سندھ میں کورونا کیسز میں اضافہ: اسکولوں کی تعطیلات بڑھانے، اجتماعات پر پابندی کی تجاویز

سندھ کے دارالحکومت کراچی میں کورونا وائرس کے مزید 9 کیسز سامنے آنے کے بعد صوبائی محکمہ صحت نے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) جیسے بڑے اجتماعات پر پابندی اور اسکولوں کی تعطیلات میں اضافے کی تجویز دے دی۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز یعنی 9 مارچ کو ملک میں کورونا وائرس کے سب سے زیادہ کیسز کراچی میں سامنے آئے تھے جس کے بعد صوبائی سطح پر تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 13 اور ملکی سطح پر تعداد 16 ہوگئی ہے۔

اس سلسلے میں صوبائی محکمہ صحت کا اجلاس سندھ کی وزیر صحت اور بہبود آبادی ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کی سربراہی میں اعلیٰ سطح اجلاس ہوا۔

اجلاس سے متعلق محکمہ صحت کی میڈیا کوآرڈینیٹر میران یوسف نے بتایا کہ کورونا وائرس کے پیش نظر مختلف اہم فیصلے لیے گئے۔

صوبائی محکمہ صحت کے اجلاس میں لیے گئے فیصلے

  • اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ محکمہ صحت کراچی ایئرپورٹ پر اپنا صحت ڈیسک قائم کرے گی اور بیرون ملک سے آنے والے تمام مریضوں کی اسکریننگ کا عمل کیا جائے گا۔
  • یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ تمام سرکاری و نجی ہسپتالوں میں کورونا وائرس سے متعلق معلومات کے لیے فرنٹ ڈیسک بھی قائم کی جائے گی۔
  • ساتھ ہی یہ فیصلہ کیا گیا کہ بڑے عوامی اجتماعات سے اجتناب کے لیے ایڈوائزری جاری کی جائے گی جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ کو پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) جیسے بڑے اجتماعات پر پابندی لگانے کی کی تجویز دی جائے گی۔
  • اجلاس میں عوام کو کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک سے واپسی آنے پر خود کو 14 روز کے لیے قرنطینہ میں رکھنے کی کے حوالے سے ایڈوائزری جاری کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
  • مذکورہ اجلاس میں بتایا گیا کہ گڈاپ ہسپتال قائم ہوچکا ہے جسے تمام تصدیق شدہ وائرس کے کیسز کے لیے آئیسولیشن کی سہولت کے لیے بنایا گیا ہے۔
  • علاوہ ازیں کورونا وائرس کے کیسز سے نمٹنے کے لیے معیاری طریقہ کار (ایس او پیز) تمام نجی ہسپتالوں کو فراہم کردی گئی ہیں۔
  • اس کے علاوہ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ وزیر اعلیٰ سندھ کو تمام اسکول طویل عرصے کے لیے بند کرنے کی تجویز دی جائے گی۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز محکمہ صحت سندھ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ 8 مزید کیسز کی تصدیق ہوئی ہے جن میں 5 افراد شام سے براستہ دوحہ کراچی آئے اور 3 لندن سے براستہ دبئی گزشتہ ہفتے کراچی پہنچے تھے۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ متاثرہ افراد سے متعلق افراد تک پہنچنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ مزید ٹیسٹ کیے جاسکیں۔

اس سے قبل محکمہ صحت سندھ کی میڈیا کوآرڈینیٹر میران یوسف نے کہا تھا کہ کراچی شرقی سے تعلق رکھنے والے 53 سالہ شہری کا ٹیسٹ کیا گیا تھا جو مثبت آیا۔

علاوہ ازیں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے بھی بذریعہ ٹوئٹ کراچی میں کورونا وائرس کے 9 کیسز کی تصدیق کی۔

یاد رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری کو کراچی میں سامنے آیا تھا جس کے فوری بعد وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے دوسرے کیس کی بھی تصدیق کی تھی۔

بعد ازاں 29 فروری کو اسلام آباد میں معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس میں ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا تھا کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے مزید 2 کیسز سامنے آگئے ہیں اور مجموعی تعداد 4 ہوگئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کا ایک کیس سندھ اور دوسرا وفاق میں رپورٹ ہوا ہے جبکہ پہلے رپورٹ ہونے والے مریض تیزی سے روبصحت ہیں۔

دوسری جانب محکمہ صحت سندھ نے بھی کراچی میں کورونا وائرس کے نئے مریض کی تصدیق کی تھی۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا نے 3 مارچ کو پانچویں کیس کی بھی تصدیق کی تھی جس کے بعد 6 مارچ کو کراچی میں 69 سالہ شہری میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی جو سندھ میں تیسرا اور پورے پاکستان میں چھٹا کیس تھا۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس 19 دسمبر کو چین میں کورونا وائرس کا پہلا مریض سامنے آیا تھا اور یہ وائرس اب تک دنیا کے 108 ممالک میں پھیل چکا ہے جس سے متاثرین کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 10 ہزار سے زائد ہوگئی ہے۔

کوروناوائرس سے دنیا بھر میں اب تک 3 ہزار 800 ہلاکتیں ہوئیں جبکہ 62 ہزار 53 افراد اس وائرس سےنجات حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے اور انہیں مکمل صحت یاب ہونے پر ہسپتالوں سے خارج کردیا گیا۔

چین میں سب سے زیادہ متاثرین ہیں اور ہلاکتیں بھی سب سے زیادہ ہوئیں جس کے بعد جنوبی کوریا دوسرا ملک جہاں سب سے زیادہ متاثرین رپورٹ ہوئے۔

کورونا وائرس ہے کیا؟

کورونا وائرس کو جراثیموں کی ایک نسل Coronaviridae کا حصہ قرار دیا جاتا ہے جو مائیکرو اسکوپ میں یہ نوکدار رنگز جیسا نظر آتا ہے اور نوکدار ہونے کی وجہ سے ہی اسے کورونا کا نام دیا گیا ہے جو اس کے وائرل انویلپ کے ارگرد ایک ہالہ سے بنادیتے ہیں۔

کورونا وائرسز میں آر این اے کی ایک لڑی ہوتی ہے اور وہ اس وقت تک اپنی تعداد نہیں بڑھاسکتے جب تک زندہ خلیات میں داخل ہوکر اس کے افعال پر کنٹرول حاصل نہیں کرلیتے، اس کے نوکدار حصے ہی خلیات میں داخل ہونے میں مدد فرہم کرتے ہیں بالکل ایسے جیسے کسی دھماکا خیز مواد سے دروازے کو اڑا کر اندر جانے کا راستہ بنایا جائے۔

ایک بار داخل ہونے کے بعد یہ خلیے کو ایک وائرس فیکٹری میں تبدیل کردیتے ہیں اور مالیکیولر زنجیر کو مزید وائرسز بنانے کے لیے استعمال کرنے لگتے ہیں اور پھر انہیں دیگر مقامات پر منتقل کرنے لگتے ہیں، یعنی یہ وائرس دیگر خلیات کو متاثر کرتا ہے اور یہی سلسلہ آگے بڑھتا رہتا ہے۔

عموماً اس طرح کے وائرسز جانوروں میں پائے جاتے ہیں، جن میں مویشی، پالتو جانور، جنگلی حیات جیسے چمگادڑ میں دریافت ہوا ہے اور جب یہ انسانوں میں منتقل ہوتا ہے تو بخار، سانس کے نظام کے امراض اور پھیپھڑوں میں ورم کا باعث بنتا ہے۔

ایسے افراد جن کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے یعنی بزرگ یا ایچ آئی وی/ایڈز کے مریض وغیرہ، ان میں یہ وائرسز نظام تنفس کے سنگین امراض کا باعث بنتے ہیں۔

error: