سندھ میں بینک سروسز کو ویکسینیشن سے مشروط کرنے کا امکان

کراچی/ اسلام آباد: ایک اہم پیش رفت میں محکمہ صحت سندھ نے ہوٹلوں، بینکوں، ڈاکخانوں اور کورئیر سروسز میں لازمی کووڈ 19 ویکسینیشن نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

علاوہ ازیں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے متبادل ادویات کی منظوری دے دی ہے اور طبی عملے کو کووڈ 19 سے انتہائی متاثرہ مریض کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔

محکمہ داخلہ سندھ نے این سی او سی سے رجوع کیا تاکہ بینکوں اور ڈاک خانوں کے بارے میں فیصلہ نافذ کیا جائے۔

دوسری جانب کورونا سے انتہائی متاثرہ مریض بلیک مارکیٹ میں 10 گنا زیادہ نرخوں پر فروخت ہونے والی ایکٹیمرا نامی ادویات خریدنے سے قاصر ہیں، ڈریپ نے متبادل ادویات کی منظوری دی ہے اور ہسپتالوں کو ان کے علاج کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔

وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز (این ایچ ایس) کے ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹوکلیزوماب کو ڈیکسامیتھاسون کے ساتھ ملا کر بنایا گیا جس سے کورونا سے انتہائی متاثرہ مریضوں کی شرح اموات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

خیال رہے کہ ٹوکلیزوماب کا برانڈ نام ایکٹیمرا ہے۔

وزارت کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ دنیا بھر میں ایکٹیمرا کی کمی کا سامنا کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایاکہ ہم نے گزشتہ ماہ ایکٹیمرا کی ایک ہزار ویکسین حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن کمپنی انجکشن کا بندوبست نہیں کر سکی کیونکہ طلب کی وجہ سے قلت پیدا ہوگئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہمارے پاس اس کے سوا کوئی آپشن نہیں بچا ہے کہ ہم متبادل کے لیے جائیں جن میں ایکٹیمرا جیسی خصو صیات ہیں لیکن ڈریپ نے کووڈ 19 کے مریضوں کو اس کی اجازت نہیں دی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کچھ ممالک متبادل بھی استعمال کر رہے ہیں اور پاکستان بھی اب ایسا ہی کر رہا ہے۔

ڈان سے بات کرتے ہوئے ایک فارماسسٹ نے کہا کہ ایکٹیمرا میں مونوکلونل اینٹی باڈیز ہوتی ہیں اور اسے مدافعتی نظام کو لاک کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کووڈ 19 کے دوران مدافعتی نظام انتہائی متحرک ہو جاتا ہے اور انسانی خلیوں کو مارنا شروع کر دیتا ہے جن میں کورونا وائرس ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں مریض زیادہ متاثر ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایکٹیمرا جیسی دوائیں مدافعتی نظام کو بند کرتی ہیں اور اسے خلیوں کو مارنے سے روکتی ہیں لیکن یہ عمل خطرناک بھی ہوسکتا ہے کیونکہ ایک مریض تمام بیماریوں کے حملوں کا شکار ہوتا ہے کیونکہ مدافعتی نظام کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی امریکا کے مقابلے میں دو تہائی سے بھی کم ہے لیکن ہم نے امریکا سے 10 گنا زیادہ ایکٹیمرا استعمال کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس دوا کے مضر اثرات ہیں اور یہ بہت خطرناک ہو سکتی ہے، اس انجکشن کی قیمت 55 ہزار روپے تھی لیکن اسے بلیک مارکیٹ میں 4 لاکھ روپے میں فروخت کیا جا رہا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک مثبت قدم ہے کہ ڈریپ نے ٹوکلیزوماب کے متبادل کی منظوری دی ہے۔

وزارت این ایچ ایس کے ترجمان ساجد شاہ نے بتایا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ایکٹیمرا انجکشن مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈریپ نے ایک اجلاس میں اس مسئلے پر تبادلہ خیال کیا اور بالآخر اس نتیجے پر پہنچے کہ کچھ ادویات جو ایک جیسی خصوصیات والی ہیں انہیں بطور متبادل استعمال کی جا سکتی ہیں۔

حکومت سندھ کا فیصلہ

وزیر صحت مہر خورشید کے ترجمان نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ تازہ ترین فیصلہ لازمی ویکسینیشن کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

بیان کے ساتھ دو خطوط کی کاپیاں منسلک تھیں، محکمہ صحت کے سینئر ٹیکنیکل افسر ڈاکٹر سہیل رضا شیخ کی جانب سے ایڈیشنل چیف سیکریٹری ہوم کو لکھے گئے خطوط میں سے ایک میں کہا گیا ہےکہ ’ویکسینیشن مہم کو مزید کامیاب بنانے کے لیے یہ انتہائی سفارش کی جاتی ہے کہ تمام ریسٹورانٹس/ہوٹل اپنی سروسز صرف ان لوگوں کو فراہم کریں جن کو ویکسین دی گئی ہے۔

این سی او سی کو بھیجے گئے ایک اور خط میں کہا گیا ہے کہ ’ویکسینیشن مہم کو کامیاب بنانے کے لیے یہ انتہائی سفارش کی جاتی ہے کہ تمام کمرشل بینکوں، ڈاک خانوں اور دیگر کورئیر سروسز کو ضروری ہدایات جاری کی جائیں کہ وہ صرف ان لوگوں کو سروسز فراہم کریں جن کے پاس نادرا کا ویکسینیشن کارڈ ہو۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: