، سرسوں کا تیل 4.56 فیصد، دال چنا 4.33 فیصد، سبزیاں 3.95 فیصد، دال ماش 3.81 فیصد، کوکنگ آئل 3.64 فیصد، پھلیاں 3.35 فیصد، سبزیوں کا گھی 3.20 فیصد، چینی 3.04 فیصد، چائے 2.78 فیصد، بیسن 2.37 فیصداور گوشت 2.20 فیصد مہنگا رہا۔

شہری علاقوں میں ٹماٹر کی قیمتوں میں 18.90 فیصد، دال مونگ میں 4.02 فیصد اور آلو میں 2.62 فیصد کمی دیکھنے میں آئی، دیہی علاقوں میں اشیا ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اسی طرح اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اس سے قبل وزیر خزانہ شوکت ترین نے خوراک کی قیمتوں میں اضافے کو کورونا وبا سے جوڑا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان گزشتہ 3 برس میں خوراک درآمد کرنے والا ملک بن چکا ہے۔

انہوں نے سابقہ حکومت پر زراعت کے شعبے کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا لیکن مہنگائی سے پریشان متوسط اور نچلے درمیانے طبقے پر خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات کو کم کرنے کا کوئی منصوبہ پیش نہیں کیا تھا۔

دریں اثنا شہری علاقوں میں خوارک کے علاوہ دیگر اشیا پر مشتمل افراط زر سال بہ سال 8.1 فیصد اور ماہانہ 1.1 فیصد ریکارڈ کیا گیا جبکہ دیہی علاقوں میں بالترتیب 8.5 فیصد اور ایک فیصد اضافہ ہوا۔

غیر خوراکی افراط زر میں اضافہ بنیادی طور پر ستمبر میں تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافے کی وجہ سے ہوا۔

error: