جمالیات

سوشل میڈیا صارفین مرزاپور 2 کی ویب سیریز کا بائیکاٹ کیوں کرنا چاہتے ہیں؟

Share

انڈیا میں سوشل میڈیا پر ‘بائیکاٹ بالی وڈ’ یا کسی مخصوص فلم کی مخالفت کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ کسی کے خیال میں یہ تشہیر کی دانستہ کوشش ہوتی ہے تو کوئی کہتا ہے کہ اس کے پیچھے کسی پرانے قضیے کا شاخسانہ ہوتا ہے۔

گذشتہ دنوں ویب سیریز ‘مرزاپور 2‘ کا ٹریلر ریلیز ہوا ہے اور ایمازون کی یہ سیریز اکتوبر کے آخری ہفتے میں ریلیز ہو رہی ہے۔ بدھ کی صبح سے ٹوئٹر پر انڈیا کے ٹاپ ٹرینڈز میں ‘بائیکاٹ مرزا پور 2‘ شامل نظر آیا۔

پہلی نظر میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس ویب سیریز کی مخالفت انڈیا میں گذشتہ سال متعارف کرائے جانے والے شہریت کے متازع قانون (سی اے اے) کی مخالفت کرنے کے سبب ہے۔

اس بائیکاٹ کی حمایت کرنے والوں نے بڑی تعداد میں یہ لکھا ہے کہ چونکہ اس کی کاسٹ اور اس کے پروڈیوسرز نے شہریت کے قانون کی مخالفت کرنے والوں اور اس کے خلاف انڈیا بھر میں مظاہرہ کرنے والوں کی حمایت کی تھی، اس لیے وہ اس ویب سیریز کی مخالفت کر رہے ہیں۔

مہیش وکرم ہیگڑے ٹوئٹر پر ایک سرگرم صارف ہیں جن کے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں اور وہ اپنے پروفائل پر اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ انھیں وزیر اعظم نریندر مودی فالو کرتے ہیں۔

انھوں نے گذشتہ روز مرزاپور 2 میں مرکزی کردار ادا کرنے والے اداکار علی فضل کا ایک ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے ٹویٹ کیا: ’بالی وڈ کے اس اداکار نے سی اے اے کے خلاف مظاہرے کے دوران بیرون ملک انڈیا کو بدنام کیا۔ جلد ہی ویب سیریز ‘مرزاپور 2’ ریلیز ہونے والی ہے۔ امید کرتا ہوں کہ آپ کو معلوم ہوگا کہ کیا کرنا ہے۔‘

ان کے اس ٹویٹ کو کم از کم ڈھائی ہزار بار ری ٹویٹ کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ بہت سارے کمنٹس بھی آئے ہیں۔ آدھیرا سپیکس نامی صارف نے ‘بائیکاٹ مرزاپور2’ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ لکھا: ‘اب ایسے لوگوں کی کوئی فلم یا ویب سیریز نہیں جو اپنے ملک کے وفادار نہ ہوں۔’

بی جے پی کارکن سری کانتھ بی جے پی نامی صارف نے لکھا: ‘ہندوؤں سے نفرت کرنے والے علی فضل کے مرزاپور 2 کا بائیکاٹ کریں۔’

بہت سے صارفین نے ‘بائیکاٹ مرزاپور2 ‘ کے ساتھ علی فضل کے ایک پرانے ٹویٹ کو پوسٹ کیا ہے جس میں انھوں نے مبینہ طور پر لکھا ہے وہ پہلے مجبوری میں سی اے اے کی مخالفت میں اترے تھے لیکن ’اب مزا آ رہا ہے۔’

مرزاپور2

انڈیا کے سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کے فین کے نام سے ٹوئٹر ہینڈل چلانے والے صارف نے علی فضل اور وکرانت میسی کے ٹویٹس کی فوٹو شاٹ کے ساتھ لکھا ہے کہ ‘مرزاپور کے دونوں لیڈ ایکٹرز نے انڈیا کے خلاف بیان دیا ہے اور سی اے اے مخالف مظاہرے کی حمایت کی ہے۔ فرحان اختر اس سیریز کے شریک پروڈیوسر ہیں۔ کیا یہ بات مرزاپور 2 کا بائیکاٹ کرنے کے لیے کافی نہیں۔’

لیکن ‘بائیکاٹ مرزاپور 2’ کے ہیش ٹیگ کا جواب دینے والے لوگ بھی سرگرم ہیں اور وہ طرح طرح کے میمز شیئر کر رہے ہیں اور اس ٹرینڈ کی حمایت کرنے والوں کا مذاق اڑا رہے ہیں۔

لیتھیم ڈراپ نامی ٹوئٹر ہینڈل سے پریانک پرمار نے لکھا: یہ کیا گندگی مچائی ہے! آپ لوگ کنگنا راناوت اور انوپم کھیر جیسے بالی وڈ سٹارز کی صرف اس لیے حمایت کرتے ہو کہ اکشے کمار نے کہا ہے کہ ‘سارا بالی وڈ گندا نہیں ہے۔’ اور علی ظفر کا دوسرا نقطۂ نظر ہے تو آپ اس کا بائیکاٹ کر رہے ہو؟ کوئی کام تلاش کرو اور ہر چیز پر بائیکاٹ لکھنا بند کرو۔’

ٹوئٹر

خیال رہے کہ اس میں اداکار سوشانت سنگھ کے سپورٹرز بھی شامل ہیں اور وہ یہ لکھ رہے ہیں کہ چونکہ اداکار فرحان اختر نے رھیا چکرورتی کی حمایت کی ہے اس لیے ان کی ویب سیریز کی مخالفت کی جانی چاہیے۔

نکیتا سنگھ نامی صارف نے لکھا: آپ لوگ جانتے ہو کہ بتانے کی ضرورت ہے؟ پروڈیوسر فرحان اختر۔ فرحان اور اس کے اہل خانہ نے کئی مواقع پر رھیا کی مدد کی۔ مرزا پور گالی گلوچ پر مبنی ہے اور آپ اپنے گھر والوں کے ساتھ اسے نہیں دیکھ سکتے۔’

ٹویٹ

گذشتہ روز ایمازون کی جانب سے جاری مرزاپور2 کے ٹریلر کو لاکھوں مرتبہ دیکھا جا چکا ہے اور اس 11 لاکھ لوگوں نے پسند کیا ہے تو 21 ہزار لوگوں نے ناپسند۔۔

اس سے قبل ‘مرزاپور’ کے نام سے جو سیریز آئی تھی وہ کافی مقبول ہوئی تھی اور اس کے اداکاروں کو ڈرامہ زمرے میں بہترین اداکاری اور معاون اداکاری کے لیے انعامات بھی ملے تھے۔

علی فضل

مرزا پور انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں ایک ضلع ہے۔ لیکن اس ویب سیریز میں یہ دکھایا گیا ہے کہ مشرقی اترپردیش میں اسی کا دبدبہ قائم رہ سکتا ہے جس کا مرزاپور پر کنٹرول ہو۔

مرزاپور2 میں پرانے اداکاروں کے ساتھ کچھ نئے اداکار بھی شامل ہوئے ہیں جن میں وجے ورما، پریانشو اور ایشا تلوار شامل ہیں۔ اس سیریز کے لیے زیادہ تر شوٹنگ ضلع مرزاپور اور اس کے نواحی اضلاع میں ہوئی ہے۔ پرانے اداکاروں میں پنکج ترپاٹھی، علی فضل، دویندو، شویتا ترپاٹھی، راکیش دگل اور ہرشیتا شیکھر گوڑ شامل ہیں۔

یہ ویب سیریز 23 اکتوبر سے امیزون پرائم ویڈیوز پر مختلف ہندوستانی زبانوں میں نشر کی جائے گی۔