Site icon Dunya Pakistan

سپریم کورٹ کا مونال ریستوران کا توسیعی حصہ مسمار کرنے کا حکم

پاکستان کی عدالت عظمٰی نے اسلام آباد کی مارگلہ پہاڑیوں میں ہر قسم کی تعمیرات کے خلاف حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے پہاڑ کے اوپر واقع مونال ریستوران کا توسیعی حصہ مسمار کرنے کا حکم دیا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز سوشل میڈیا پر تصاویر وائرل ہوئی تھیں جن میں دیکھا جا سکتا تھا کہ مونال ریستوران کی توسیع کا کام جاری ہے جس کے لیے وہاں درختوں کو کاٹ کر زمین صاف کی گئی ہے۔

ان تصاویر کے وائرل ہونے کے بعد پاکستان کے وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے ٹوئٹر پر اعلان کیا تھا کہ مذکورہ واقعے کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ متاثرہ علاقے کو مکمل طور پر بحال کر کے وہاں دوبارہ شجرکاری کی جائے گی۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں منگل کے روز پانچ رکنی لارجر بینچ نے مارگلہ ہلز میں غیر قانونی تعمیرات اور تجارتی سرگرمیوں کے خلاف ازخود نوٹس کی سماعت کی۔

دورانِ سماعت عدالت کے استفسار پر چیئرمین سی ڈی اے عامر علی احمد نے بتایا کہ مارگلہ ہلز میں تعمیرات کی اجازت اس وقت کے چیئرمین سی ڈی اے کامران لاشاری نے دی۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آئی سی ٹی نے مارگلہ ہلز پر کرشنگ روک دی ہے؟ جس کے جواب میں چیف کمشنر اسلام آباد نے بتایا کہ اسلام آباد میں مارگلہ ہلز پر کوئی کرشنگ نہیں ہو رہی۔

اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ مارگلہ ہلز نیشنل پارک قرار دیا گیا ہے، کیا اس کو لیز پر دیا جاسکتا ہے؟

عدالت نے سوال کیا کہ پہاڑیوں پر قائم مونال سمیت دیگر ریستوران اور رہائشی منصوبے کیسے چل رہے ہیں۔

عدالت نے ہدایت کی کہ مونال ریستوران کی جانب سے جو درخت کاٹے گئے ہیں، اس علاقے میں سی ڈی اے فوری طور پر نئے درخت لگانا یقینی بنائے۔

اس کے بعد شام کو دیر سے اسلام آباد کی انتظامیہ نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر متاثرہ علاقے میں شجرکاری کیے جانے کی تصاویر شائع کیں۔

سماعت کے دوران عدالت نے قرار دیا کہ مارگلہ کی پہاڑیاں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، پنجاب، اور خیبر پختونخواہ تک پھیلی ہوئی ہیں اور پورا علاقہ نیشنل پارک قرار دیا جا چکا ہے، چنانچہ یہاں پر ہر قسم کی تجارتی، صنعتی اور ذاتی استعمال کی سرگرمیاں غیر قانونی ہیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ مارگلہ ہلز کا تحفظ ہر صورت میں یقینی بنانا ہے اور مارگلہ ہلز میں ذاتی رہائش کے لیے تعمیرات اور ان کا بطور ریسٹ ہاؤس استعمال بھی غیر قانونی ہے۔

عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا کہ دوران سماعت چیئرمین سی ڈی اے نے بتایا کہ مونال ریستوران کی توسیع غیرقانونی ہے اور غیر قانونی توسیع اور درخت کاٹنے پر مونال کو سیل کر دیا گیا ہے۔

عدالت نے سی ڈی اے حکام کو ہدایت کی کہ مارگلہ ہلز پر دی گئی تمام لیزز کا دوبارہ جائزہ لیں۔

مقدمے کی مزید سماعت عید الفطر کے بعد تک ملتوی کر کے اگلی سماعت پر مارگلہ ہلز پر قائم تمام ہوٹل اور تعمیرات کے مالکان کو طلب کر لیا گیا ہے۔

Exit mobile version