سپریم کورٹ کا کراچی میں 'پویلین اینڈ کلب' فوری مسمار کرنے کا حکم

سپریم کورٹ آف پاکستان نے کراچی میں مقامی انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ وہ گلشنِ اقبال کے تفریحی پارک میں قائم پویلین اینڈ کلب کو مسمار کر کے تمام تجارتی سرگرمیاں بھی بند کردے۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی زیر سربراہی تین رکنی بینچ نے مشاہدہ کیا کہ الہ دین پارک کو پویلین اینڈ کلب میں تبدیل کردیا گیا ہے اور دیگر تجارتی سرگرمیوں کے ساتھ فیس کے عوض ممبرشپ کی پیشکش کی جارہی ہے۔

انہوں نے کراچی کے ایڈمنٹریٹر کو ہدایت کی کہ وہ کلب کو فوری طور پر مسمار کردے اور پارک کے احاطے میں دیگر تجارتی سرگرمیاں بند کروا کر اس پر عملدرآمد کے حوالے سے رپورٹ دو دن کے اندر جمع کرائیں۔

عدالت عظمیٰ نے ایڈمنسٹریٹر سے مزید کہا کہ مذکورہ مقام کے ساتھ ساتھ اس کے ملحقہ پلاٹ میں پارک یا گرین بیلٹ قائم کردیں جہاں مذکورہ پلاٹ پر غیرقانونی تعمیرات کو حال ہی میں ختم کیا گیا ہے۔

اس سے قبل عدالت عالیہ نے الہ دین پارک سے متصل زیر تعمیر رہائشی و کمرشل کثیر المنزلہ رائل پارک عمارت کو گرانے کا حکم دیا تھا اور راشد منہاس روڈ پر واقع دو ایکڑ پلاٹ کی لیز کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو زیر تعمیر عمارت کو منہدم کرنے کا حکم دیا تھا۔

سندھ حکومت کینیڈا سے چل رہی ہے، چیف جسٹس

دوران سماعت چیف جسٹس نے سرکاری مقامات پر غیر مجاز تعمیرات اور تجاوزات پر حکومت سندھ پر سختی برہمی کا اظہار کیا۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ یونس میمن کینیڈا سے صوبائی حکومت کے امور چلا رہا ہے۔

انہوں نے تواتر کے ساتھ ہونے والے حادثات اور ریلوے کی ناقص کارکردگی پر وزارت ریلوے اور سیکریٹری پاکستان ریلوے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور وزیر اعظم سے ریلوے کی بہتری کے لیے اقدامات اور وزیر ریلوے کے حالیہ غیر ذمہ دارانہ بیان پر بھی غور کرنے کی تاکید کی۔

وزیر ریلوے نے حال ہی میں گھوٹکی حادثے میں بدترین جانی نقصان کے بعد اپنے بیان کہا تھا کہ اگر گھوٹکی ٹرین حادثے میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات کا ازالہ ہو سکتا ہے تو وہ استعفیٰ دینے کے لیے تیار ہیں۔

گجر اور اورنگی ٹاؤن نالوں کے بارے میں درخواست

عدالت عظمیٰ نے گجر اور اورنگی ٹاؤن نالہ کے آس پاس انسداد تجاوزات آپریشن کے دوران کچھ متاثرہ افراد کی جانب سے دائر درخواستوں کو بھی مسترد کردیا اور حکام کو کارروائی جاری رکھنے کی ہدایت کی۔

درخواست گزار کے وکیل نے استدلال کیا کہ ان کی لیز شدہ جائیداد مسمار کی جارہی ہے اور مناسب معاوضے کی پیش کش بھی نہیں کی گئی ہے۔

تاہم چیف جسٹس نے مشاہدہ کیا کہ نالوں کے آس پاس کی زمین کو لیز پر نہیں دیا جا سکتا اور سپریم کورٹ پہلے ہی معاوضے اور بحالی کے بارے میں ایک آرڈر پاس کر چکی ہے۔

عدالت سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان کی جانب سے دی گئی درخواست پر عدالت عظمیٰ کے فیصلوں کے خلاف 2010 میں دائر متفرق درخواستوں کی سماعت کررہی ہے جس میں شہر میں لینڈ مافیا اور سیاسی جماعتوں سے رفاہی پلاٹوں کو خالی کرنے کے لیے عدالت سے مداخلت کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: