سعودی عرب اور قطر تعلقات: ساڑھے تین سال تعلقات منقطع رہنے کے بعد ’قطری امیر آج سعودی عرب میں ہونے والے خلیج تعاون کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے‘

سعودی عرب میں ہونے والے خلیج تعاون کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لیے قطر کے امیر تمیم بن حماد التھانی اپنے ملک کے وفد کی سربراہی کریں گے۔ یہ سعودی عرب اور قطر کے مابین ساڑھے تین برس قبل منقطع ہونے والے تعلقات کی حالیہ بحالی کے بعد پہلا بڑا قدم ہو گا۔

قطر کی آفیشل نیوز ایجنسی کی ٹویٹ کے مطابق ’قطر کے امیر قطری ریاست کے ایک وفد کی سربراہی کریں گے جو منگل کے روز (سعودی عرب میں) خلیج تعاون کونسل کی سپریم کونسل کے 41ویں سیشن میں شرکت کرے گا۔‘

یہ اعلان قطر کے وزیر خارجہ کی جانب سے کیے گئے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے سعودی عرب کے ساتھ قطر کی زمینی، فضائی اور بحری سرحدیں دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا تھا۔

قطر کے وزیر خارجہ نے یہ بھی بتایا تھا کہ خلیج تعاون کونسل کے ممبر ممالک سعودی عرب میں آج سے شروع ہونے والے اجلاس کے دوران قطر کا بائیکاٹ باقاعدہ ختم کرنے کی سٹیٹمنٹ پر بھی دستخط کریں گے۔

اس سے قبل کویت نے اعلان کیا تھا کہ سعودی عرب قطر کے ساتھ اپنی سرحدیں دوبارہ کھول رہا ہے دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری تنازع کے خاتمے کی جانب اسے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے جون 2017 میں قطر کے مبینہ طور پر دہشت گردی کی حمایت کرنے اور ایران کے ساتھ روابط رکھنے کی بنا پر اس سے تعلقات ختم کرتے ہوئے قطر کے آگے کئی مطالبات رکھے تھے۔

قطر ایک چھوٹی لیکن بہت مالدار خلیجی ریاست ہے اس نے ہمیشہ اسلامی جنگجوؤں کی حمایت کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار برائے سکیورٹی فرینک گارڈنر کے مطابق قطر پر سے پابندیاں ہٹانے میں کئی مہینوں کے صبر، بہت محنت سے کی گئی سفارتکاری، جس میں زیادہ کردار کویت کا رہا، شامل رہی مگر ٹرمپ کی صدارت کی مدت کے خاتمے کا وقت قریب آتے ہی وائٹ ہاؤس کا بھی کردار بڑھا۔

saudi /qatar

ان کے مطابق قطری خلیجی عرب ہمسائیوں کی جانب سے پیٹھ میں چھرا گھونپے جانے کو جلد معاف نہیں کریں گے اور نہ ہی بھول پائیں گے۔ ساڑھے تین سال کی بندش قطری معیشت کو بہت مہنگی پڑی اور یہ خلیج اتحاد پر بھی ایک کاری ضرب بھی تھی۔

لیکن متحدہ عرب امارات کو قطر کے رویے میں تبدیلی پر ہمیشہ سے شبہہ رہا ہے۔ اگرچہ قطر دہشت گردوں کی معاونت کے الزامات سے انکار کرتا ہے اور ان الزامات سے بھی کہ اس نے غزہ، لیبیا یا کہیں بھی کسی سیاسی اسلامی مہم جوئی کو مدد فراہم کی، خاص طور پر اخوان المسلمین کو، جسے متحدہ عرب امارات اپنی بادشاہت کے لیے بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔

اس دوران اس پابندی نے اگر کچھ کیا تو وہ یہ کہ اس نے قطر کو سعودی عرب کے نظریاتی دشمنوں ترکی اور ایران کے قریب کر دیا۔

بات یہاں تک پہنچی کیسے؟

اس خبر کا سب سے پہلے اعلان کویت کے وزیر خارجہ احمد نصر الصباح نے ٹی وی پر گذشتہ روز کیا تھا۔

بی بی سی کے عرب امور کے مدیر سبیسٹین عشر کی رپورٹ کے مطابق قطر اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ملک کویت نے ابھی حال ہی میں تھوڑی کامیابی حاصل کی لیکن اس سے پہلے کے کچھ مہینوں تک ’فیس سیونگ‘ کے لیے کسی قرارداد کے آثار بڑھتے دکھائی دے رہے تھے جس نے اس عمل میں شامل سبھی ممالک کو نقصان پہنچایا۔

دونوں ملکوں کے تعلقات کی بحالی کے لیے امریکی انتظامیہ کا واضح کردار نظر آتا ہے۔ سینیئر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے داماد اور سینیئر مشیر منگل کو قطر اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے معاہدے پر دستخط کرنے کی تقریب میں شامل ہوں گے۔

قطر کے امیر تمیم بن حماد التھانی نے سعودی بادشاہ، شاہ سلمان کی جانب جی سی سی کے اجلاس میں شرکت کی دعوت کو قبول کیا تھا۔

بی بی سی کی بین الاقوامی امور کی چیف نامہ نگار لیز ڈوسیٹ کی رپورٹ کے مطابق جی سی سی کا اجلاس منعقد کرنے والوں میں شامل ایک ذریعے سے انھیں معلوم ہوا ہے کہ سعودی حکام کی جانب سے قطر کے لیے اپنے فضائی، بحری اور بری راستے کھولنے کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کی بحالی کا اقدام ہے تاکہ اجلاس میں قطری امیر کی شمولیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

سنہ 2017 میں جب قطر پر یہ پابندیاں عائد کی گئی تھیں تو قطری امیر نے کہا تھا کہ وہ ایسے کسی ملک کا سفر نہیں کریں گے جس نے قطری شہریوں کے داخلے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

وال سٹریٹ جرنل سے گفتگو میں ٹرمپ انتظامیہ کے ایک افسر نے کہا کہ یہ اب تک ہمارے لیے سب سے بڑی پیش رفت ہے۔

عرب
،تصویر کا کیپشنصدر ٹرمپ کے داماد اور سینیئر مشیر منگل کو قطر اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے معاہدے پر دستخط کرنے کی تقریب میں شامل ہوں گے

ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ایک دوسرے سے محبت کرنے لگیں گے اور بہترین دوست بن جائیں گے لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنے کے قابل ہوں گے۔

اس خبر کے سامنے آنے سے پہلے ہی ذرائع ابلاغ میں یہ اس امید کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ سعودی عرب کے تاریخی مقام ال اولہ میں ہونے والے خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے اکتالیسویں اجلاس کے نتیجے میں خطے کے ممالک میں تین سال سے جاری تناؤ کے بعد اب قریبی تعاون بڑھ سکے گا۔

جی سی سی ممالک میں سعودی عرب، کویت، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور عمان شامل ہیں۔

قطر کے ساتھ تعلقات

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کی جانب سے 2017 کے وسط سے قطر کے ساتھ سفارتی ، تجارتی اور فضائی تعلقات منقطع ہونے کے بعد اس تنازعہ کو ختم کرنے کے لیے امریکہ اور کویت نے مل کر کوشش کی ہے۔

چاروں ممالک نے دوحہ پر دہشت گردی کی حمایت کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ قطر نے جو خطے میں امریکی فوج کے سب سے بڑے اڈے کی میزبانی کرتا ہے، ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہتا رہا ہے کہ بائیکاٹ کا مقصد اس کی سالمیت اور خودمختاری کو نقصان پہنچانا ہے۔

ان ممالک نے تعلقات کی بحالی کے لیے قطر کے سامنے 13 مطالبات رکھے تھے جن میں الجزیرہ چینل کو بند کرنا، ایک ترک اڈہ خالی کروانا، اور اخوان المسلمین سے تعلقات کو ختم کرنا شامل ہے۔

قطر نے بار بار کہا ہے کہ وہ بغیر کسی شرط کے مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

قطر

جی سی سی کے اجلاس کا ایجنڈا کیا ہے؟

سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی ایس پی اے نے سعودی شوریٰ کونسل کے سپیکر عبداللہ بن محمد الشیخ کے حوالے سے لکھا ہے کہ خلیجی ممالک کا اتحاد اور جی سی سی کو برقرار رکھنا سعودی بادشاہ شاہ سلمان کی ترجیجات میں شامل ہے۔’

سعودی شوریٰ کونسل کے سپیکر نے کہا ’عشروں پہلے جب جی سی سی کے منفرد اتحاد کا تجربہ شروع ہوا تو سعودی عرب اس کی جائے پیدائش تھی اور اس نے ہر قدم پر ٹھوس اقدامات کے ذریعے اس کی حمایت کی۔‘

سعودی اہلکار نے کہا کہ خطے اور عالمی حالات کے تناظر میں خلیجی ممالک میں ’اتحاد اور یگانگت کی اشد ضرورت ہے۔‘

سعودی اہلکار نے خبردار کیا کہ ’بیرونی طاقتیں کے خطے کے معاملات میں مداخلت کر کے خلیجی ممالک کے قریبی اور تاریخی تعلقات کو خراب کرنے کے در پے ہیں۔‘

سعودی عرب کے اخبار الشرق الاوسط نے جی سی سی کے سیکرٹری جنرل نائف الہجراف کے حوالے سے لکھا کہ جی سی سی کی میٹنگ میں ممبر ممالک کے مابین اقتصادی تعاون ایجنڈے کا سب سے اہم موضوع ہو گا۔

سیکرٹری جنرل جی سی سی نے ماضی میں ہونے والے معاہدوں کا ذکر کیا جن میں خلیج کی سنگل مارکیٹ، کسٹم یونین، الیکٹرک گرِڈ کو ملانا شامل ہیں۔

اخبار الشرق الاوسط نے لکھا کہ جنوری میں عمان کے سلطان قابوس کی موت کے بعد یہ جی سی سی کا پہلا اجلاس ہو گا جس میں کونسل کے بانی اراکین میں سے کوئی بھی شریک نہیں ہوگا۔

سرکاری تحویل میں چلنے والے ٹی وی چینل الاخباریہ نے اس تنظیم کے بنیاد رکھنے کی تمام وجوہات اور اس کو پیش آنے والے بڑے چیلنجوں کا ذکر کیا ہے۔

سعودی عرب کے العریبیہ ٹی وی ال اولہ میں کانفرنس کے لیے ہونے والی تیاریاں اور خلیجی ممالک کے سربراہان کو اجلاس میں شرکت کے لیے آتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

سعودی عرب کے روزنامہ اوکاز میں شائع ہونے والے ایک کالم میں لکھا گیا ہے کہ تمام اشارے ایسے مل رہے ہیں کہ اس اجلاس کے انعقاد سے خطے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

اس کالم میں پیشنگوئی کی گئی کہ اقتصادی تعاون کے ساتھ ساتھ عالمی طاقتوں کے ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے میں امریکہ کی واپسی بھی اس اجلاس کی اولین ترجیجات میں ہو گی۔

اس کالم میں مضمون میں لکھا گیا ہے کہ ’یہ ایسا خطرہ ہے جو خطے کے تمام ممالک کے لیے یکساں ہے، اور یہ اس بات کا متقاضی ہے کہ خلیجی ممالک مل کر سیاسی اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے اس کی اہمیت پر زور دیں کہ اس معاملے میں ہونے والی بات چیت میں انھیں بھی نمائندگی دی جائے۔‘

المدینہ اخبار میں شائع ہونے والے ایک کالم میں ایسے رہنماؤں کو بھی ذمہ دار قرار دیا گیا ہے جو ’ماضی میں بدامنی اور دہشتگردی کو ہوا دے کر خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈالتے رہے ہیں۔‘

المدینہ اخبار میں شائع ہونے والے کالم میں لکھا گیا ہے کہ ’سعودی عرب نے جھگڑوں کو ختم کرنے کے لیے ہمیشہ ایک پل کا کردار ادا کیا ہے اور ہمیشہ اپنے بھائیوں کی غلطیوں کو نظر انداز کر کے عرب اور اسلامی دنیا میں ایک بڑے بھائی کا کردار نبھایا ہے۔‘

الاریاض اخبار نے خلیجی کونسل کو درپیش پانچ بڑے چیلنجوں کا ذکر کیا ہے، جن میں تیل کی قیمتیں، جغرافیائی عدم توازن، علاقائی عدم استحکام اور ترکی اور ایران کی توسیع پسندانہ عزائم اور نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بیروزگاری شامل ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *