سنگاکارا کا آسٹریلیا، انگلینڈ کو پاکستان کا دورہ کرنے پر زور

میریلیبون کرکٹ کلب (ایم سی سی) کے صدر اور سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان کمار سنگاکارا نے کہاہے کہ پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کے تسلسل کے لیے آسٹریلیا اور انگلینڈ کو ضرورہ دورہ کرنا چاہیے۔

کمار سنگاکارا کا کہنا تھا کہ 'جب سیکیورٹی کے اقدامات کیے گئے ہوں تو دنیا کی توجہ کیلئے ایک ایشیائی ٹیم یا دوسری ٹیم کے وہاں جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میرے خیال میں یہ ضروری ہے کہ انگلینڈ یا آسٹریلیا یہاں تک کہ جنوبی افریقہ کو دورے کا ذہن بنالینا چاہیے، جب سیکیورٹی یقینی ہے اور ایم سی سی کا دورہ اس کی نشانی ہے'۔

سنگاکارا رواں برس فروری میں پاکستان کا دورہ کرنے والی ایم سی سی ٹیم کا حصہ تھے لیکن دنیا کی صف اول کی ٹیمیں سیکیورٹی خدشات کے باعث دورے سے کترا رہی ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان میں مارچ 2009 میں سری لنکا کی ٹیم پر ہوئے حملے کے بعد گزشتہ برس دسمبرمیں پاکستان میں سری لنکا ہی کے خلاف پہلا ٹیسٹ کھیلا گیا تھا جس کے بعد فروری میں بنگلہ دیش کے ساتھ راولپنڈی میں قومی ٹیم نے ایک ٹیسٹ میچ کھیلا تھا۔

بنگلہ دیش نے دورہ پاکستان کو تین مرحلوں میں تقسیم کیا تھا لیکن آخری مرحلہ کورونا وائرس کے باعث مارچ میں ہی منسوخ کرنے کا اعلان کردیا گیا تھا۔

لاہور میں 2009 میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملے کے بعد پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ ختم ہوگئی تھی جبکہ اس حملے میں 6 کھلاڑیوں کے علاوہ 6 پولیس اہلکاروں سمیت 8 پاکستانی زخمی ہوگئے تھے۔

کمارسنگاکارا نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں طویل دورے کے لیے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

سری لنکا کے لیے 28 ہزار سے زائد رنز بنانے والے کمار سنگاکارا کا کہنا تھا کہ 'میرا نہیں خیال کہ مستقبل قریب میں 5 میچوں کی ٹیسٹ اور ایک روزہ سیریز کے میچ تسلسل سے کھیلے جاسکیں'۔

انہوں نے کہا کہ 'میرے خیال میں دو ٹیسٹ میچ کھیلنے کے بعد وقفہ لیا جائے اور اس کے بعد دوبارہ جاکر تین ون ڈے میچ کھیلے جائیں'۔

سابق عظیم بلے باز کا کہنا تھا کہ 'یہ طویل دورے کے لیے مکمل طور پر صحیح وقت نہیں ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ بہتر رابطہ کاری اور اقدامات سے کھلاڑی دوبارہ جاسکتے ہیں اور معیاری کرکٹ کھیل سکتے ہیں اورپاکستان میں کرکٹ کو واپس لایا جاسکتا ہے'۔

پاکستان نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے 2023 سے 2031 کے دوران بین الاقوامی ٹورنامنٹس کی میزبانی کے لیے خواہش مندوں ملکوں کے نام طلب کرنے میزبانی کی پیش کش کردی ہے۔