سدھو موسے والا: مانسا کا شبھ دیپ سپرسٹار کیسے بنا؟

انڈیا کے پنجابی زبان کے معروف گلوکار سے سیاستدان بننے والے سدھو موسے والا کو مانسا میں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔ مانسا کے ایس ایس پی گورو تورا نے سدھو موسے والا کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے جسم پر چار مقامات پر گولیوں کے نشانات پائے گئے ہیں۔

دوسری جانب مانسا کے سول سرجن ڈاکٹر رنجیت رائے نے بھی میڈیا کو بتایا کہ سدھو کی ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی موت ہو چکی تھی۔

سدھو موسے والا نے دسمبر 2021 میں سیاست میں قدم رکھا تھا اور سنہ 2022 میں ہونے والے پنجاب اسمبلی کے انتخابات میں انھوں نے مانسا حلقہ سے کانگریس کے امیدوار کے طور پر الیکشن لڑا۔ مگر اس الیکشن میں وہ عام آدمی پارٹی کے امیدوار وجے سنگلا سے ہار گئے تھے۔

اُن کے گانے یوٹیوب پر لاکھوں کی تعداد میں دیکھے جا چکے ہیں۔ اُن کے چند معروف گیتوں میں شامل ہیں:

'سڈا چلدا ہے دھکا، اسی تاں کر دے۔۔۔

'گبھرو تے کیس جیہاڑا سنجے دت تے۔۔۔

'ڈولراں وانگو نی نام سڈا چلداں، آسیں پت ڈاکواں دے۔۔۔'

اس قسم کے کئی ہٹ گیت گانے والے پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کی گیتوں کے ذریعے گن کلچر کو فروغ دینے والے کے طور پر پہچان تھی۔

موسے والا
،تصویر کا کیپشنموسے والا کی میت کو ہسپتال سے گھر منتقل کیا جا رہا ہے

سدھو موسے والا کو تین دسمبر 2021 کو اس وقت کے پنجاب کانگریس کے صدر نوجوت سنگھ سدھو اور اس وقت کے پنجاب کے وزیر اعلیٰ چرنجیت سنگھ چنی کی موجودگی میں پارٹی میں شامل کیا گیا تھا۔

کانگریس میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے سدھو موسے والا نے کہا تھا کہ ’میں نے آج سے تین، چار سال پہلے موسیقی شروع کی تھی۔ آج چار سال بعد، میں اپنی زندگی میں ایک نیا قدم اٹھانے جا رہا ہوں، ایک نیا پیشہ، ایک نئی دنیا، یہ میری شروعات ہے۔‘

’میرا تعلق گاؤں سے تھا، ہم عام گھرانوں کے لوگ ہیں، میرے والد فوج میں رہ چکے ہیں، بھگوان نے بہت ترقی دی ہے اور ہم اب بھی اسی گاؤں میں رہ رہے ہیں۔ کانگریس میں شامل ہونے کی یہ ایک بڑی وجہ ہے۔ پہلی بات پنجاب کانگریس ہو یا کانگریس، اس میں ایسے لوگ ہیں جو عام گھروں سے آئے ہیں، وہ محنت کے ساتھ اپنی آواز بلند کر سکتے ہیں۔‘

کانگریس میں شمولیت
،تصویر کا کیپشنکانگریس میں شمولیت کے موقع پر

گاؤں سے ابتدا

تقریباً چار سال قبل پنجابی انٹرٹینمنٹ کی دنیا میں آنے والے شبھ دیپ سنگھ سدھو جلد ہی سدھو موسے والا کے نام سے مشہور ہو گئے۔

ہوا کچھ یوں کہ ایک بار ایک چینل کے میزبان ان کے کالج کے کیمپس میں طلبا سے بات کر رہے تھے کہ شبھ دیپ سنگھ عرف سدھو موسے والا ہجوم سے باہر نکلے اور میزبان سے فرمائش کی کہ انھیں گانے کا موقع دیا جائے۔

اینکر نے سدھو سے ان کا نام پوچھا، سدھو نے اپنا نام شبھ دیپ سنگھ سدھو بتایا، اینکر نے پھر پوچھا۔ انھوں نے پھر کہا: شبھ دیپ سنگھ سدھو۔

شبھ دیپ نے اس موقع پر کیمپس میں ایک گانا گایا اور سب طلبا نے اُن کی پزیرائی کرتے ہوئے تالیاں بجائیں۔

یہ وہ وقت تھا جب انھیں اپنے بارے میں بتانا پڑتا تھا لیکن ایک وقت ایسا آیا جب وہ سدھو موسے والا کے نام سے مشہور ہو گئے۔ ویسے سدھو موسے والا ضلع مانسا کے گاؤں موسا کے رہنے والا تھے۔

سدھو موسے والا کی مقبولیت میں سنہ 2018 میں اس وقت اضافہ ہوا جب گن کلچر سے متعلق ان کے کئی گانے سامنے آئے۔ سدھو موسے والا کی والدہ چرنجیت کور موسا گاؤں کی سرپنچ ہیں۔ سرپنچ کے انتخابات کے دوران سدھو موسے والا نے اپنی والدہ کی کامیابی کے لیے بھرپور مہم چلائی۔

سدھو موسے والا نے سردار چیتن سنگھ سروہتکاری ودیا مندر مانسا سے 12ویں جماعت تک نان میڈیکل کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد انھوں نے گریجویشن کیا اور بعد میں کینیڈا میں ایک سالہ ڈپلومہ بھی کیا۔

موسے والا
،تصویر کا کیپشنموسے والا کی والدہ ہسپتال میں بیٹے کی موت کا نوحہ کرتے ہوئے

سدھو موسے والا کے گیت اور فلمیں

سدھو موسے والا کے کئی گانے سپر ہٹ ہوئے۔ یوٹیوب پر ان کے ’ہائی‘، ’دھکا‘، ’اولڈ سکول‘، ’سنجو‘ جیسے گانے لاکھوں بار دیکھے جا چکے ہیں۔

ان گیتوں کے ذریعے گن کلچر کو مبینہ طور پر فروغ دینے کے الزام میں موسے والا کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور ان پر مقدمہ چلایا گیا۔

گلوکار کے طور پر سکہ جمانے کے بعد سدھو نے فلموں میں بھی قدم رکھا۔

موسے والا نے ’یس آئی ایم سٹوڈنٹ‘، ’تیری میری جوڑی‘، ’گناہ‘، ’موسی جٹ ہے‘ اور ’جٹ دا منڈا گون لگا‘ جیسی فلموں میں کام کیا۔

سدھو موسے والا کے گانوں کو بالی وڈ میں بھی پسند کیا جا رہا ہے۔ فلم سٹار رنویر سنگھ اور وکی کوشل نے بھی سدھو کے گانوں کی کہانیاں سوشل میڈیا پر شیئر کی ہیں۔

سدھو موسے والا
،تصویر کا کیپشنسدھو موسے والا

سدھو موسے والا پر مقدمات اور تنازعات

ویسے سدھو موسے والا کا نام تنازعات سے بھی جڑا تھا۔

فائرنگ کرتے ہوئے ان کی دو ویڈیوز وائرل ہوئیں۔ ان میں سے ایک ویڈیو میں سدھو موسے والا مبینہ طور پر برنالہ کے فائرنگ رینج میں رائفل سے فائرنگ کر رہے ہیں۔ مئی 2020 میں سنگرور اور برنالہ میں سدھو موسے والا سمیت نو لوگوں کے خلاف اس واقعے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

ایک دوسری ویڈیو میں سدھو موسے والا سنگرور کے لڈا کوٹھی رینج میں پستول سے فائرنگ کرتے نظر آ رہے ہیں۔ دونوں ویڈیوز لاک ڈاؤن کے وقت کی ہیں۔ پولیس نے پہلے ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ کے تحت ان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا اور بعد ازاں دونوں مقدمات میں آرمز ایکٹ شامل کر دیا گیا۔

اس سے قبل فروری 2020 میں موسے والا کے خلاف مانسا پولیس نے اسلحہ کے کلچر کو فروغ دینے کا مقدمہ درج کیا تھا۔

اس کے بعد سدھو موسے والا اپنے گانے ’گبھرو تے کیس جڑا سنجے دت تے‘ سے تنازع میں گِھر گئے۔ اس گانے کی وجہ سے پنجاب کرائم برانچ نے ان کے خلاف بندوق کی ثقافت اور تشدد کو فروغ دینے کے لیے آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔

16 جولائی 2020 کو ریلیز ہونے والے ’سنجو‘ کے عنوان والے گیت میں سدھو نے آرمز ایکٹ کے تحت اپنے خلاف درج مقدمے کا بالی وڈ اداکار سنجے دت کے خلاف مقدمے سے موازنہ کیا۔

اولمپک شوٹر اور سینیئر پولیس افسر اونیت کور سدھو نے بھی اپنے فیس بک اکاؤنٹ کے ذریعے سدھو موسے والا کو مشورہ دیا تھا۔

اونیت نے اپنی فیس بک پوسٹ میں لکھا تھا: ’سدھو موسے والا نے حالیہ دنوں میں جو گانا پیش کیا ہے، اس میں وہ خود کو سنجے دت کے ساتھ جوڑ رہے ہیں۔ وہ اپنے خلاف مقدمات کو بڑے فخر کی بات سمجھتے ہیں۔ گانے میں سدھو کہہ رہے ہیں کہ جس پر کوئی کیس درج ہے بس وہی آدمی ہے، باقی ایسے ویسے ہی ہیں۔۔۔‘

سنجے دت
،تصویر کا کیپشنبالی وڈ اداکار سنجے دت کے خلاف بھی آرمز ایکٹ کے تحت مقدمہ چلا تھا اور سدھو موسے والا نے ایک گانے میں اپنا تقابل ان ہی سے کیا

کانگریس پارٹی میں شامل ہونے کے بعد اس وقت کے پنجاب کانگریس کے صدر نوجوت سنگھ سدھو سے صحافیوں نے سدھو موسے والا کے گن کلچر کو مبینہ طور پر فروغ دینے والے گانوں کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا کہ ’یہ فیصلہ پنجاب کے عوام کریں گے۔‘

ان کے خلاف مقدمات کے حوالے سے نوجوت سدھو کا کہنا تھا کہ ’سمجھیں کہ کیس ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ شخص قصوروار ہے، میرے خلاف کیس ہوا پھر بھی لوگوں نے چھ الیکشن جتوائے۔‘

فروری 2020 میں ایک سٹیج شو کے دوران سدھو موسے والا نے کہا تھا: ’کیا آج تک میرے کسی گانے میں منشیات کا ذکر ہے؟ ویب سیریز میں ہونے والے تشدد کو دیکھیں۔ آپ بھی گانا بند کریں، لائسنس دینا بند کریں، ٹھیکہ دینا بند کریں۔‘

موسے والا کورونا وائرس کی وبا کے دوران بھی سرخیوں میں آ گئے تھے۔ انھوں نے اس پہلو کو اپنے ایک گانے میں استعمال کیا تھا۔دراصل شہید بھگت سنگھ نگر ضلع میں بنگا کے قریب واقع گاؤں پاٹھلاوا مارچ 2020 میں اچانک سرخیوں میں آیا تھا۔

گاؤں 18 مارچ کے بعد چرچا میں آیا جب ایک 70 سالہ شخص کی اچانک موت ہو گئی۔ موت کے بعد پتہ چلا کہ وہ کورونا وائرس کی زد میں تھے۔ اس کے بعد پورے گاؤں کو سیل کر دیا گیا۔

اپنے گانے میں موسے والا نے گاؤں کو پنجاب میں کورونا وائرس کے مرکز کے طور پر پیش کیا۔ اس گانے کو پنجاب کے اس وقت کے ڈی جی پی دنکر گپتا نے بھی اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے شیئر کیا تھا۔

پاٹھلاوا گاؤں کے لوگوں نے اس گانے پر ناراضگی کا اظہار کیا اور ان پر گاؤں کو بدنام کرنے کا الزام لگایا۔ گاؤں والوں نے اس وقت کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ کو ایک خط بھی لکھا۔

سدھو موسے والا
،تصویر کا کیپشنسدھو موسے والا

پنجاب پولیس کی مہم کا حصہ

لاک ڈاؤن کے دوران سدھو موسے والا بھی پنجاب پولیس کی ڈاکٹروں کو عزت دینے کی مہم کا حصہ تھے۔ اپریل میں انھوں نے پنجاب پولیس کے ساتھ مانسا کے ایک ڈاکٹر کی سالگرہ منائی۔

ویسے تو سدھو موسے والا کی مخالفت کے ساتھ ساتھ بہت تعریف بھی ہوئی لیکن جب نوجوت سدھو تین دسمبر کو دہلی میں سدھو موسے والا سے ملاقات کے بعد باہر آئے تو انھوں نے کہا تھا کہ ’بھائی (راہل گاندھی) نے سدھو موسے والا کی بہت تعریف کی ہے۔ سدھو موسے والا کے گانے لاکھوں میں دیکھے سنے جاتے ہیں۔ مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ ان میں کتنے زیرو ہیں۔ وہ ایک راک سٹار ہیں۔ بھائی اب سیاست دان بن گئے ہیں۔‘

بہر حال موسے والا سیاست میں اپنے قدم جماتے اس سے پہلے ہی دن دیہاڑے انھیں قتل کر دیا گیا اور ان کے قتل کی وجہ پولیس کی تفتیش کے بعد ہی معلوم ہو سکے گی۔