سپریم کورٹ: ڈینیئل پرل کیس کے ملزم عمر شیخ کو ڈیتھ سیل سے نکالنے کا حکم

سپریم کورٹ نے ڈینیئل پرل قتل کیس کے ملزم احمد عمر شیخ کو ڈیتھ سیل سے نکال کر 2 سے 3 روز کے لیے جیل میں کسی کھلے کمرے اور بعد ازاں سرکاری ریسٹ ہاؤس منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے 3 رکنی بینچ نے عمر شیخ کی جانب سے رہائی کے باوجود بدستور قید کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کی۔

عدالت نے حکم دیا کہ احمد عمر شیخ کو سیکیورٹی کے ساتھ ریسٹ ہاؤس میں رکھا جائے جہاں ان کے اہلِ خانہ بھی صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک ان کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔

البتہ عدالت نے یہ حکم بھی دیا کہ عمر شیخ کو موبائل فون اور انٹرنیٹ کی سہولت نہ دی جائے اور ان کے خاندان کو سرکاری خرچ پر رہائش اور ٹرانسپورٹ فراہم کیا جائے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز ہونے والی سماعت میں سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ سے مقدمے کا تمام تر ریکارڈ طلب کیا تھا اور اٹارنی جنرل کی جانب سے مقدمے میں وفاق کو نوٹس نہ جاری ہونے کے اعتراض پر انہیں نوٹس جاری کیا گیا تھا۔

آج ہونے والی سماعت میں اٹارنی جنرل نے کہا کہ پاکستانی قوم گزشتہ 20 برسوں میں دہشت گردی سے بری طرح متاثر ہوئی، آرمی پبلک اسکول اور مچھ جیسے سانحات دنیا میں کہیں نہیں ہوئے۔

اٹارنی جنرل نے مزید کہا کہ احمد عمر شیخ عام ملزم نہیں بلکہ دہشت گردوں کا ماسٹر مائنڈ ہے، احمد عمر شیخ پاکستان کی عوام کے لیے خطرہ ہیں۔

جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ احمد عمر شیخ کا دہشت گردوں کے ساتھ تعلق ثابت کریں، جن کارروائیوں کا ذکر کیا ان سے احمد عمر شیخ کا تعلق کیسے جڑتا ہے؟

جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ احمد عمر 18 سال سے جیل میں ہے، دہشت گردی کے الزام پر کیا کارروائی ہوئی؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریاست سمجھتی تھی احمد عمر کے خلاف ڈینیئل پرل قتل کیس مضبوط کیس ہے۔

جسٹس منیب اختر نے اٹارنی جنرل سے مخاطب ہو کر کہا کہ کل تک آپ کا اعتراض تھا کہ ہائی کورٹ نے وفاق کو نہیں سنا، آج آپ کے دلائل سے لگ رہا نوٹس نہ کرنے والا اعتراض ختم ہوچکا ہے۔

جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ میرا اصل اعتراض نوٹس والا ہی ہے جبکہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ کا بھی کہنا تھا کہ سندھ ہائی کورٹ میں وفاقی حکومت کی نمائندگی نہیں تھی۔

جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا سندھ حکومت نے ہائی کورٹ میں وفاق کو نوٹس نہ ہونے پر اعتراض کیا تھا؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ ہائی کورٹ میں وفاق کے نہ ہونے کا اعتراض نہیں اٹھایا گیا تھا۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ملزمان کی حراست بظاہر صوبائی معاملہ لگتا ہے، وفاق نے اپنا اختیار صوبوں کو تفویض کر دیا ہے، بظاہر تو صرف ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو نوٹس دینا بنتا ہے۔

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزار نے قانون کو چیلنج نہیں کیا کہ جس پر اٹارنی جنرل کو نوٹس کیا جاتا، بظاہر اٹارنی جنرل کا اعتراض نہیں بنتا کہ انہیں کیوں نوٹس جاری نہیں ہوا۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت وفاقی حکومت کو اس کے اختیار سے محروم نہیں کر سکتی جس پر جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ کسی اختیار کو استعمال کرنے کے لیے مواد بھی ہونا چاہیے۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ صوبائی حکومت کے پاس ملزمان کو حراست میں رکھنے کا مواد نہیں تھا تو اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاق کے پاس مواد ہو سکتا ہے، جس پر جسٹس سجاد علی شاہ نے استفسار کیا کہ وفاق نے وہ مواد صوبے کو فراہم کیوں نہیں کیا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ لگتا ہے اٹارنی جنرل نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کی وجوہات نہیں پڑھی، بدنیتی یہ تھی کہ بار بار حراست میں رکھنے کے احکامات جاری ہوئے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے مزید کہا کہ وفاق دکھا دے ان لوگوں کے خلاف اس کے پاس کیا مواد ہے، ہر کیس کی ایک تاریخ ہوتی ہے، اس مقدمے کی تاریخ ہمیں معلوم نہیں ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا مرکزی ملزم پاکستانی شہری ہے یا غیر ملکی جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ احمد عمر شیخ کے پاس پاکستان اور برطانیہ کی شہریت ہے، احمد عمر لندن اسکول آف اکنامکس میں زیر تعلیم رہا ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ احمد عمر شیخ 18 سال سے جیل میں ہے، الزام تو اغوا کا تھا، کسی کو حراست میں رکھنے کا مطلب 'نو ٹرائل' ہوتا ہے۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ قتل کی ویڈیو میں بھی چہرہ واضح نہیں تھا۔

جس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ کیس میں پیش کرنے کے لیے سندھ پولیس سے بھی ریکارڈ حاصل کر رہے ہیں اور استدعا کی کہ کیس میں آئندہ ہفتے تک حکم امتناع دیا جائے۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ سندھ پولیس کے پاس تو ایف آئی آر ہی ہو گی، ایف آئی آر کے علاوہ پولیس سے کیا ملے گا؟

جسٹس عمر عطا بندیال نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے استفسار کیا کہ کس بنا پر حکم امتناع دیا جائے؟

انہوں نے ریمارکس دیے کہ بغیر شواہد کسی کو دہشت گرد قرار دینا غلط ہوگا اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو ہدایت کی کہ حکم امتناع کے لیے آج ہی پانچ منٹ میں اپنے دلائل دیں۔

جسٹس منیب اختر نے حکم دیا کہ حکومتِ سندھ احمد عمر شیخ کو 2 سے 3 روز کے لیے جیل میں کسی کھلی جگہ پر رکھے اور اس کے بعد کراچی میں ہی کسی نجی جگہ پر احمد عمر شیخ کو اس کے اہلخانہ کے ساتھ ٹھہرائے۔

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ ہماری معلومات کے مطابق احمد عمر شیخ کے اہل خانہ لاہور میں رہتے ہیں، کیا احمد عمر شیخ کے اہل خانہ کو کراچی لانے اور ٹھہرانے کے اخراجات بھی سندھ حکومت برداشت کرے گی؟

جس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے جواب دیا کہ اگر عدالت کا حکم ہو تو اخراجات اور انتظامات سندھ حکومت ہی کرے گی۔

عدالت نے قرار دیا کہ احمد عمر شیخ اور دیگر زیر حراست افراد موبائل فون، انٹرنیٹ استعمال نہیں کر سکیں گے، ساتھ ہی عدالت نے یہ حکم بھی دیا کہ دو روز میں مناسب ریسٹ ہاؤس کا بندوبست کر کے سیکیورٹی اقدامات کئے جائیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ احمد عمر شیخ اور دیگر زیرحراست افراد کو ملزم نہیں کہا جا سکتا۔

علاوہ ازیں عدالت عظمیٰ نے اٹارنی جنرل کی جانب سے ہائی کورٹ کا فیصلہ چیلنج کرنے کے لیے مہلت دینے کی استدعا منظور کرلی۔

اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ احمد عمر اور دیگر کو رہا کیا تو غائب ہو جائیں گے، زمینی حقائق تقاضا کرتے ہیں کہ رہائی کے احکامات معطل کیے جائیں۔

تاہم عدالت نے حکم دیا کہ احمد عمر شیخ کو 2 روز تک جیل میں بہتر جگہ پر کھلے کمرے میں رکھا جائے اور بعدازاں سیکیورٹی کا بندوبست کر کے سرکاری ریسٹ ہاؤس منتقل کیا جائے۔

خیال رہے کہ 28 جنوری کو سپریم کورٹ نے حکومت سندھ اور ڈینیئل پرل کے والدین کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ کے ملزمان کو بری اور رہا کرنے کے حکم کے خلاف دائر درخواستوں پر عمر شیخ کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

تاہم حکومت سندھ کی جانب سے اگلے ہی روز اس فیصلے پر نظرِ ثانی کی اپیل بھی دائر کردی گئی تھی۔

ڈینیئل پرل قتل کیس

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل کے جنوبی ایشیا کے بیورو چیف 38 سالہ ڈینیئل پرل کراچی میں مذہبی انتہا پسندی پر تحقیق کررہے تھے جب انہیں جنوری 2002 میں اغوا کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔

سال 2002 میں امریکی قونصل خانے کو بھجوائی گئی ڈینیئل پرل کو ذبح کرنے کی گرافک ویڈیو کے بعد عمر شیخ اور دیگر ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزم احمد عمر سعید شیخ المعروف شیخ عمر کو سزائے موت جبکہ شریک ملزمان فہد نسیم، سلمان ثاقب اور شیخ عادل کو مقتول صحافی کے اغوا کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

بعد ازاں حیدر آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے شیخ عمر اور دیگر ملزمان کو اغوا اور قتل کا مرتکب ہونے پر سزا ملنے کے بعد ملزمان نے 2002 میں سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے ریکارڈ کا جائزہ لینے، دلائل سننے کے بعد ملزمان کی 18 سال سے زیر التوا اور حکومت کی جانب سے سزا میں اضافے کی اپیلوں پر سماعت کی تھی اور مارچ میں فیصلہ محفوظ کیا تھا جسے 2 اپریل کو سنایا گیا۔

سندھ ہائی کورٹ نے امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے اغوا کے بعد قتل کے مقدمے میں 4 ملزمان کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے سزا کے خلاف دائر اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے 3 کی اپیلیں منظور کرلی تھیں جبکہ عمر شیخ کی سزائے موت کو 7 سال قید میں تبدیل کردیا تھا جو کہ وہ پہلے ہی پوری کرچکے تھے۔

تاہم رہائی کے احکامات کے فوری بعد ہی سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) نے سندھ حکومت کو خط لکھا تھا جس میں ملزمان کی رہائی سے نقصِ امن کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔

چنانچہ مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) آرڈیننس کے تحت صوبائی حکام نے انہیں 90 دن کے لیے حراست میں رکھا تھا، یکم جولائی کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت ایک نیا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا جس کے تحت مزید تین ماہ کے لیے انہیں حراست میں رکھا گیا اور بعد ازاں ان کی قید میں مزید توسیع ہوتی رہی۔

تاہم 25 دسمبر کو سندھ ہائی کورٹ نے ڈینیئل پرل قتل کیس میں رہا ہونے والے چاروں ملزمان کو زیر حراست رکھنے کے لیے صوبائی حکام کے جاری کردہ 'پریوینشن ڈیٹینشن آرڈرز' کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

یہاں یہ بات مدِ نظر رہے کہ سندھ ہائی کورٹ کے ملزمان کی رہائی کے حکم کے خلاف حکومت سندھ اور صحافی کے اہلِ خانہ کی جانب سے سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔

جن پر 28 جنوری کو سپریم کورٹ نے ایک کے مقابلے 2 کی اکثریت سے فیصلہ سناتے ہوئے مقدمے کے مرکزی ملزم احمد عمر شیخ کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کرنے کا حکم دیا تھا۔