سلطان کا فرمان اور محمود درویش کا گیت

اسپین کی خانہ جنگی کے دوران پابلو نیرودا نے جو نظمیں کہیں، ان میں ایک نظم اپنے براہ راست اسلوب اور گہرے جذباتی تاثر کے لئے خاص طور پر معروف ہے۔ عنوان ہے، I am explaining a few things. شاعر اپنے گھر کے دریچوں پر کھلتے پھولوں، پائیں باغ میں کھیلتے بچوں اور دوستوں کی خوشگوار مجلسوں کی باز آفرینی سے بات شروع کرتا ہے اور یکایک پلٹ کر لمحہ موجود کی ویرانی، جنگ کی تباہ کاری اور سیاست کی بیداد گری کے بیان پر اتر آتا ہے۔ نیرودا کی نظم میں پیکار کی للکار ہے۔ ہمارے فیض صاحب نے ’ایرانی طلبا کے نام‘ میں یہی موضوع لیا ہے لیکن فیض نے درد کے گھائو پر اپنے مترنم آہنگ اور سبک رو استعاروں کا مرہم رکھ دیا ہے۔ پابلو نیرودا کے لحن میں تلوار کی سی کاٹ ہے۔ وہ جنرل فرانکو اور اس کے حواریوں کو پکار پکار کر گلیوں میں بہتا بچوں کا لہو دکھانا چاہتا ہے۔ جھلسے ہوئے گائوں۔ اجڑے ہوئے قصبے اور ملبے کا ڈھیر بنے شہر دیکھنے کی چتائونی دیتا ہے۔ نیرودا اور ہیمنگوے کو کیسے خبر ہو سکتی تھی کہ اسپین کی زمین پر آگ اور لہو کا کھیل تو دراصل ہٹلر اور اسٹالن کی ملی بھگت ہے۔ ڈاکٹر مصدق تو اینگلو ایران آئل کمپنی قومیانے نکلے تھے، یہ حقیقت تو کہیں 2003 میں سرکاری طور پر تسلیم کی گئی کہ برطانوی ایم آئی سکس کی اصل پشت پناہی امریکی سی آئی اے کر رہی تھی۔ شاعر کا خواب اور اقتدار کی سازش دو مختلف دنیائوں کی حکایت ہیں۔ امن، انصاف اور آزادی کی آرزو میں بچوں کی ہنسی جیسی معصومیت ہے، اختیار اور اجارے کا نقاب پوش بھوت لہو آلود خنجر تولتا ہوا دبے پاؤں پیش قدمی کرتا ہے۔ یہ فتح اور شکست کا کھیل نہیں، معنی کے نروان اور بے معنویت کے سناٹے میں مجادلہ ہے۔ اب آپ پوچھیں گے کہ محمود درویش کے گیت میں پابلو نیرودا اور فیض صاحب کدھر سے چلے آئے۔ دھیرج رکھیے، آخر مجھے بھی تو کچھ چیزوں کی وضاحت کرنا ہے۔

1983 کا برس تھا۔ ایم آر ڈی کے پرچم تلے وطن کے بیٹے اور بیٹیاں آمریت کے عفریت سے دست و گریباں تھے۔ سندھ کی دھرتی جمہوریت کی بحالی کے لئے حقیقی میدان قرار پائی تھی چنانچہ استبداد کی تلوار بھی وہیں کڑک رہی تھی۔ سرکاری ذرائع ابلاغ اور صحافت کے مرغان دست آموز غداری کی اسناد بانٹ رہے تھے۔ 5 ستمبر 1983 کی شام لاہور کے پچاس سے زائد ادیبوں، صحافیوں اور دانشوروں نے ایک قرارداد پر دستخط کئے جس میں سندھی عوام سے یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق ادا کرنے کی اس جسارت میں شریک نیشنل پریس ٹرسٹ کے صحافی فوری طور پر برطرف کر دیے گئے اور قرار داد پر دستخط کرنے والے تمام افراد نیز ان کے ہم خیال عناصر پر سرکاری نشریاتی اداروں یعنی ریڈیو اور ٹیلی وژن کے دروازے بند کر دیے گئے۔ جید اہل صحافت پر ابتلا کا یہ دور نومبر 1988 تک جاری رہا۔ یہی وہ پانچ برس تھے جب غیر جماعتی جمہوریت کی طرح صحافت میں بھی پیشہ ورانہ اقدار سے عاری خود کاشتہ جڑی بوٹیوں کی آبیاری کی گئی۔ ہماری صحافت میں دو دھارے تو ہمیشہ سے موجود رہے ہیں، عوامی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے خبر کی ساکھ کے لئے سربکف اقلیت اور پریس ایڈوائس کی روشنی میں ’’قومی مفاد‘‘ کا غلغلہ بلند کرنے والی اکثریت۔ اب ایک فریق کی عدم موجودگی میں فریق ثانی کو کھلا میدان مل گیا۔ ہماری درس گاہوں، ذرائع ابلاغ اور سیاسی مکالمے کا موجودہ خلائے بے کنار اسی دور کی یادگار ہے۔ 1989 کے ابتدائی مہینوں میں عاشقان صادق کے اس شکستہ پا قافلے کو اذن روانی ملا تو دنیا بدل چکی تھی۔ چھٹے اسیر تو بدلا ہوا زمانہ تھا۔ الحمدللہ، ان بہادروں میں مسعود اشعر، حسین نقی، فخر زمان، مسعوداللہ خان، علی احمد خان، انورسن رائے، خاور نعیم ہاشمی، رخشندہ حسن اور ممتاز احمد سمیت بہت سے جگنو ابھی روشنی دے رہے ہیں۔ اور اس سے اچھی خبر یہ کہ اس دوران باہمت صحافیوں کی ایک نئی نسل سامنے آ چکی ہے۔

گزشتہ مہینے نامعلوم افراد نے اسلام آباد کے ایک پارک میں ابصار عالم پر گولی چلا دی۔ گولی جگر کو چھلنی کرتی ہوئی جسم سے باہر نکل گئی۔ وارث میر لکھتے تھے کہ ’جگر ہو گا تو عقاب آئے گا‘۔ عجیب اتفاق ہے حامد میر پر 19 اپریل کو قاتلانہ حملہ ہوا تھا اور ابصار عالم پر 20 اپریل کو گولی چلی۔ بیچ میں سات برس پڑتے ہیں اور آزادی صحافت میں دیس کی درجہ بندی بھی اس دوران اتنے ہی زینے نیچے اتر آئی ہے۔ ابصار عالم نے طبیعت سنبھلتے ہی ایک زور دار کالم لکھا ہے۔ اس میں انہوں نے بطور چیئرمین اپنی تنخواہ کی تفصیل بھی بتائی ہے جو شاید ضروری نہیں تھی۔ اس ملک کے رہنے والے یافت اور بھتے سے غرض نہیں رکھتے، میدانِ وغا کی صف بندی سے سچ اور جھوٹ جان لیا کرتے ہیں۔ اہم بات ابصار عالم کا یہ بیان ہے کہ’’ میری صحافتی زندگی آئین کی عزت، جمہوریت کی مضبوطی، سویلین بالادستی، صحافیوں کے احترام ، حقوق کی جنگ اور پرامن، خوشحال پاکستان کی کو شش کرتے گزری۔ دبائو کے باوجود خبر اور رائے تبدیل نہیں کی اور نہ اب کرتا ہوں۔ آئین کے آرٹیکل 18 اور 19 میں دیے گئے حقوق ہمیشہ استعمال کروں گا‘‘۔ یہاں مجھے محمود درویش کی نظم A Song and the Sultan یاد آئی۔ منو بھائی نے اس نظم کا بہت خوبصورت ترجمہ کیا تھا۔ مجھے اپنے کاغذات میں یہ ترجمہ مل نہیں سکا۔ تو ایسا کرتے ہیں، محمود درویش کا آخری بند پڑھ لیتے ہیں جس میں سلطان کا فرمان بیان کیا گیا ہے۔

He said, “The fault is in the mirror

so let your singer be silent

and let my kingdom from the Nile to the Euphrates be.”

and he shouted, “Put that poem in prison!”

The torture room, for security,

is a thousand times better than an anthem or a newspaper.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: