Site icon Dunya Pakistan

سٹرنگز بینڈ کے خاتمے کا اعلان: سٹرنگز نے 33 برس کی رفاقت کا خاتمہ کر کے اپنے مداحوں کو اداس چھوڑ دیا

'میرے یار ایسے نہ لوٹو میرے من کا قرار'

یہ بول سٹرنگز بینڈ کے گانے 'سر کیے یہ پہاڑ' کے ہیں اور شاید یہ درخواست اس وقت اس بینڈ کے لاکھوں مداحوں کی بھی ہے جو ان سے ایسے اچانک جدا ہونے کو تیار نہیں ہیں۔

پاکستان میں انتہائی مقبول بینڈ سٹرنگز کے بلال مقصود اور فیصل کپاڈیا کی جانب سے جمعرات کے روز 33 برس بعد بینڈ کو ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ پاکستانیوں کی کئی نسلوں کی بچپن کی یادیں سٹرنگز کے گانوں سے جڑی ہیں۔

اس بینڈ کی خاصیت یہ رہی ہے کہ جہاں ان کے دور کے دیگر بینڈ کسی نہ کسی وجہ سے ٹوٹتے چلے گئے وہاں سٹرنگز نے ایک کے بعد ایک مقبول گانا پیش کیا اور مداحوں کے دلوں میں جگہ بنائے رکھی۔

ان کی مقبولیت اور مستقل مزاجی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ سنہ 2018 میں سٹرنگز کی جانب سے 30 کے نام سے ایک ایلبم ریلیز کی گئی جس کے اکثر گانوں کو انتہائی مقبولیت ملی۔ لیکن شاید جو گانا سب سے زیادہ مشہور ہوا وہ ’میرا بچھڑا یار‘ ہے۔

مداحوں کو الوداع کہتے ہوئے سٹرنگز کی جانب سے کہا گیا ہے کہ گذشتہ 33 برس ہمارے لیے انتہائی بہترین رہے اور ہم اپنے مداحوں کے شکرگزار ہیں کہ انھوں نے ہمیں ایسے کام کرنے کے قابل بنایا جو عام طور پر کم ہی کیے جاتے ہیں۔

بلال اور فیصل کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ 'یہ بینڈ تو اب باقی نہیں رہا لیکن ہم دونوں کے درمیان موجود نہ ٹوٹنے والا رشتہ قائم رہے گا، چاہے زندگی ہمیں کہیں بھی لے جائے۔'

لیکن 1988 میں شروع ہونے والے اس سفر کو 2021 میں اچانک اختتام پذیر ہوتے دیکھنا اس بینڈ کے مداحوں کے لیے یقیناً خاصا مشکل ہے۔

33 برس قبل ایک کالج میں چار دوستوں بلال مقصود، فیصل کپاڈیا، رفیق وزیر اور کریم بشیر سے شروع ہونے والے اس بینڈ کو جس گانے کے باعث آغاز میں سب سے زیادہ شہرت حاصل ہوئی وہ ’سر کیے یہ پہاڑ‘ تھا جس کی ویڈیو بلال مقصود نے خود ہی ڈائریکٹ کی اور پاپ میوزک کی پاکستان میں مقبولیت کے باعث 90 کی دہائی میں اس گانے کو کافی سراہا گیا۔

اس بینڈ کے رکن بلال مقصود ادب کے ایک معروف گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے والد انور مقصود کا اس بینڈ کے اکثر گانوں کے بولوں کو تراشنے میں اہم کردار رہا ہے جس کا اعتراف بلال اکثر کرتے رہے ہیں۔

90 کی دہائی میں کچھ عرصے کے لیے یہ بینڈ خاموش رہا، اور اپنی پڑھائیوں میں مصروف بلال اور فیصل موسیقی پر اتنی توجہ نہ دے پائے، تاہم پھر ’دور‘ گانے سے ایک مرتبہ پھر اس بینڈ کو ان کی کھوئی ہوئی پہچان ملی۔

اس گانے کی ویڈیو جسے معروف فلمساز جامی نے پروڈیوس کیا خاصی مقبول ہوئی اور سنہ 2000 کے آغاز میں جب پاکستان میں پے در پے نئے گانے آ رہے تھے، ادھر سٹرنگز بھی البم جیت لو دل، دھانی، نہ جانے کیوں، کہانی محبت کی، زندہ ہوں اور پل جیسے گانے ریلیز کیے۔

اس دوران کرکٹ کے مداحوں کو شاید ’ہے کوئی ہم جیسا‘ نہ بھول سکے جو سنہ 2003 کے ورلڈ کپ سے قبل ریلیز کیا تھا اور اسے خاصی مقبولیت ملی تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ پاکستانی ٹیم پہلے ہی راؤنڈ میں ورلڈکپ سے باہر ہو گئی تھی۔

سٹرنگز کے سرحد پار بھی اچھے خاصے مداح ہیں اور وہاں فلم زندہ کا گانا ’یہ ہے میری کہانی‘، شوٹ آؤٹ ایٹ لوکھنڈوالا میں گانا ’آخری الوداع‘ اور انڈین اداکار جان ایبراہم کی جانب سے پروڈیوس کی گئی ایلبم ’کوئی آنے والا ہے‘ خاصی مقبول ہوئی تھی۔

سنہ 2010 میں سٹرنگز اور عاطف اسلم کی شراکت سے بنایا گیا گانا ’اب خود کچھ کرنا پڑے گا‘ بھی خاصا مقبول ہوا تھا کیوںکہ وہ اس دور کی مناسبت سے بنایا گیا تھا جب دہشتگردی کے واقعات عروج پر تھے۔

سٹرنگز نے کوک سٹوڈیو کے چار سیزن بھی پروڈیوس کیے اور اس دوران سامنے آنے والے کئی گانے خاصے مقبول رہے ہیں اور جن سالوں میں پاکستان میں موسیقی کے نئے بینڈ کم ہی دیکھنے کو ملے، وہاں کوک سٹوڈیو کے گانوں سے کمی پوری کرنے کی کوشش کی گئی۔

’کاش یہ آخری الوداع نہ ہوتا‘

ایک صارف ادے رانا نے لکھا کہ شاید انڈیا اور پاکستان سٹرنگز بینڈ کے بہترین ہونے پر اتفاق کر سکتے ہیں۔ شکریہ سٹرنگز، تمام موسیقی کے لیے شکریہ۔ کاش یہ آخر الوداع نہ ہوتا۔

صارف عدیل اظہر نے کہا کہ ’سٹرنگز ہمارے ساتھ یہ کیسے کر سکتے ہیں۔ کیا یہ کوئی اپریل فول کا مذاق ہے؟‘

اسی طرح موسیقار ہارون شاہد نے کہا کہ سٹرنگز کا شکریہ، شاید تمام اچھی چیزوں کا اختتام ہونا ہوتا ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ بلال اور فیصل کسی نہ کسی حیثیت میں پاکستان کی موسیقی کے لیے کردار ادا کرتے رہیں گے۔ انھوں نے کہا اب ہمیں سٹرنگز کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ان کے گانوں کے کوّر شیئر کرنے ہوں گے۔‘

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے صارف سوحا نے سٹرنگز کا گانا ’نہ جانے کیوں‘ شیئر کیا جسے فلم سپائڈرمین میں بھی شامل کیا گیا تھا۔

ایک صارف نے لکھا کہ سٹرنگز عالمی وبا کے درمیان ہمارے ساتھ یہ کیسے کر سکتے ہیں۔ کیا انھیں معلوم نہیں ہے کہ ہم پہلے بہت مشکل سے گزارا کر پا رہے ہیں۔

Exit mobile version