سوات کی خاتون صحافی: ’مجھے کہا جانے لگا کہ دیکھو یہ لڑکی کس طرح مردوں میں بیٹھ کر کام کرتی ہے‘

’سوات میں صحافت کرنے پر مجھے کہا گیا کہ میڈیا میں کام کرنے والی لڑکیاں غلط ہوتی ہیں۔ خاندان والوں نے بھی سخت مخالفت کی۔‘

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ میں مالاکنڈ ڈویژن کے جو علاقے کچھ برس قبل عسکریت پسندوں کے نشانے پر تھے، اب وہ صحافی شائستہ حکیم کے کیمرے کی آنکھ میں ہیں۔ انھوں نے اپنے صحافتی سفر کا آغاز سوات کے اخبارات سے کیا اور پھر انھیں مینگورہ کے خیبر ٹی وی کے لیے کام کرنے کا موقع ملا۔

شائستہ حکیم کا دعویٰ ہے کہ یہاں آٹھ سال کام کرنے کے باوجود انھیں اب تک کسی صحافتی تنظیم کی رکنیت نہیں ملی۔ اس کی وجہ سے انھیں کام کے سلسلے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس پر سوات الیکڑانک میڈیا ایسوسی ایشن کے صدر نیاز احمد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ شائستہ حکیم سے متعلق یہی رائے سامنے آئی کہ ایک خاتون صحافی کے ساتھ ہماری ایڈجسٹمنٹ مشکل ہو گی، یعنی ان کو کس طرح مختلف پروگراموں اور رپورٹنگ کے لیے ساتھ لے کر چلیں گے۔

شائستہ حکیم کا تعلق سوات میں مٹہ کے علاقے کے ایک قصبے چیریال سے ہے۔

چیریال سوات کا وہ علاقہ ہے جہاں سے تحریک طالبان پاکستان کا آغاز ہوا تھا کیونکہ اس تحریک میں شامل ہونے والے اکثر عسکریت پسندوں کا تعلق بھی یہیں سے تھا۔ چیریال کے علاقے میں سب سے پہلے طالبان ریڈیو قائم کیا گیا تھا۔

شائستہ حکیم
انھیں دھمکی دی گئی کہ ’تم جو کچھ کر رہی ہو یہ ٹھیک نہیں ہے، اس کا انجام اچھا نہیں ہوگا‘

شائستہ حکیم کی تین بہنیں اور دو بھائی ہیں۔ ان کے والد بیرون ملک ملازمت کرتے ہیں۔ والدہ معمولی پڑھی لکھی ہیں جبکہ والد کوئی تعلیم حاصل نہیں کر سکے۔ انھیں اس کمی کا احساس تھا اور اس کمی کو انھوں نے اپنے بچوں کو تعلیم دلا کر بھی پورا کیا۔

شائستہ حکیم کے ایک بھائی اب سوات ہی میں ایک کالج میں معلم ہیں جبکہ تمام بہنیں پڑھی لکھی ہیں۔

کرفیو میں گھر چھوڑنے کی تلخ یادیں

شائستہ حکیم نے میٹرک تک تعلیم مٹہ گورنمنٹ گرلز سکول سے حاصل کی۔ انھوں نے سیدو شریف گرلز کالج سے بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ بی اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد سوات یونیورسٹی سے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔

شائستہ حکیم کا کہنا ہے کہ انھوں نے صحافت میں آنے کا فیصلہ تو اس وقت ہی کر لیا تھا جب سوات میں طالبان تحریک کی وجہ سے وہ بی اے کے امتحانات نہ دے سکی تھیں۔ علاقے میں جب کرفیو کا نفاذ ہوا تو سوات کی باقی آبادی کی طرح شائستہ حکیم کو بھی ایک افراتفری کی سی کیفیت میں سوات چھوڑنا پڑا تھا۔

شائستہ حکیم کا کہنا ہے کہ اُس وقت کے حالات کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔ لوگ سوات چھوڑ رہے تھے، اکثریت پیدل چل رہی تھی، کسی خاتون کے سر پردوپٹہ تھا تو کسی کے سر پر وہ بھی نہیں۔ کسی کے پاؤں میں ایک جوتی تھی کو کسی کے پاس وہ بھی نہیں تھی۔

’میں دیگر لوگوں اور اپنے خاندان کے ہمراہ پیدل چل کر پشاور پہنچی تھی۔‘

شائستہ حکیم کے مطابق اس وقت صحافیوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر سب تک اطلاعات پہنچنا ممکن بنایا۔

’یہ وہ لمحات تھے جب میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اب میں بھی صحافی بن کر ایسی ہی نڈر رپورٹنگ کروں گی۔‘

صحافت اوّل ترجیح کیسے بنی؟

شائستہ حکیم کا کہنا ہے کہ بی اے کے بعد ’جب یونیورسٹی میں داخلہ لینے کا وقت آیا تو اس وقت میں نے کہا کہ اب ماس کمیونیکشن میں داخلہ اول ترجیح بن گئی ہے جس پر میری والدہ ناراض ہو گئیں۔‘

’میری والدہ نے کہا کہ یہ بات ہمارا خاندان برداشت نہیں کرے گا کہ تم ٹیلی ویژن پر آؤ اور یہ سارے کام کرو۔ جس پر میں نے کہا کہ پڑھنا ہے تو پھر ماس کمیونیکشن ہی پڑھوں گی ورنہ گھر پر ہی بٹھا دیں۔‘

یہ وہ موقع تھا جب شائستہ حکیم کی بڑی بہن اور بھائی مدد کو آئے۔ انھوں نے والدہ کو سمجھایا اور والد صاحب نے بھی کہا کہ جو یہ کرنا چاہتی ہے کرنے دو، جس کے بعد انھیں اجازت مل گئی۔

شائستہ حکیم کا کہنا ہے کہ ماس کمیونیکشن کے پہلے ہی سمسٹر میں پاکستان براڈ کاسٹنگ ایسوسی ایشن نے ملک بھر میں صحافت کے طلبا کے لیے ریڈیو پیکیج مقابلے کا اعلان کیا۔

’میں نے بھی اس میں حصہ لیا اور کم عمری کی شادی کے حوالے سے پیکج بنایا جسے مقابلے میں دوسری پوزیشن ملی۔‘

شائستہ حکیم
میڈیا میں کام کرنے پر شائستہ حکیم کو کہا گیا کہ ’یہ بے شرم ہے، اس کو شرم نہیں آتی ہے‘

شائستہ حکیم کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کے دوران ہی میں نے سوات کے مقامی اخبار آزادی میں کالم لکھنا شروع کیا تو خوب پذیرائی ملی۔

وہ اپنے صحافت کے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں ’روزنامہ آزادی کے دفتر میں، میں صرف کام سیکھنے جاتی تھی۔ یونیورسٹی سے روزانہ برقعہ پہن کر اخبار کے دفتر پہنچ جاتی تھی۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’یہیں سے ہی سے میری مشکلات اور صبر کا امتحان شروع ہوچکا تھا۔ مجھے کہا جانے لگا کہ دیکھو یہ لڑکی کس طرح مردوں میں بیٹھ کر کام کرتی ہے۔ مجھے کہا گیا کہ یہ بے شرم ہے اس کو شرم نہیں آتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ میں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنا کام جاری رکھا۔

سنہ 2014 میں ماسٹرز کرنے کے بعد انھیں ریڈیو پاکستان پشاور میں کام کرنے کا موقع ملا۔ شائستہ نے سنہ 2016 میں خیبر ٹی وی اور پھر بعد میں کے ٹو ٹی وی کے لیے بھی کام کیا۔ شائستہ پہلے نیوز کاسٹر بنیں اور پھر وہ ایک پروگرام کی میزبان بن گئیں۔ اس پروگرام کے لیے وہ خود رپورٹنگ کرنے دور دراز علاقوں تک جاتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مالاکنڈ کے علاوہ دیر، بنیر اور چترال تک جا کر رپورٹنگ کی ہے۔

صحافت ایک کٹھن سفر

شائستہ حکیم نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ لوگ ایک خاتون صحافی کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ کئی مرتبہ مجھے میرے سامنے کہا گیا کہ میڈیا میں کام کرنے والی لڑکیاں غلط ہوتی ہیں۔ شروع میں جب یہ جملے کہے گئے تو میری وہ حالت ہوئی کہ بتا نہیں سکتی کہ میں نے کیا غلط کام کیا ہے۔ مگر اب سنی ان سنی کردیتی ہوں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ سب سے زیادہ مخالفت تو میرے خاندان میں ہوئی۔

خاندان والوں نے کہا کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ پشتون لڑکی ٹیلی وژن پر آرہی ہے، مردوں کے درمیان کام کررہی ہے۔

’کئی رشتہ دار اب بھی میرے ساتھ بات نہیں کرتے ہیں۔ اگر کبھی کسی مقام پر یا خاندان کی تقریب میں آمنا سامنا بھی ہو جائے تو میرا سلام تک لینا گوارہ نہیں کرتے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ مگر اب کئی لوگ میری کام کی تعریف بھی کرتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ میرا زیادہ فوکس مقامی مسائل پر ہوتا ہے لوگوں کے مسائل جب میری وجہ سے حل ہوتے ہیں تو پھر میرا شکریہ بھی ادا کرتے ہیں اور کئی ایک نے تو یہ بھی کہا کہ ہمیں یقین نہیں آتا کہ ایک لڑکی بھی اس طرح کام کرسکتی ہے۔

شائستہ حکیم کا کہنا ہے کہ سنہ 2016 میں پاکستانی صحافیوں کے لیے امریکہ میں تربیت کے ایک پروگرام کے لیے درخواست دی تو اس میں ان کا انتخاب ہو گیا مگر اس کے بعد انھیں دھمکیاں بھی ملیں۔

’پہلی دھمکی مجھے اس وقت ملی جب میں اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے میں انٹرویو دے کر آئی تھی۔ مجھے کہا گیا کہ میں جو کچھ کر رہی ہوں یہ ٹھیک نہیں ہے، اس کا انجام اچھا نہیں ہو گا۔ اس وقت تو بہت ڈر گئی تھی۔‘

شائستہ حکیم
’مجھے لگتا ہے کہ لوگ ایک خاتون صحافی کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں‘

اس موقع پر تعاون کرنے والے مرد ساتھی صحافیوں سے بات کی۔ انھوں نے کہا کہ سوات کی صحافت میں تو یہ ہوتا ہے۔ اگر اس سے خوف آتا ہے تو پھر یہ سب چھوڑنا پڑے گا۔ اگر کام کرنا ہے تو پھر ہمت دکھانی پڑے گی۔

شائستہ حکیم کا کہنا تھا ’میں نے ہمت دکھائی امریکہ میں تربیت حاصل کی۔‘

’مجھے کئی مرتبہ لوگوں نے کہا کہ سوات میں اتنی مشکلات کے باوجود کام کررہی ہو۔ پشاور یا اسلام آباد منتقل ہوجاؤ، وہاں پر اچھے مواقع ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ انھیں اسلام آباد اور پشاور میں بھی کام کرنے کی پیشکش ہوئی مگر انھوں نے فیصلہ کر رکھا تھا کہ سوات ہی میں کام کرنا ہے۔

’اگر میں نے سوات کو چھوڑ دیا تو پھر صحافت اور عملی میدان میں سوات سے کوئی دوسری لڑکی ہمت نہیں کر پائے گی۔ میں اس وقت سوات میں تنہا ہوں۔‘

تاہم انھیں اب بھی امید ہے کہ ایک وقت آئے گا جب سوات سے مزید لڑکیاں اس شعبے میں کام کر سکیں گی۔

error: