سعودی عرب، پاکستان کیلئے دوبارہ 3 ارب ڈالر کے مالی تعاون پر رضامند

سعودی عرب، پاکستان کے لیے اپنا مالیاتی تعاون دوبارہ شروع کرنے پر رضامند ہوگیا جس میں محفوظ ذخائر میں 3 ارب ڈالر اور مؤخر ادائیگیوں پر ایک ارب 20 کروڑ سے ایک ارب 50 کروڑ ڈالر مالیت کے تیل کی فراہمی شامل ہے۔

 رپورٹ کے مطابق ایک سینئر حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ اس سلسلے میں ایک سمجھوتہ وزیراعظم کے دورہ سعودی عرب کے دوران طے پایا۔

تاہم اس کا باضابطہ اعلان وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ شوکت ترین اور وزیر توانائی حماد اظہر آج (بدھ) ایک نیوز کانفرنس میں کریں گے۔

البتہ رات گئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ایک ٹوئٹ میں اس پیش رفت کی تصدیق کی۔

انہوں نے کہا کہ ’سعودی عرب کی جانب سے رواں برس 3 ارب ڈالر کے ذخائر مرکزی بینک میں جمع کروانے اور ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کی فنانسنگ سے پاکستان کی مدد کا اعلان کیا گیا ہے‘۔

قبل ازیں ایک عہدیدار نے بتایا تھا کہ سعودی حکومت، پاکستان کے اکاؤنٹ میں ایک سال کے لیے فوری طور پر 3 ارب ڈالر کی رقم جمع کروائے گی اور اکتوبر 2023 میں آئی ایم ایف پروگرام کی تکمیل تک اسے رولنگ میں رکھے گی۔

توقع ہے کہ اس سہولت سے پاکستان کو آئی ایم ایف کو اپنے فنانسنگ پلان کے بارے میں قائل کرنے میں مدد ملے گی۔

اس کے علاوہ سعودی حکومت، اسلام آباد کو ڈیڑھ ارب ڈالر سالانہ کی مؤخر ادائیگیوں پر خام تیل فراہم کرے گی۔

اس سے قبل سعودی عرب نے 2018 میں زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے میں مدد کے لیے پاکستان کو 3 ارب ڈالر کی نقد رقم فراہم کی تھی اور 3 ارب ڈالر کی تیل کی سہولت فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

تاہم جب بعد میں باہمی تعلقات میں سردمہری آئی تو اسلام آباد کو 3 میں سے 2 ارب ڈالر کے ذخائر واپس کرنے پڑے تھے۔

رواں برس جون میں ایک نیوز کانفرنس میں بتایا گیا تھا کہ سعودی عرب نے سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالر کے تیل کی سہولت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

تین ماہ بعد اس وقت کے وزیر خزانہ شوکت ترین نے دعویٰ کیا تھا کہ مؤخر ادائیگیوں پر سعودی تیل کی سہولت کے لیے ایک اور معاہدہ طے پا گیا ہے اور اس کا باضابطہ اعلان دو سے تین روز میں کر دیا جائے گا۔

تاہم اسلام آباد کے امریکی حکام اور آئی ایم ایف سے رابطوں کی وجہ سے اس اعلان میں تاخیر ہوئی۔

گزشتہ ماہ قومی اسمبلی میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے شوکت ترین نے کہا تھا کہ وہ (سعودی عرب) نہ صرف مؤخر ادائیگی پر تیل کی ایک اور سہولت پر غور کر رہا ہے بلکہ ایک سمجھوتہ بھی تقریباً ہوچکا ہے جو 2 سے 3 روز میں عوام کے سامنے آنے کا امکان ہے۔

عہدیدار نے کہا کہ آئی ایم ایف نے اسلام آباد سے مالیاتی بہاؤ کو یقینی بنانے کے لیے کہا تھا جس کا اس نے 39 ماہ کی توسیعی فنڈ سہولت کو حتمی شکل دینے کے وقت وعدہ کیا تھا۔

اس سلسلے میں سعودی عرب اور چین کی جانب سے تعاون 3 سالہ مالیاتی منصوبے کا ایک اہم ستون تھا۔

شوکت ترین نے قومی اسمبلی میں تصدیق کی تھی کہ مالی سال 14-2013 کے دوران وزیراعظم کی منظوری سے سعودی عرب مانیٹری ایجنسی سے ڈیڑھ ارب ڈالر یعنی ایک ارب 57 کروڑ 19 لاکھ ڈالر کی مساوی گرانٹ اسٹیٹ بینک میں پاکستان ڈیولپمنٹ فنڈ لمیٹڈ کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوئی تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.