’سفر یہاں ختم نہیں ہوگا‘: نوواک جوکووچ نے راجر فیڈرر، رافیل نڈال کا ریکارڈ برابر کر دیا

سربیا کے نوواک جوکووچ نے اپنا چھٹا ومبلڈن ٹائٹل جیت کر راجر فیڈرر اور رافیل نڈال کی 20 مینز گرینڈ سلیم فتوحات کا ریکارڈ برابر کر دیا ہے۔

اُنھوں نے اٹلی کے میٹیو بیریٹینی کو 15 ہزار افراد کے مجمعے کے سامنے شکست دی۔

چونتیس سالہ ٹینس کھلاڑی کا سکور 6-7 (4-7) 6-4 6-4 6-3 رہا۔

سیونتھ سیڈ بیریٹینی اپنے پہلے بڑے فائنل مقابلے میں خود کو حاصل سبقت برقرار نہیں رکھ سکے۔

ٹاپ سیڈ جوکووچ نے اب 2021 میں ہونے والے تمام تین گرینڈ سلیم مینز ٹائٹل جیت لیے ہیں۔

عالمی نمبر ایک کھلاڑی نے کہا: 'بچپن سے ہی ومبلڈن جیتنا میرے لیے سب سے بڑا خواب تھا۔'

'سربیا میں ایک سات سالہ بچہ مختلف چیزیں جوڑ کر اپنی ومبلڈن ٹرافی بناتا ہے اور ایک دن یہاں اپنی چھٹی اصل ٹرافی کے ساتھ کھڑا ہے۔ یہ بہت حیران کُن ہے۔'

ٹینس

اس سے پہلے آسٹریلین اوپن اور فرینچ اوپن جیتنے والے جوکووچ تاریخ میں پانچویں اور اوپن دور میں 1969 کے روڈ لیور کے بعد صرف دوسرے وہ شخص ہیں جس نے سیزن کے پہلے تین بڑے مقابلے جیتے ہیں۔

اور آل انگلینڈ کپ میں جوکووچ اپنی سبقت برقرار رکھتے ہوئے 'گولڈن سلیم' حاصل کرنے والے دوسرے کھلاڑی بننے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

اس سے پہلے صرف جرمنی کی سٹیفی گریف نے 1988 میں ایک سال میں تمام چار بڑے مقابلوں اور اولمپکس میں فتح حاصل کی ہے۔

نوواک جوکووچ سخت مقابلے کے بعد حاصل ہونے والی فتح کے بعد جوکووچ میدان میں بازو پھیلا کر لیٹ گئے جبکہ دوسری جانب بیریٹینی اپنے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر جھک گئے۔ دونوں کے جذبات میں تضاد واضح تھا۔

پرجوش مجمعے سے داد وصول کر کے جوکووچ اپنی سپورٹ ٹیم کے پاس جشن منانے کے لیے چلے گئے اور ایک نوجوان مداح کے ساتھ سیلفی بھی بنوائی۔

'یہ سفر یہاں ختم نہیں ہوگا'

جوکووچ تاریخ رقم کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔ وہ پہلے ہی کسی بھی دوسرے مرد سے زیادہ عرصے تک عالمی نمبر ایک رہ چکے ہیں اور اب وہ سب سے زیادہ تعداد میں بڑے ٹائٹل جیتنے کا اعزاز بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

جب جوکووچ نے سنہ 2008 میں اپنا پہلا بڑا ٹائٹل آسٹریلین اوپن جیتا تو اُن سے چھ سال بڑے راجر فیڈرر نے اپنے 20 میں سے 12 مقابلے جیت لیے تھے۔ جب فیڈرر نے سنہ 2010 میں اپنا 16 واں ٹائٹل جیتا تو جوکووچ تب بھی ایک ہی ٹائٹل تک پہنچے تھے۔

ٹینس

اب جوکووچ نے فیڈرر اور نڈال کا ریکارڈ برابر کر دیا ہے۔

نوواک جوکووچ نے کہا: 'میں رافا اور راجر کو خراجِ عقیدت پیش کرنا چاہوں گا۔ وہ ہمارے کھیل کے لیجنڈز ہیں، دو عظیم ترین کھلاڑی جن کا میں نے سامنا کیا ہے۔'

'وہ ہی وجہ ہیں کہ میں آج یہاں ہوں۔ اُنھوں نے مجھے احساس دلایا کہ مجھے ذہنی، جسمانی اور تکنیک کے اعتبار سے مضبوط ہونے کے لیے کیا کرنا ہوگا۔'

'گذشتہ 10 سال کا سفر حیرت انگیز رہا ہے اور یہ یہاں ختم نہیں ہوگا۔'

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: