سرباز خان، دنیا کی ساتویں بلند ترین چوٹی سَر کرنے والے پہلے پاکستانی بن گئے

پاکستانی کوہ پیما سرباز خان، نیپال میں واقع دنیا کی ساتویں بلند ترین چوٹی، ماؤنٹ دہولاگری سَر کرنے والے پہلے پاکستانی بن گئے۔

الپائن کلب آف پاکستان نے فیس بک پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے سر باز خان کے کامیابی سے 8 ہزار 167 میٹر بلند چوٹی سَر کرنے سے متعلق بتایا۔

دوسری جانب الپائن کلب آف پاکستان کے سیکریٹری کرار حیدری نے ایک فیس بک پوسٹ میں بتایا کہ سرباز خان نے کامیابی سے دنیا کی 9 چوٹیاں جو 8 ہزار میٹر سے زیادہ بلند ہیں، سر کرلی ہیں۔

علی آباد، ہنزہ سے تعلق رکھنے والے سرباز خان نے اپنے پہاڑ سر کرنے کے ماہرانہ کیریئر کا آغاز 2016 میں کیا تھا، وہ نذیر صابر (ایورسٹ پر چڑھنے والے پہلے پاکستانی) اور اشرف امان (کے ٹو کی چوٹی پر پہنچنے والے پہلے پاکستانی) سے متاثر ہیں۔

2019 میں سرباز خان بغیر اضافی آکسیجن کے استعمال کے لہوٹسے پہاڑ کو سر کرنے والے پہلے پاکستانی بنے تھے جو نیپال میں 8 ہزار 516 میٹر اونچی دنیا کی چوتھی بلند ترین چوٹی ہے۔

پہاڑوں کو سر کرنے کی 4 مہمات میں وہ محمد علی سدپارہ کے ہمراہ تھے، ان کی ایک ساتھ آخری مہم نیپال میں مناسلو تک تھی۔

وہ دنیا کی 8 ہزار میٹر بلند تمام 14 چوٹیاں سر کرنے والے پہلے پاکستانی بننا چاہتے ہیں۔

سر باز خان نے 2017 میں 8125 میٹر بلند نانگا پربت، 2018 میں 8611 میٹر بلند کے -ٹو، 2019 میں 8047 میٹر بلند براڈ پیک، 8163 میٹر بلند مناسلو، اور 8156 میٹر بلند لہوٹسے کو سر کیا۔

علاوہ ازیں رواں برس 2021 میں انہوں نے 8091 میٹر بلند اناپورنا، 8848 میٹر بلند ماؤنٹ ایورسٹ، 8035 میٹر بلند گشربرم 2 اور اب 8167 میٹر بلند دہولاگری کو سر کیا ہے۔

error: