Site icon Dunya Pakistan

سنگِ ماہ میں صوابی کی روایتی چادر ’چیل‘ کا استعمال: ’سکھوں کے ساتھ جنگ کے بعد‘ چیل پشتون ثقافت کا حصہ کیسے بنی؟

یہ روایت زبان زدِ خاص و عام ہے کہ سنہ 1800 میں جب سکھوں نے موجودہ خیبرپختونخوا کے شہر صوابی میں شاہ منصور کے مقام پر حملہ کیا تھا تو پشتون قبائل نے بڑی بہادری کے ساتھ اُن کا مقابلہ کیا اور شکست دے کر انھیں بھاگنے پر مجبور کر دیا تھا۔

اس جنگ میں کئی لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے، جس کے بارے میں سُنتے ہی عورتیں میدان جنگ کی جانب دوڑیں اور انھوں نے ہلاک ہونے والے اپنے لواحقین پر اپنی سفید چادریں ڈال دیں، جس سے چادروں پر خون کے دھبے پڑ گئے۔

صوابی کی خواتین گذشتہ ڈیڑھ سو سال سے اس روایت کو اپنائے ہوئے ہیں اور سرخ دھبوں والی چادریں پہنے نظر آتی ہیں جسے ’چیل‘ یا ’صوابی چیل‘ کہا جاتا ہے۔

مقامی خواتین کے لیے یہ صرف چادر نہیں ہے بلکہ ان لوگوں سے عقیدت کے اظہار کا ذریعہ ہے جنھوں نے اپنے علاقے کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا۔ آج پہنے جانی والی چادروں پر خون کے سرخ دھنے پھولوں کی صورت میں نمایاں ہوتے ہیں۔

حال ہی میں یہ مخصوص چادر یعنی ’چیل‘ ایک بار پھر سے موضوعِ گفتگو ہے اور اس کی وجہ ہے اتوار سے ہم ٹی وی پر نشر ہونے والا نیا ڈرامہ سیریل ’سنگِ ماہ‘، جس میں اداکارہ ثانیہ سعید چیل پہنے نظر آتی ہیں۔

بی بی سی بات کرتے ہوئے اداکارہ ثانیہ سعید نے بتایا کہ ڈرامے میں چیل اوڑھتے ہوئے انھیں یقیناً اس کی اہمیت کا اندازہ تھا اور انھیں خوشی ہے کہ لوگ اس کی اہمیت کو پہچان رہے ہیں۔

،تصویر کا کیپشن’سنگِ ماہ‘ کی کہانی پاکستان کے قبائلی علاقہ جات کی فرسودہ روایات اور رسم و رواج کے گرد گھومتی ہے اور اس ڈرامے میں قبائلی روایت ’غگ‘ یا ’ژغ‘ پر روشنی ڈالی گئی ہے

ضلع صوابی کے علاقے شاہ منصور سے تعلق رکھنے والے معلم، مصنف اور تحقیق کار نور الامین نے بی بی سی کے عزیز اللہ خان سے اس چادر کی تاریخ و اہمیت پر بات کی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اسے مقامی طور پر ’چیل‘ کے نام سے ہی جانا جاتا ہے اور چیل اوڑھنے کی روایت 1880 سے اس علاقے میں جاری ہے۔

نور الامین کا کہنا تھا کہ ’مجھے میری دادی اور میری دادی کو ان کی دادی نے بتایا تھا کہ یہ رنجیت سنگھ کا دور تھا جب ان کے علاقے میں اکثر سکھ آتے اور حملہ کر کے چلے جاتے تھے۔ ایک مرتبہ مقامی لوگ علاقے کے رہنما ملک نجیب اللہ خان کی قیادت میں متحد ہو گئے اور انھوں نے مزاحمت کا فیصلہ کیا۔‘

’اگلی مرتبہ جب سکھ آئے تو مقامی لوگ تیار تھے اور مقابلے کے لیے مقامی لوگوں نے گندم اور بھوسے کو علیحدہ کرنے والے ایک اوزار کا بھی استعمال کیا تھا۔ اس مقابلے میں سکھ بھاگنے پر مجبور پو گئے مگر مقامی لوگ بھی بڑی تعداد میں ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔‘

نور الامین بتاتے ہیں کہ مقامی روایات کے مطابق ’یہ جھڑپ ختم ہو گئی تو زخمی اور لاشیں زمین پر پڑی تھیں۔ ایسے میں علاقے کی تمام خواتین باہر نکل آئیں اور انھوں نے لاشوں اور زخمیوں پر اپنی سفید چادریں بچھا دی تھیں۔‘

’ان چادروں پر خون کے سُرخ نشان پڑ گئے تھے جنھیں بعد میں عقیدت کے طور پر سنبھال لیا گیا تھا۔ علاقے کی خواتین کو ’چیل‘ سے اتنی محبت تھی کہ وہ انھیں چادروں کے طور پر اوڑھنے لگی تھیں۔‘

،تصویر کا کیپشنریمام خان چیل پہنے نظر آ رہی ہیں

نور الامین بتاتے ہیں کہ چیل کے متعلق ایک روایت یہ بھی ہے کہ باکو خان کی مغلوں کے ساتھ جنگ ہوئی تھی جس میں یوسفزئی قبیلے کے لوگ شریک تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس جنگ میں ہر گھر سے ایک، ایک دو، دو لوگ شریک تھے اور اس جنگ کے خاتمے کے بعد خواتین نے چادریں زخمیوں اور لاشوں کو اوڑھائی تھیں۔

نورالامین کے مطابق چیل کی روایت کے زیادہ شواہد شاہ منصور میں سکھوں کے خلاف مزاحمت کی بعد سے ملتے ہیں۔

چیل کمرشل کیسے ہوئی؟

خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں خواتین کی چادروں کے ڈیزائن مختلف ہیں لیکن صوابی کی یہ چادریں بالخصوص صوابی کی خواتین استعمال کرتی ہیں۔

تاریخ دانوں کے مطابق صوابی میں خواتین چہرے پر نقاب نہیں کرتی تھیں صرف چادر اوڑھا کرتی تھیں۔ چیل سے عقیدت و احترام کے تعلق کے بعد مقامی سطح پر اسی ڈیزائن کی چادریں تیار کی جانے لگیں جسے خواتین نے پسند کیا اور یہی چادریں اوڑھنا شروع کر دیں۔

،تصویر کا کیپشنگلالئی اسماعیل ’چیل‘ اوڑھے ہوئے

چیل کے باقاعدہ ڈیزائن تیار ہوئے جو چار اقسام کے ہیں۔ مقامی سطح پر چادریں تیار کرنے والوں کو ’دھوبیان‘ کہا جاتا تھا جو یہ چادریں تیار کیا کرتے تھے۔

اس بارے میں پشاور یونیورسٹی کے آرٹ اینڈ ڈیزائن ڈیپارٹمنٹ میں چیل کے ڈیزائن پر تحقیق بھی کی گئی ہے جس کے مطابق اس چادر کے سرخ رنگ کے پھول در اصل تاریخی واقعات کی عکاسی کرتے ہیں۔

چیل کون سی خواتین اوڑھتی ہیں؟

خاتون صحافی، سوشل ورکر اور پشتون تحریک حقوق نسواں کی بانی ثنا اعجاز کے مطابق بنیادی طور پر چیل کی چار اقسام ہیں لیکن تین اقسام زیادہ استعمال ہوتی ہیں۔ ان میں ایک سفید چادر ہے جس پر سرخ رنگ کے دھبے ہوتے ہیں، ایک چادر سبز رنگ کی ہوتی ہے جس پر سبز اور سرخ رنگ کے چھوٹے بڑے ڈاٹس ہوتے ہیں اور ایک نیلے سبز رنگ کی ہوتی ہے۔

سفید رنگ کی چادریں رزڑ اور کالو خان کے علاقے میں زیادہ پہنی جاتی ہیں۔ اسی طرح باقی اقسام کی چادریں بھی مختلف علاقوں میں پسند کی جاتی ہیں۔

ثنا اعجاز کا کہنا تھا کہ پہلے یہ کپڑا مقامی سطح پر کھڈیوں میں بنتا تھا۔ یہ کھڈیاں مختلف علاقوں میں واقع تھیں لیکن اب کافی کم ہو گئی ہیں اس لیے اب زیادہ تر ان چادروں کا کپڑا پاکستان کے دیگر بڑے شہروں سے آ رہا ہے۔

صوابی میں قوم پرست گھرانوں میں چادریں زیادہ استعمال ہوتی ہیں اور ان چادروں کی اقسام سے ان علاقوں کی خواتین کی پہچان بھی ہوتی ہے۔

ثنا اعجاز کے مطابق زیادہ تر شادی شدہ خواتین یہ چادریں استعمال کرتی ہیں، نوجوان لڑکیاں زیادہ تر شالیں استعمال کرتی ہیں اور 9/11 کے بعد سے جو صورتحال بنی ہے اس کے بعد سے اب عبایہ کا استعمال بھی اس علاقے میں عام ہوتا جا رہا ہے۔

،تصویر کا کیپشنثانیہ سعید اور زاویار اعجاز۔ اس ڈرامے کے ہدایت کار سیفی حسن ہیں، جنھوں نے سنہ 2016 میں نشر ہونے والے سنگِ ماہ کے پہلے سیزن ’سنگ مرمر‘ کی ہدایات کاری کی تھی

ثقافت اور چیل

تاریخ سے جڑی اس ثقافت کے ساتھ اب بھی بہت سارے علاقے اور لوگ جڑے ہوئے ہیں۔ اگرچہ صوابی میں بیشتر خواتین کو اس چادر کی تاریخی روایت سے آگاہی شاید نہ ہو لیکن اس چادر کا اوڑھنا وہاں فرض سمجھا جاتا ہے۔

تاریخ اور ثقافت پر گہری نظر رکھے ہوئے صحافی شیر عالم شنواری نے بی بی سی کو بتایا کہ چیل کا استعمال ایک تو روایت ہے اور دوسرا اس چادر سے مکمل پردہ ہوتا ہے۔

’یہ چادر سائز میں بڑی ہوتی ہے اور صوابی میں خواتین چیل کو پسند بھی کرتی ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اس چادر میں خاص وضع اور قطع نظر آتی ہے اور مقامی خواتین اس پر فخر کرتی ہیں۔ ’

سوشل میڈیا پر چیل کی تاریخ کے حوالے سے مختلف آرا موجود ہیں۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے شفیق گگیانی نے بھی اس چادر کا تعلق 1800 میں سکھوں اور یوسفزئی قبائل کے درمیان ہونے والی لڑائی سے جوڑا ہے۔

اسی ٹویٹ کے نیچے سعدیہ شاہ لکھتی ہیں ’میں نے سنا تھا کہ کچھ خواتین لڑتے لڑتے مر گئیں اور مرد انھیں کفن سے ڈھانپنے کے لیے بھاگے جو سرخ رنگ کے تھے۔ اسی لیے صوابی میں خواتین اسے پہنتی ہیں۔‘

تاہم انھوں نے یہ جاننے کی خواہش کا اظہار کیا کہ صوابی ضلع کے مختلف علاقوں میں مختلف رنگ اور ڈِاٹ والی چیل کیوں پہنی جاتی ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کی بشریٰ گوہر نے انھیں جواب دیتے ہوئے لکھا کہ ’میرا ماننا ہے کہ مختلف رنگ بعد کی اختراعات ہیں۔۔۔ اصل چادریں اب بھی اسی ڈیزائن کی ہیں جن میں بھاری سوتی کپڑے پر بڑے سرخ ڈاٹس ہیں۔‘

عالمگیر خان کے مطابق ’چیل سے جڑا تاریخی پس منظر متضاد ہے کیونکہ سرخ یا سیاہ نقطوں کے ساتھ سبز چادریں تحصیل رستم کی نمائندگی کرتی ہیں، خاص طور پر گاؤں ’ماچی‘ کی۔‘

تاہم شاہد جدون نامی صارف لکھتے ہیں کہ ’صوابی کی ثقافتی چادر ایک بہت پرانی اور تاریخی چادر ہے۔جب شاہ منصور کے میدان میں یوسفزئی قبیلے اور سکھوں کے درمیان لڑائی ہوئی اور سکھ ہار کر بھاگ گئے تو یوسفزئی قبیلے کی عورتیں اپنے شوہر باپ اور بیٹوں کو دیکھنے میدان جنگ میں آئیں تاکہ دیکھ سکیں کہ کہ ان کے مرد کس حال میں ہیں۔ جب انھوں نے دیکھا کہ ان کے مرد ’شہید‘ ہو چکے ہیں تو اپنی سفید چادریں بچھائیں اور ’شہیدوں‘ کے خون کے دھبے ان چادروں پر لگ گئے۔‘

وہ لکھتے ہیں کہ یہ دھبے آج بھی ہمارے دلوں میں ان ’شہیدوں‘ کی قربانیوں کو زندہ رکھتے ہیں۔

Exit mobile version