سقوط ڈھاکہ۔۔ بھولی بسری کہانی

دنیا بھر کے دانشور درست نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جو قوم اپنے ماضی کو بھلا دیتی اور اپنی غلطیوں سے کوئی سبق نہیں سیکھتی اس کا حال بھی ٹھیک نہیں ہوتا اور اس کا مستقبل بھی حادثوں کا شکار ہوتا رہتا ہے۔
ہمارے ہاں 16 دسمبر چپکے سے گزر گیا۔ ایسے ہی جیسے 15 دسمبر گزرا تھا اور ایسے ہی جیسے 17 دسمبر گزرا۔ ہمارے قومی میڈیا پر ان دنوں سب سے بڑا مسئلہ یہ زیر بحث تھا کہ13 دسمبر کو لاہور میں ہونے والا پی۔ڈی۔ایم کا جلسہ چھوٹا تھا یا بڑا۔ ایک فریق اسے تاریخی اور عظیم الشان قرار دے رہا تھا اور دوسرا اسے ناکام کہہ رہا تھا۔ شاید ہی کسی کو خیال آیا ہو کہ انچاس سال پہلے پاکستان کتنے بڑے المیے سے دوچار ہوا تھا۔ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا تھا۔ پاکستان نصف رہ گیا تھا۔ ہماری فوج ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو گئی تھی اور بھارت 90 ہزار قیدیوں کو ٹرینوں میں بھر کر اپنے کیمپوں میں لے گیا تھا۔ آج بھی جب سوشل میڈیا پر جنرل نیازی کے جنرل جگجیت سنگھ اروڑہ کے سامنے ہتھیار ڈالنے کی وڈیو چلتی ہے تو دل دہل جاتا ہے اور آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔
16 دسمبر کو پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات میں ایم۔فل اور پی۔ایچ۔ڈی میں داخلے کیلئے انٹرویو ہو رہے تھے۔ انٹرویو بورڈ کا ایک رکن ہوتے ہوئے مجھے جو تجربات ہوئے ان پر کسی دن الگ سے کالم لکھوں گی۔ لیکن اتنا ذکر کر دوں کہ تعلیم کی اعلیٰ تریں سطح پر داخلے کیلئے آنے والوں کو بھی 16 دسمبر کے سانحے کے حوالے سے کچھ معلومات نہیں تھیں۔ ہوتیں بھی کیسے۔ انہیں کسی نے بتایا ہی نہیں۔ کسی سطح کے نصاب میں سقوط ڈھاکہ کا کوئی ذکر ہی نہیں۔ اتنے بڑے المیے کی وجوہات کیا تھیں، کیا یہ فوجی شکست تھی؟ کیا یہ سیاسی غلطیوں کا نتیجہ تھا؟ کیا یہ سب کچھ اچانک ہو گیا؟ آخر بنگالی ہمارے خلاف کیوں ہو گئے؟ اتنے خلاف کہ انہوں نے ہمارے خلاف ہتھیار اٹھا لئے اور بھارت سے مدد مانگ لی؟ ہم کیوں اس کاکوئی سیاسی حل نہ نکال سکے؟ آخر ایسا کیوں ہوا کہ ہمیں اپنے ہی عوام کے خلاف ایک فوجی آپریشن کرنا پڑا؟ دنیا نے ہمارا ساتھ کیوں نہ دیا؟ ہمارے دوست بھی ہماری مدد کو کیوں نہ آئے؟
بے شمار سوالات ہیں۔ ان سوالوں کے جواب بھی بڑی حد تک سامنے آگئے ہیں۔ اس لئے کہ سقوط ڈھاکہ پر اب تک درجنوں یا شاید بیسیوں کتابیں سامنے آچکی ہیں۔ ان میں وہ شخصیات بھی شامل ہیں جنہوں نے خود اس جنگ میں حصہ لیا اور سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ بھارتی مصنفین نے بھی بہت کچھ لکھا۔ غیر جانبدار مورخین نے بھی اس پر قلم اٹھایا۔ سوتمام زاویے سامنے آچکے ہیں اور ذہنوں میں اٹھنے والے تقریبا سبھی سوالوں کے جواب پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آگئے ہیں۔ ہمارے لئے تو سب سے مستند دستاویز حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ ہے جس نے بڑی محنت سے سقوط ڈھاکہ کے تمام اسباب اور محرکات کا جائزہ لیا ہے اور اپنی سفارشات بھی پیش کی ہیں۔
کسی تحقیق یا تفتیش میں جائے بغیر چند باتیں تو بالکل سامنے کی ہیں۔ ان تفصیلات کو بھی کمیشن نے اپنی رپورٹ کا حصہ بنایا ہے۔ 1947 میں پاکستان قائم ہوتا ہے۔ نو سال تک ہم آئین ہی نہیں بنا سکتے۔ 1956 میں آئین بنتا ہے۔ اس آئین کے تحت حلف اٹھانے والا پہلا صدر، سکندر مرزا، عام انتخابات سے کچھ ہی عرصہ قبل مارشل لاء نافذ کر دیتا ہے۔ تقریبا ایک ہفتہ بعد، پاکستان کی سپریم کورٹ، ایک غیر متعلقہ مقدمے میں فیصلہ صادر کر دیتی ہے کہ "جو انقلاب، چاہے وہ بندوق کے زور پر آئے، اپنا تسلط جمالیتا اور تمام اداروں پر قابض ہو جاتا ہے، اسے جائز سمجھا جائے گا"۔ سکندر مرزا کو اس فیصلے سے بہت خوشی ہوئی۔ لیکن اس عدالتی فیصلے نے جنرل ایوب خان کو حوصلہ دیا جو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر تھے۔ انہوں نے سکندر مرزا کے انقلاب کے اوپر اپنا انقلاب نافذ کر دیا۔ سکندر مرزا ملک بدر ہو گئے۔ وہیں انتقال ہوا۔ یحییٰ خان نے میت پاکستان آنے کی اجازت نہ دی۔ شاہ ایران کی مہربانی سے ایران کے شاہی قبرستان میں جگہ ملی۔ امام خمینی کے انقلاب کے بعد اس" گورستان شاہی" کو ہموار کر دیا گیا۔
چند بڑے نتائج سامنے آئے۔ یہ کہ 1958 سے 1971 تک جاری رہنے والے تیرہ سالہ مارشل لاء نے، بنگالیوں میں زبردست احساس محرومی پیدا کیا۔ ظاہر ہے کہ فوج کے بڑے حصے کا تعلق مغربی پاکستان یا پنجاب سے تھا۔ اس لئے تیرہ سالہ فوجی حکمرانی کو پنجاب اور مغربی پاکستان کی حکمرانی سمجھا گیا۔نفرت کا الاو بھڑکا۔ 1970 میں (پاکستان بننے کے 23 سال بعد) پہلے عام انتخابات ہوئے تو بنگالیوں نے مجیب الرحمن کے چھ نکات کے حق میں واضح فیصلہ دے دیا۔ اس عوامی فیصلے کا مطلب یہ تھا کہ اقتدار، زیادہ ووٹ لینے والی جماعت کے حوالے کر دیا جائے۔ ایسا نہ کیا گیا۔ طاقت کے زور پر عوامی احتجاج کو کچلنے کی کوشش کی گئی۔ بھارت سے کوئی شکوہ نہیں کرنا چاہیے۔ اس لئے کہ وہ ہمارا جانا پہچانا دشمن ہے۔ سو اس نے ہماری کمزوریوں سے فائدہ اٹھایا۔ یحییٰ خان کو اپنا اقتدار عزیز تھا۔ اس کے حوالے سے ایسی ایسی باتیں تاریخ کی کتابوں میں ملتی ہیں کہ گھن آتی ہے۔

ساری دنیا کے سامنے یہ مقدمہ پیش ہوا کہ پاکستان کی فوجی حکومت انتخابات جیتنے والی جماعت کو اقتدار سونپنے سے انکاری ہے لہذا اس کے اس غیر جمہوری طر ز عمل کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔ امریکہ نے تو خیر ہماری مدد کیا کرنی تھی، چین جانے والا وفد بھی کسی یقین دہانی کے بغیر واپس آگیا۔ عوامی رائے کو ریاستی جبر سے کچلنے کا تجربہ بہت بری طرح ناکام رہا اور پاکستان ٹوٹ گیا۔
اب مغربی پاکستان ہی پورا پاکستان تھا۔ 1973 میں ایک آئین بنا اور پھر سے ایک نئے سفر کا آغاز کیا گیا۔ اسی دوران حمود الرحمن کمیشن رپورٹ تیار ہوگئی۔ کئی سالوں بعد اس کے کچھ حصے سامنے آئے۔ کمیشن نے کچھ سفارشات کیں۔ بعض فوجیوں پر مقدمات قائم کرنے کیلئے کہا۔ اس طرح کے سانحے سے بچنے کیلئے ٹھوس تجاویز دیں۔ فوج کے سیاست میں ملوث ہونے کو ملکی مفاد کے خلاف قرار دیا۔ لیکن ہوا کیا؟یہ کہ 1973 کا آئین تین بار توڑا گیا۔ سانحہ سقوط ڈھاکہ اور آئین 1973 کے بعد بھی بیس سال دو آمروں نے حکومت کی۔ اور بے یقینی آج بھی پوری طرح موجود ہے۔
انتہائی خراب اور مشکل حالات میں ہمارے فوجی افسر اور جوان جس جرات و بہادری سے لڑے، اسے بھارتی کمانڈر ان چیف نے بھی خراج تحسین پیش کیا۔ لیکن اوپر کی سطح پر نااہل حکمرانوں اور غلط فیصلوں نے نہ صرف فوج کو ہزیمت دلوائی بلکہ پاکستان کو بھی دولخت کر دیا۔
اب حالت یہ ہے کہ 16 دسمبر 1971 بھول چکا ہے۔ جو بچہ اس دن پیدا ہوا، اس کی عمر اب انچاس سال سے اوپر ہوگئی ہے۔ اور پھر نوجوانوں کی پوری نسل ہے جسے کچھ پتہ نہیں کہ ہم پر کیا گزری۔ ہم اس سانحے کو اپنی تاریخ کا حصہ بنانے کیلئے تیار ہی نہیں۔ نہ جانے کیوں؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *