Site icon Dunya Pakistan

سلسلہ علی خیل: پاکستان میں مبینہ اغوا کا نشانہ بننے والی افغان سفیر کی بیٹی کا پہلا ویڈیو بیان

پاکستان کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ انھوں پاکستان میں تعینات افغان سفیر کی بیٹی کی ایک حالیہ ویڈیو دیکھی ہے جس میں بیان کی گئی تفصیلات اس حوالے سے پاکستان کو دستیاب تیکنیکی ڈیٹا اور شکایت کنندہ (سفیر کی بیٹی سلسلہ علی خیل) کی اس روز کی نقل و حمل سے مماثلت نہیں رکھتا۔

پاکستان میں افغانستان کے سفیر نجیب اللہ علی خیل کی بیٹی سلسلہ علی خیل کے مطابق 16 جولائی کو مبینہ طور پر نامعلوم مسلح حملہ آوروں نے انھیں اسلام آباد سے اغوا کرنے کی کوشش کی تھی اور ناکامی پر حملہ آور فرار ہو گئے تھے۔

اس واقعے کے تقریباً ایک ماہ بعد، افغان سفیر کی بیٹی کی ایک ویڈیو گذشتہ روز سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ہے۔ اس ویڈیو کو افغان سفیر نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’سلسلہ کا 16 جولائی کے اغوا کے واقعے کے بعد پہلا ردعمل۔‘

اس ویڈیو میں سلسلہ علی نے اپنا تعارف کراتے ہوئے اس واقعے کی تفصیلات کچھ یوں بیان کی ہیں ’اغوا 16 جولائی کو ہوا۔ میں اپنے چھوٹے بھائی کے لیے ایک تحفہ خریدنا چاہتی تھی۔ میں نے گھر سے بازار کے لیے ایک ٹیکسی لی۔ گفٹ لینے کے بعد میں ٹیکسی کے ذریعے گھر واپس آنا چاہتی تھی، اغوا کا واقعہ ٹیکسی میں پیش آیا۔‘

وہ مزید بتاتی ہیں ’ٹیکسی ڈرائیور نے ایک اور شخص کو ٹیکسی میں بٹھایا۔ میں نے احتجاج کیا کہ آپ اس میں کسی دوسرے مسافر کو نہیں بٹھا سکتے۔ اس پر دوسرے شخص نے اپنا چہرہ میری طرف کر دیا اور کہا کہ تم افغان سفیر کی بیٹی ہو، اس نے بہت گالیاں دیں اور مجھے مارنا شروع کر دیا۔‘

’یہ سب کچھ تین سے پانچ منٹ تک ہوا اور پھر میں بیہوش ہو گئی۔ جب میں ہوش میں آئی تو مجھے جسمانی اور ذہنی اذیت دی گئی۔ اس کے بعد مجھے گھر لایا گیا اور پھر فوراً ہسپتال لے جایا گیا جہاں پاکستانی پولیس بھی موجود تھی۔ پولیس نے اگلے ہی لمحے اپنی تفتیش شروع کی۔ انھوں نے بار بار سوالات دہرائے، میں نے وہی جوابات بار بار دیے۔‘

سلسلہ علی خیل، اس واقعے کے بعد تفتیش اور طبی معائنہ کے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے ویڈیو میں دعویٰ کرتی ہیں کہ ’چونکہ مجھے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا اس لیے مجھے امید تھی کہ ڈاکٹر میری اچھی دیکھ بھال کریں گے۔ اغوا کے مقدمات میں متاثرہ خاتون کے مختلف ٹیسٹ کروانے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ تشدد کے لیے کیا حربہ استعمال کیا گیا۔ اس کے لیے خون کا ٹیسٹ چھ، 12 یا 18 گھنٹوں کے اندر کرنا پڑتا ہے، اس کے بعد ہونے والے ٹیسٹ میں کچھ ظاہر نہیں ہوتا۔ لیکن میں نہیں جانتی کہ میرے ٹیسٹ صحیح طریقے سے کیوں نہیں کیے گئے۔‘

وہ کہتی ہیں ’ڈاکٹر بھی جاننا چاہتے تھے کہ کیا ہوا۔ مثال کے طور پر ایک ڈاکٹر جس نے میری ہڈیوں کا معائنہ کیا اس نے مجھ سے پوچھا کہ شروع سے آخر تک بتائیں کہ آپ کے ساتھ کیا ہوا۔ میں حیران ہوں کہ ڈاکٹر کیوں جاننا چاہتا ہے کہ میں گھر سے کب نکلی، میں کس وقت روانہ ہوئی، میں نے ٹیکسی یا کوئی اور گاڑی لی۔‘

’ہم نے پہلے دن سے ہی پولیس کی مدد کی، یہاں تک کہ جب میری حالت بہت خراب تھی۔ ہم پولیس کے ہمراہ صبح 3:30 بجے اسلام آباد اس جگہ گئے جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔ دوسرے اور تیسرے دن بھی ہم نے پولیس کی اسی طرح مدد کی۔ تفتیشی ٹیم بار بار وہی سوال پوچھ رہی تھی اور ہم وہی باتیں بار بار بتا رہے تھے۔‘

سلسلہ علی خیل مزید کہتی ہیں ’اس کے بعد ہم ترکی گئے جہاں اس واقعے کے تین چار دن بعد بھی، تمام اہم میڈیکل چیک اپ جو کہ اغوا کے کیس میں کیے جاتے ہیں، مناسب طریقے سے کیے گئے۔ میری طبی رپورٹ اور نفسیاتی اذیت کی تصدیق ہوئی۔ جسمانی طور پر میں اب ٹھیک ہوں لیکن ذہنی طور پر مجھے مزید وقت چاہیے کیونکہ پھر بھی میں ہر رات اچانک دو سے تین بار جاگتی ہوں اور ایسا لگتا ہے کہ میں اب بھی دہنی طور پر اسی جگہ پر ہوں جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔‘

’مجھے مکمل صحت یاب ہونے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔ میں افغانستان کی حکومت سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ اس اغوا کیس کی پیروی کرے جس میں ایک نوجوان افغان لڑکی کی عزت، اس کے خاندان کا وقار، اس کے ملک کا وقار مجروح ہوا ہے۔ اس معاملے پر سنجیدگی سے تفتیش ہونی چاہیے اور میں پاکستانی حکام سے امید کرتی ہوں کہ وہ مخلصانہ تعاون کریں گے اور مجرموں کو بلا تاخیر گرفتار کرکے انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔ یہ واقعہ اسلام آباد میں دن کی روشنی میں پیش آیا۔‘

،تصویر کا کیپشننجیب اللہ علی خیل

سلسلہ علی خیل نے افغانستان اور اس سے باہر رہنے والے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا ہے جنھوں نے اپنے بیانات، مظاہروں اور سوشل میڈیا کے ذریعے اس معاملے میں ان کا ساتھ دیا۔

انھوں نے کہا کہ افغانستان میں بہت سے مسائل ہیں لیکن ہم اب بھی اس معاملے میں ایک ساتھ کھڑے ہیں اور متحد ہیں۔

انھوں نے افغانستان کے صدر اشرف غنی اور خاتون اول کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے اپنے علم کے ذریعے اپنے ملک کی خدمت کی خواہش کا اظہار بھی کیا ہے۔ سلسلہ علی خیل نے امید ظاہر کی ہے کہ اس معاملے میں سچائی سامنے آئے گی۔‘

پاکستان کا کیا کہنا ہے؟

اس ویڈیو پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستان کی وزارت خارجہ نے کہا کہ انھوں نے شکایت کنندہ کی ویڈیو اور اس پر افغانستان کی وزارتِ خارجہ کا بیان دیکھا ہے۔

’ایک مرتبہ پھر واضح کیا جاتا ہے اس تفتیش کے حوالے سے پاکستان آنے والی افغان ٹیم کو جامع بریفننگ دی گئی تھی۔ ٹیم کو ان تمام جگہوں کا آزادانہ دورہ کروایا گیا جہاں جہاں شکایت کنندہ گئی تھیں۔‘

دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ شکایت کنندہ کی جانب سے ویڈیو میں بیان کی گئی باتیں پاکستان کو دستیاب تیکنیکی ڈیٹا اور ان کی اصل نقل و حمل سے متضاد ہیں۔ اس تیکنیکی ڈیٹا کی تفصیل ٹیکسی ڈرائیوروں کے بیانات سے بھی میچ کرتی ہے۔ دفتر خارجہ نے کہا کہ افغان ٹیم کو بتایا گیا تھا کہ اس سلسلے میں درجشکایت زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ اس تفتیش کے حوالے سے افغان سفارت خانے سے چند تفصیلات مانگی گئی ہیں اور پاکستان امید کرتا ہے کہ یہ مطلوبہ معلومات جلد فراہم کی جائیں گی۔

پاکستانی پولیس کا کیا کہنا ہے؟

یاد رہے کہ اس واقعے کے بعد پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے نوٹس لیتے ہوئے وزارت داخلہ، پولیس اور متعلقہ اداروں سے کہا تھا کہ وہ اس واقعے کی ترجیحی بنیادوں پر تحقیقات کریں۔

وفاقی پولیس کے مطابق پاکستان میں افغانستان کے سفیر نجیب اللہ علی خیل کی بیٹی سلسلہ علی خیل اس روز بازار میں خریداری کے لیے گئیں تھیں جب انھیں مبینہ طور پر مسلح حملہ آوروں نے اغوا کر لیا تھا۔

یہ واقعہ اسلام آباد کے تھانہ کوہسار کے بلیو ایریا مارکیٹ میں پیش آیا ہے۔ پولیس کے مطابق اس واقعے کی معلومات ایک انٹیلیجنس تنظیم نے دی تھی۔

پولیس کو موصول ہونے والی معلومات کے مطابق سلسلہ علی نے وہاں سے ایک اور ٹیکسی کرائے پر لی اور پھر ایف 9 پارک میں جا کر ایک جاننے والے کو بلایا اور پھر ایک سرکاری گاڑی میں گھر پہنچی۔‘

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں کشیدگی

افغان سفیر کی بیٹی کے مبینہ اغوا کا معاملہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب پہلے ہی پاکستان اور افغانستان کے درمیان تناؤ کی صورتحال ہے۔ افغانستان نے پاکستان پر طالبان کی مدد کرنے کا الزام لگایا۔ دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان زبانی جنگ بھی کافی عرصے سے جاری ہے۔

جولائی میں ازبکستان کے شہر تاشقند میں ہونے والے سمٹ کے دوران افغان صدر اشرف غنی نے پاکستان کو نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان نے شدت پسند گروہوں سے اپنے تعلقات نہیں توڑے ہیں۔

افغان صدر اشرف غنی نے انٹیلیجنس رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ گذشتہ ماہ 10 ہزار سے زائد جنگجو پاکستان کی سرحد عبور کر کے افغانستان میں آئے ہیں تاہم پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور کانفرنس میں موجود پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید نے اشرف غنی کے الزامات کو یکسر مسترد کر دیا تھا۔

اشرف غنی کے بیان کے چند منٹ بعد، پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ وہ ان الزامات سے ’مایوس‘ ہوئے ہیں۔

انھوں نے اشرف غنی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’جب پاکستان کہہ رہا تھا کہ طالبان سے بات چیت کریں تو اس وقت ایسا نہیں کیا گیا اوراب جب طالبان فتح کے قریب پہنچ چکے ہیں تو بات چیت کی باتیں کی جا رہی ہیں۔‘

Exit mobile version