سٹیٹس کو اور انتہا پسندانہ شورشیں

حالات کافی گھمبیر ہیں۔چار ہفتوں تک مسلسل غیریقینی نوعیت کی کاروائیوں کے بعد بالآخرحکومت لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے جہادیوں جہادیوں سے مغلوب ہوچکی ہے۔ان لوگوں رام کرنے کی ذمہ داری اب چودھری شجاعت کو سونپی گئی ہے جن کے سیاسی کیرئیر کا دارومدار ہی ملّاؤں کے ساتھ اتحادی روابط پر رہا ہے۔انٹیلی جینس ایجنسیاں،مختلف وزراء اور بعض کالم نگار بھی یاس و نومیدی کے عالم میں ہاتھ مل رہے ہیں کیونکہ یہ لوگ ان جہادیوں کے خلاف کسی سخت کاروائی کے مخالف ہیں۔تاہم یہ سب لوگ اس مسئلے کا جو حل پیش کرتے ہیں وہ غلط ہے کیونکہ انہوں نے مسئلے کی تشخیص ہی غلط کی ہے۔مذکورہ مسئلے کی تشخیص اور پھر حل کا جو فارمولا حکومت پیش کرتی ہے وہ کچھ اس طرح ہے کہ مذکورہ عناصر محض چند ایک بے لگام ملّاؤں پر مبنی ہیں جن کی پاس عوامی حمایت اگرچہ بہت کم ہے لیکن فساد وہ بہت بڑا کھڑا کر سکتے ہیں اس لئے ان کے خلاف طاقت کے استعمال کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ اس سے انہیں میڈیا میں تشہیر ملے گی اور انتخابات سے قبل کے اس وقت میں عوامی ہمدردیاں بھی انہیں حاصل ہو سکتی ہیں۔پہلے ہی سے عدالتی بحران اپنی پوری شدت کے ساتھ جاری ہے اور فاٹا و بلوچستان میں بھی حکومت مخالف محاذوں میں بہت سرگرمی دکھائی دیتی ہے۔ایسے میں اس مسئلے کے حل کے لئے طاقت کے استعمال کی بجائے مذکورہ عناصر کے ساتھ مذاکرات کی راہ اپنانی چاہئے اور انہیں بعض رعایتیں بھی دینا ہوں گی۔ مثال کے طور پر انہیں نئی مساجد کی تعمیر کے لئے جگہ اور پیسہ فراہم کیا جا سکتا ہے اوراسلام آباد کے علاو ہ دیگر شہروں سے بھی ”قحبہ خانوں“اور دیگر ”غیر اسلامی سرگرمیوں “کے خاتمے کا وعدہ کرنا بھی ممکن ہے۔تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ رعایتیں اور نرمیاں ان اسلام پرست انقلابیوں کو رام کر سکیں گی جو خود کش بمباریاں کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔منطق کی رُو سے دیکھا جائے تو پھر حکومت کو ملک بھر کے مدارس کے ملّاؤں کو ایسی ہی رعایتیں دینا پڑیں گی۔پنجاب یونیورسٹی میں (جہاں وائس چانسلر ایک ریٹائرڈ جرنیل ہے) اسلامی جمعیت ِ طلبہ والے پہلے ہی سے ”غیر اسلامی“ طلباء کو مارنے پیٹنے کی جرأت پا چکے ہیں اور انہوں نے کیمپس کو ”اسلامیانے“ کا اعلان برسرِ عام کیا ہے۔پشاور میں سترھویں صدی عیسویں کی یادگار مسجد مہابت خان کے خطیب اور متحدہ شریعت محاذ کے سربراہ مولانا قریشی نے حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ اگر اس نے ”قحبہ خانے“ بند نہیں کروائے تو محاذ کی جانب سے ان کے خلاف جہا د شروع کر دیا جائے گا!اگر یہ معاملہ جلد ہی ختم نہیں کیا گیا تو دوسرے ملا بھی ان کی دیکھا دیکھی ایسی ہی کاروائیاں آغاز کر دیں گے!قحبہ خانے، بل بورڈز، پردے، فلم، بالوں کی کٹائی، لباس اور سکولوں سمیت متعدد دیگر معاملات کے حوالے سے بھی یہ مذہب پرست اسلام اور جہاد کے نام پر رعایتوں کے تقاضے کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع کر دیں گے۔اگر جامعہ حفصہ کی طالبات کی مسلح مزاحمت اور خود کش حملوں کے خدشے نے حکومت کو اس قدر بوکھلا دیا ہے تو پھر اسے چاہئے کہ اقتدار سے دستبردار ہو کر حکمرانی فاٹا کے ان ملّاؤں اور طالبان کو سونپ دے جنہوں نے اس کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مزاحمت کے لئے خود کش حملہ آوروں کے کوئی ایک دو نہیں بلکہ متعدد جتھے تیار کئے ہیں۔
ایک اور خیال اس ضمن میں یہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ طاقت اگرچہ اس مسئلے کا حل نہیں لیکن مذاکراتی عمل کے ساتھ ساتھ اگر طاقت کے استعمال کی دھمکی بھی موجود ہو تو یہ شاید اس معاملے سے نمٹنے کا ایک بہتر طریقہ ہو گا۔تاہم یہ بھی کوئی مؤثر حل نہیں کیونکہ جب یہ بات پہلے ہی سے واضح کی جا چکی ہو کہ طاقت کا استعمال نہیں کیا جائے گا تو پھر طاقت کے استعمال کی دھمکی کا کچھ مطلب ہی نہیں بنتا۔
حقیقت یہ ہے کہ متعد د صورتوں میں طاقت کے استعمال کی دھمکی عموماً طاقت کے استعمال سے زیادہ مؤثر رہتی ہے۔ایسی حکمتِ عملی طاقت کے استعمال کے حوالے سے مطلوبہ نوعیت کے ارادے اور طبعی اہلیت کے معتبر اظہار کی متقاضی ہوتی ہے۔جنر ل مشرف کو چاہئے تھا کہ اس معاملے میں اعجاز الحق اور چودھری شجاعت کی خدمات کے بجائے پولیس یا فوج کا آہنی ہاتھ استعمال کرتے!ابتداء میں ایسی کاروائی کے سینکڑوں طریقے ہو سکتے تھے لیکن جب حکومت نے خود ہی اپنے اس خیال کی تشہیر کر دی کہ طاقت کے استعمال کا کوئی سوال ہی نہیں تو یہ بے لگام ملّا عناصر لائبریری پر قبضے سے آگے بڑھ کر راولپنڈی اسلام آباد کے جڑواں شہروں میں اخلاقیات کے قیام اوردارالحکومت کے قلب میں ”اسلامی فضاء“کی تخلیق کے لئے مذہبی پرچارکوں کے مسلح جتھے بنانے تک جرأت پا گئے۔صورتحال اس قدر افسوسناک ہے کہ ہماری یہ بہت ہی طاقت ور حکومت انٹرنیٹ پر ان ملّاؤں کی ویب سائٹ تک بلاک نہیں کر پارہی!!اب اگر حکومت یہ چاہتی ہے کہ چودھری شجاعت اپنے مذاکرات میں کامیاب ہوں تو اسے چاہئے کہ مذکورہ عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹنے کی اپنی ذہنی اور طبعی استعداد کا فی الفورمظاہرہ کرے!ایک طریقہ اس کا یہ ہو سکتا ہے کہ پورے علاقے کو قبضے میں لے کر وہاں فوج کی تعیناتی ہو اوراسے انتہا پسند عناصر کو وہاں سے نکال باہر کرنے کے لئے تیار رکھا جائے۔اس کے بعد مذاکرات کے ذریعے ان لوگوں کو غیر مسلح کیا جا سکے گا۔
تاہم اصل مسئلے کی گہرائی اس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔اسلام آباد کے بے لگام ملّا پورے ملک میں پھلنے پھولنے والے ان جہادیوں کی محض ایک مثال ہے جنہیں خود ریاستی اسٹیبلشمنٹ نے ہی کبھی تربیت دی تھی لیکن یہ اب انہیں کسی پٹاری میں بند کر دینا چاہتی ہے۔ یہ سب کچھ مختلف معلوم وجوہات کی بنیاد پر بد قسمتی سے بڑھتی ہوئی امریکہ مخالفت(جو کہ ایک سیاسی جذبہ ہے) اور مغرب پسندی کی مخالفت(جو کہ ایک ثقافتی جذبہ ہے)کے سیاق و سباق میں ہو رہا ہے۔یہ دونوں قسم کے جذبات اجنبیت، عدم تحفظ اور گلوبلائزیشن کی شکار اس دنیا میں شناخت کے بیان اور تعین کے لئے مذہبی عقائد کو بطورِ علامت اپنانے کی طرف رجوع کا محرک رہے ہیں۔قوم پرستی اور قومی ریاست جیسے تصورات کی پاکستان میں ناکامی اس وقت نہایت واضح ہے۔سو اب ہمارے پاس کونسا راستہ بچا ہے؟یہی کہ قومی ریاست سے متعلق اپنے تصورات کچھ اس طرح سے ازسرِ نو ترتیب دئیے جائیں کہ یہ عام پاکستانیوں کے خوابوں، امیدوں اور امنگوں کی حقیقی عکاسی کر سکیں!ایک ایسی ریاست جس کی بنیا د عوامی اعتماد کے حامل ان جمہوری اداروں پر رکھی گئی ہوجو مثبت طور پر عوامی استعداد کو بروئے کار لانے کا ذریعہ بنیں، ایک ایسی ریاست جس کی عملداری حاکم اور محکوم کے درمیان سماجی معاہدے کی رو سے تسلیم کی جاتی ہو نہ کہ جس کا اطلاق طاقت کے بل بوتے پر جبراً کیا جائے کیونکہ اس طرح تو اس کی مزاحمت کو جواز ملتا ہے۔تاہم مشکل یہ ہے کہ جنرل مشرف ریاست اور معاشرے کی اصلاح کے اپنے تمام تر ابتدائی دعووں کے باوجود اس وقت خود سٹیٹس کو کی بقاء کے لئے سرگرم معلوم ہوتے ہیں جو کہ اسلام پرستانہ شورشوں کے لئے ایک یقینی محرک ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: