سر کی چوٹ نے ہزاروں جانیں بچانے والے سرجن کی شخصیت کو کیسے بدلا؟

سٹیفن ویسٹابے نے اب تک تقریباً 12 ہزار افراد کے دلوں کا آپریشن کیا ہے اور ایک اندازے کے مطابق انھوں نے 97 فیصد مریضوں کی زندگیاں بچائی ہیں۔

یہ امر خود میں متاثر کن ہے لیکن 73 سال کے ویسٹابے ہارٹ پمپ بنانے اور اس کے پیچیدہ استعمال میں مدد دینے، مصنوعی دل اور جسم میں خون سپلائی کرنے والے نظام کو تیار کرنے میں مدد دینے کے لیے بین الاقوامی سطح پر جانے جاتے ہیں اور انھیں اس کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ اگر انھیں 18 برس کی عمر میں ذاتی حیثیت میں دھچکہ نہ پہنچا ہوتا تو شاید ان کا پیشہ وارانہ کیرئیر مختلف ہوتا۔ حالانکہ وہ ہمیشہ سے اپنے اس پیشے کے متعلق واضح تھے۔

ویسٹابے اپنے بچپن سے ہی جانتے تھے کہ وہ زندگی میں کیا کرنا چاہتے ہیں جب وہ سات برس کی عمر سے ہی ایک ٹی وی شو سے متاثر تھے۔

دادا کی بیماری

ان کے عزیز داد کی بیماری اور تکلیف دہ موت نے ان کے اس ارادے کو مزید پختہ کر دیا۔

انھوں نے بی بی سی آؤٹ لک پروگرام سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ایک دن وہ اپنے دادا کے ساتھ کتے کو سیر کروا رہے تھے کہ اچانک ان کے دادا نے اہنے سینے پر ہاتھ رکھا اور وہ زمین پر گر گئے۔ پھر آدھے گھنٹے بعد وہ زمین سے اٹھے اور ہم گھر واپس آ گئے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’اس وقت ہمیں یہ علم نہیں تھا کہ انھیں دل کا دورہ پڑا ہے۔ پھر میں نے انھیں ایک کے بعد ایک دل کا دورہ پڑتے دیکھا اور پھر ان کی حالت مزید بگڑتی چلی گئی اور وہ ہارٹ فیلیئر (دل کی خرابی) کا شکار ہو گئے اور ان کی صحت بہت خراب ہو گئی۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ’بالآخر ایک دن میں سکول سے گھر واپس آیا تو میں نے اپنے دادا کے گھر کے باہر ڈاکٹر کی کار کھڑی دیکھی۔ میں چپکے سے گھر میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ میرے دادا کو سانس لینے میں دشواری تھی اور ان کی موت ہو گئی۔‘

یہ وہ ہی دادا تھے جو یہ سمجھتے تھے کہ ان کے پوتا بڑا ہو کر ایک اچھا سرجن بننے کی اہلیت رکھتا ہے۔

’انھیں احساس ہو گیا تھا کہ میں اپنے دونوں ہاتھ بیک وقت مساوی طور پر استعمال کر سکتا ہوں، انھوں نے مجھے پینٹ کرنا سکھایا اور دیکھا کہ میں اپنے دونوں ہاتھوں سے خاکہ نویسی کر سکتا تھا۔‘

حالانکہ وہ دائیں ہاتھ سے کام کرتے تھے لیکن وہ قلم، برش اور (آخر کار سرجیکل آلات) اپنے دوسرے ہاتھ سے بھی استعمال کر سکتے تھے۔ اس خصوصیت اور دونوں ہاتھوں سے ڈرائینگ کرنے کی غیر معمولی قابلیت نے وہ بننے میں مدد دی جو وہ چاہتے تھے۔

رگبی

شرمیلا پن

لیکن ان کی شخصیت کا ایک پہلو تھا جو اس راہ میں رکاوٹ تھا اور یہ ایک بڑا مسئلہ تھا اور وہ مسئلہ تھا ان کی شخصیت کا شرمیلا پن۔ ویسٹابے نے برطانوی اخبار ڈیلی میل کے ایک مضمون میں وضاحت کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’سرجن بننے کے لیے ایک خاص مزاج کی ضرورت ہوتی ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’آپ مریض کے سوگوار اہلخانہ کو موت کی وجہ بتانے کے قابل ہونا چاہیے، آپ میں اتنی جرت ہونی چاہیے کہ دوران سرجری جب آپ کا سنیئر تھک جائے تو آپ اس سے کام اپنے ہاتھ میں لے لیں، آپ میں اتنی ہمت ہونی چاہیے کہ آپ چھوٹے بچوں کی آپریشن کے بعد دیکھ بھال کا بیڑہ اٹھا سکیں یا آپریشن تھیٹر میں مریضوں کی سرجری کے دوران ٹراما اور مشکلات کا سامنا کر سکیں۔‘

وہ بتاتے ہیں ’لیکن میں ایک شرمیلا، انکسار پسند اور اپنے ذات میں ہی رہنے والا وہ بچہ تھا جو اپنے سائے سے بھی خوفزدہ تھا۔‘

لہذا جب انھیں دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں سے ایک کیمبرج میں تعلیم حاصل کا موقع ملا تو انھیں نے یہ سوچ کر منع کر دیا کہ وہ وہاں ایک اجنبی ہوں گے۔‘

انھوں نے اس کی بجائے لندن کے چیئرنگ کراس میڈیکل سکول میں پڑھنے کا فیصلہ کیا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ وہاں پر کسی کی ان پر توجہ نہیں ہو گی۔

پہلے پہل تو ان کی یونیورسٹی کی زندگی کسی خرابی یا بہتری کے بغیر گزری۔ اس دوران انھوں نے وہاں رگبی کھیلنا سیکھی جس نے ان کی زندگی تبدیل کر دی۔

رگبی کھیلتے ہوئے چوٹ لگنا

’سنہ 1968 میں ہم رگبی کھیلنے ٹور پر گئے تھے۔ موسم سرما میں ایک سرد دن پر ہم کورنوال کی سخت ٹیم کے خلاف کھیل رہے تھے کہ مجھے سر پر چوٹ لگی جس سے میرے ماتھے کی ہڈی ٹوٹ گئی۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ’چینجنگ روپ میں سر پر چوٹ اور ہڈی ٹوٹنے کے باعث مجھے تارے نظر آ رہے تھے لیکن میرے ٹیم کے ساتھی جو میڈیکل سٹوڈنٹس بھی تھے مجھے ہسپتال لیجانے کی بجائے پب لے گئے۔ بیئر کے چند گلاس پینے اور بے ہوش ہو کر گرنے کے بعد اگلے دن میں بہت بیمار اٹھا تھا۔‘

اب انھوں نے ویسٹابے کو ہسپتال بھیجا تھا۔ اس وقت وہ نہ صرف رگبی ٹور سے محروم ہو گئے تھے بلکہ ان کا میڈیکل کیرئیر بھی ختم ہونے کے خطرہ تھا۔ لیکن اس واقعے نے حیران کن طور پر ان کی شخصیت پر ایک مختلف اثر مرتب کیا۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’ہسپتال میں پہلی رات مجھ جیسے شرمیلے لڑکے نے میرا خیال رکھنے والی نرس کے ساتھ فلرٹ کیا۔‘

جب ہسپتال کا عملہ ان کی دیکھ بھال کرنے اور مرہم پٹی کے لیے آتا تو وہ غصے سے ردعمل دیتے، ایسا انھوں نے پہلے کبھی نہیں کیا تھا۔ ان کی شخصیت میں کچھ بدل چکا تھا۔

ویسٹابے

بے خوف اور نڈر

ان کے سر کے ایکسرے سے یہ بات سامنے آئی کے ان کی کھوپڑی کے اگلے حصے کی ہڈی تھوڑی سے ٹوٹ گئی تھی۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’سر پر پہنچے والی چوٹ اور ضرب نے میرے دماغ کے اس حصے کو متاثر کیا تھا جو تنقیدی سوچ اور خطرے سے بچنے کے لیے ذمہ دار تھا۔ یہ چوٹ میرے شرمیلے پن میں کمی، چڑچڑاپن اور کبھی کبھار غصے کی وجہ بن کی سامنے آئی تھی۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’ماہر نفسیات کے ٹیسٹ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ’سائکوپاتھ پرسنالٹی انونٹری‘ کہلائے جانے والی طبی جانچ میں، میں نے سب سے زیادہ سکور کیا تھا اور ماہرین نفسیات نے بتایا کہ پریشان نہ ہوں کیونکہ اکثر زیادہ کامیابی حاصل کرنے والے سائکوپاتھ ہوتے ہیں۔ خاص طور پر سرجنز۔‘

’یہ توقع تھی کہ جب دماغ پر لگنے والی چوٹ کی سوجن کم ہو گی تو یہ سب کچھ واپس معمول پر چلا جائے گا لیکن خوش قسمتی سے میرے ساتھ ایسا نہ ہوا۔‘

’اس کے بعد اچانک سے میں اپنے میڈیکل سکول کا سوشل سیکرٹری بن گیا جو ہپستالوں میں ڈانسز منقعد کرواتے تھے، اور اس کے کچھ عرصے بعد ہی میں رگبی اور کرکٹ ٹیم کا کپتان بھی بن گیا۔‘

’مجھے اس کے بعد ذہنی دباؤ یا تناؤ محسوس نہیں ہوتا تھا اور عادتاً ایک خطرہ مول لینے والا شخص بن گیا، ایک ایسا ایڈرینالین جنکی جو مسلسل جوش و خروش کی خواہش رکھتا تھا۔ مختصراً، سر کی چوٹ کی وجہ سے میری شخصیت بے خوف اور مسابقتی بن گئی تھی۔‘

ویسٹابے کے پاس اب ایک کامیاب سرجن کی تمام خصوصیات موجود تھی، ہم آہنگی، دونوں ہاتھوں سے کام کرنے کی مہارت اور جرات۔

وہ کہتے ہیں کہ ’آخری چیز جو آپ چاہتے ہیں وہ ایک بے خوف سرجن۔‘

سرجری

میکنیکل دل

ویسٹابے اگلی چار دہائیوں تک دل کے سرجن کے طور پر کام کرتے ہوئے زندگی اور موت کی تناؤ والی صورتحال میں رہے۔ دیگر چیزوں کے ساتھ ساتھ انھوں نے بچوں کی سرجری کے پیچیدہ اور مشکل کام میں مہارت حاصل کر لی اور انھوں نے ایک دل کی سرجری کا ایک ایسا طریقہ کار نکالا جس میں انتہائی نگہداشت کی ضرورت نہیں تھی۔

لیکن ایک ایسی چیز تھی جس نے انھیں حیران کر رکھا تھا، مصنوعی دل کا ممکنہ استعمال۔ وہ کہتے ہیں کہ ’آپ لوگوں کو ہارٹ فیلیئر سے نکلنے میں مدد دے سکتے ہیں لیکن دل کا ٹرانسپلانٹ بہت ہی کم ہے۔ اس کے لیے آپ کو انتظار کرنا پڑتا ہے کہ کوئی مرے اور آپ کو اپنا جسمانی اعضا عطیہ کرے۔‘

’میں ہمیشہ سوچتا تھا کہ اس کا کوئی بہتر طریقہ کار ہونا چاہیے، کوئی میکنیکل حل لیکن مصنوعی دل بہت بڑے، موٹے اور غیر حقیقی تھے۔ سنہ 1993 میں ایک دن میں ایک روبرٹ جاروک نامی انجینئر سے ملا جو مصنوعی دل پر کام کر رہا تھا۔‘

یہ اس شراکت داری کا آغاز تھا جس نے دل کی سرجری میں ایک نئی جدت پیدا کر دی اور اس کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا تھا۔

جاروک نے ایک ایسا پمپ تیار کیا تھا جو انسانی جسم میں خون سپلائی کرتا لیکن اس کو یہ علم نہیں تھا کہ وہ اس کو مسلسل کیسے چلائے رکھے۔ یہاں پر ڈاکٹر ویسٹابے کا تجربہ کام آیا۔ انھوں نے مل کر جاروک 2000 نامی ایک بہت ہی چھوٹی بیٹری سے چلنے والی ٹربائین تیار کی۔

پروگرام

جس شخص کو پہلی مرتبہ جاروک 2000 ٹربائن لگائی گئی وہ ایک 59 سال کے پیٹر ہوگٹن نامی شخص تھے۔

ویسٹابے کو آکسفورڈ ریسرچ لیبارٹری میں بتایا گیا کہ صرف وہ ہی اس مریض میں وہ آلہ لگا سکتے ہیں جس کی زندگی صرف چند ہفتے متوقع تھی۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’جب اس مریض کو وہیل چیئر پر بٹھا کر میرے دفتر لایا گیا تو اس وقت اس کے ٹخنوں پر سوزش تھی، اس کے ہونٹ نیلے تھے، اس کا پیٹ پھولا ہوا تھا، اس مریض نے مجھے میرے دادا کی یاد دلائی جن کر موت سے پہلے ایسی ہی حالت تھی اور میں اس وقت ان کی مدد کرنے کے لیے بہت بے چین تھا۔‘

اس آپریشن کے بعد پیٹر آٹھ سال تک زندہ رہے، یہ اس وقت مصنوعی دل لگنے والے کسی بھی شخص سے زیادہ زندہ رہنے کا دورانیہ تھا۔

اس دوران ویسٹابے کو شہرت مل رہی تھی اور یہ شہرت صرف طبی حلقوں میں نہیں تھا بلکہ سنہ 2004 میں انھیں ایک فون کال موصول ہوئی جو انھیں ماضی میں لے گئی۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’یہ کال کسی ٹی وی پروڈیوسر کی تھی جو میرے ساتھ ایک ’آپ کی زندگی ان کے ہاتھ‘ نامی پروگرام کرنا چاہتے تھے۔ میں نے خود ہی انھیں بتایا کہ میں اس نے بات کرنے کے لیے تیار ہوں کیونکہ میں یہ شو اس وقت دیکھتا تھا جب میں سات سال کا تھا۔‘