سچائی اور مفاہمت کی ضرورت

بعض لوگ اس بات کا یقین رکھتے ہیں کہ ہمارے یہاں سیاسی بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے اور جنرل مشرف”زوال پذیر“ ہیں۔تاہم دیگر ایسے لوگ بھی یہاں موجودہیں جن کا خیال اس سے قطعاً الگ ہے۔اس نکتے پر البتہ سبھی متفق ہیں کہ آئندہ ہر قسم کے حالات کا دارومدارچیف جسٹس جناب افتخار چودھری کے خلاف دائر کئے گئے صدارتی ریفرنس کے فیصلے پر ہے۔عام خیال یہی ہے کہ جسٹس چودھری کی بحالی جنرل مشرف کے اختتام کا آغاز ہو گی کیونکہ ان کی قیادت میں ایک آزاد سپریم کورٹ کبھی بھی جنرل صاحب کو اپنی حکمرانی کو طول دینے میں آئینی مدد نہیں دے گی۔ تاہم اگرسپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس چودھری کی برطرفی کی توثیق کر دی تو پھر کہتے ہیں کہ جنرل مشرف ایک سیاسی طوفان کو جھیلتے ہوئے کم از کم اگلے پانچ برسوں تک پاکستان پر مزید حکمران رہیں گے۔
ضروری نہیں کہ سب ایسا ہی ہو۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ چیف جسٹس بحال تو کر دئیے جائیں لیکن ان پر یہ پابندی ہو کہ وہ صدارتی فیصلوں اور اختیارات سے متعلقہ پٹیشنوں پر فیصلے کے مجاز نہیں ہوں گے۔اگر ایسا ہوا تو جنرل مشرف کے بیشتر اختیارات اور اتحاد بھی محفوظ رہ سکیں گے۔دوسری صورت میں اگرچیف جسٹس کے خلاف صدارتی ریفرنس کی توثیق کر دی گئی تو مجموعی طور پر عدلیہ انتظامیہ کے دباؤمیں پہلے کی طرح آنے سے گریز کرتے ہوئے جنرل مشرف کے لئے مسائل کھڑے کرنا شروع کر دے گی۔یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک یا دونوں فریق ہی اس مقدمے کو مہینوں اس وقت تک طول دیتے رہیں گے جب تک حکومت اور عدلیہ ایک بار پھر قریب نہ آ جائیں۔
اسی طرح بعض لوگ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اس وقت ضرورت مکمل سویلین بالادستی کے ساتھ ”غیرتحلیل شدہ“ جمہوریت کی ہے۔ایسا سمجھنے والوں میں حزبِ اختلاف کی اکثرجماعتیں، ان کے حامی،بعض انسانی حقوق کی تنظیمیں اورچند صحافی شامل ہیں۔ان کے علاوہ دیگر ایسے لوگ بھی ہیں جن کے خیال میں جنرل صاحب نے اپنی خامیوں سے قطعِ نظر کافی اچھے کام بھی کئے ہیں اور ان کاموں کی تکمیل کے لئے انہیں ابھی مزید کچھ عرصہ بھی برسرِ اقتدار رہنا چاہئے۔یہ خیال رکھنے والے لوگوں میں کاروباری حلقوں سے متعلقہ افراد، پیشہ ور طبقات، بعض این جی اوز اور چند صحافی شامل ہیں۔ان تمام لوگوں کی آراء کی اصل قدر و قیمت سے قطع نظراہم بات یہ ہے کہ ہم جنرل مشرف کے ہونے یا نہ ہونے کی عمومی حالات پر اثرات کا جائزہ لے لیں۔
جنرل مشرف اگر اس سارے طوفان کو جھیل کر اقتدار پر قابض رہنے میں کامیاب بھی رہے تو اپنے ایجنڈے کے کئی ایک اہم نکات یعنی مذہب پرست انتہا پسندوں کے قلع قمع،دہشت گردی کے خلاف جنگ، اقتصادی پیداوار کی بلند تر شرح کی بقاء اور بھارت کے ساتھ امن سلسلے کو جاری رکھنے کے حوالے سے ان کی اہلیت و صلاحیت نہایت کم ہو چکی ہو گی۔اپنی بقاء کے لئے انہیں انتخابات میں دھاندلیوں اور عوامی جمہوریت کی قوتوں کو دبائے رکھنے کی ضرورت پڑے گی۔اس طرح ان کے اقتدار کا جواز اوران کے لئے حمایت کی بنیاد بھی مفقود و معدوم رہے گی جبکہ حزبِ اختلاف والے زیادہ طاقت ور اور زیادہ بلند آواز ہو جائیں گے۔اس طرح اقتصادی اور معاشرتی سطحات پر مسلسل بحرانوں کا ایک ایسا سلسلہ بندھ جائے گاجو عدم استحکام کی تخلیق کا سبب بنتے ہوئے اہم معاملات میں ان کی قوتِ عمل پر اثر انداز ہو گا۔قومی بہتری کے لئے پالیسی کے حوالے سے کچھ آگے بڑھنے کی بجائے وہ ہمہ وقت اپنی بقاء کے لئے موقع پرستی کی طرف مائل رہیں گے۔ملک کے لئے یہ صورتحال نہایت افسوسناک ہو گی کیونکہ یک شخصی حکومت کے اقتصادی تسلسل اور سیاسی استحکام جیسے فوائد سے بھی ہم محروم رہیں گے اورجمہوریت کے جواز اور اتفاقِ رائے جیسے مثبت پہلو بھی یہاں مفقود ہی ہوں گے۔فتح اس صورتحال میں ان مذہب پرست انتہا پسندوں کو ہی حاصل ہو جائے گی جو اس ملک کو ایک اسلامی ریاست بنانا چاہتے ہیں۔تاہم اگر جنرل مشرف ایک عوامی تحریک کے نتیجے میں اقتدار سے بے دخل کر بھی دئیے جائیں تو ممکن ہے کہ ان کے بعد غیر تحلیل شدہ جمہوریت کی بحالی کسی ایسے سیاسی نظام کو جنم دے جو نوے کے عشرے کی جمہوری حکومتوں سے زیادہ غیرمستحکم، غیر فائدہ مند اور زیادہ بحران زدہ ہو۔
آج پاکستان میں نسلی، نظریاتی،علاقائی اور طبقاتی اختلافات گزشتہ عشروں کے مقابل کہیں زیادہ ہیں۔اس لئے حکومتیں مخلوط ہی بنیں گی اور ان کی صفوں میں اندرونی خلفشار بھی مرکز و صوبوں میں سامنے آتا رہے گا۔اپنی بقاء کے لئے دوسروں سے دشمنی کا نتیجہ وسیع پیمانے پر کرپشن کی صورت میں نکلے گا۔عدالتوں میں انتظامیہ کے احکامات کو چیلنج کرنے والی پٹیشنوں کا ایک سیلاب امڈ آئے گا اورہر شے ”امتناعی“ یا تعطل کا شکار رہے گی۔ یہ انتظامی تعطل اقتصادیات کو بری طرح سے مفلوج کر دے گا۔اس سے بھی ابتر بات یہ ہوگی کہ پچھلے پانچ برسوں میں بھارت کے ساتھ امن سلسلے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے جو بنیادی اقدامات کئے گئے ہیں وہ حکومت کے انتہا پسند حلیفوں اور پارلیمان کے اندر و باہر موجود اختلاف پسند عناصر کی شدید مزاحمت کی بدولت ترک کرنا پڑیں گے۔
ہر ذمہ داری سے پاک ہو کر آرمی والے سیاستدانوں اور پالیسیوں کو بد نام کرنے کی غرض سے ایک بار پھر پس منظر سے باگ ڈور چلانے کا کام سنبھال لیں گے۔اس تمام افرا تفری میں جیت انتہا پسندی، تشدد اورعلیحدگی پسندی کی قوتوں کی ہو گی۔
ضرورت اس وقت اس امر کی ہے کہ جمہوریت کی طرف ہمارا صعود ایسے منظم انداز میں ہو کہ پچھلے عشرے کے مثبت نتائج نہ صرف برقرار رہیں بلکہ ان کی مزید افزائش بھی ہو جبکہ طاقت اور طاقت کے فوائد کے تقسیم زیادہ منصفانہ طریقے سے ہو جائے۔یہ صرف اس صورت میں ہو سکتا ہے کہ جنرل مشرف اور پاکستان آرمی اور حزبِ اختلاف کے سیاستدان بھی اس بات پر راضی کر لئے جائیں کہ مستقبل میں اپنے باہمی روابط کی مجموعی حرکیات کی نوعیت کا تعین کرنے کی غرض سے سچائی کی جانچ اور مفاہمت کے لئے مل بیٹھیں۔فوجیوں اور سویلینز نے الگ الگ یعنی انفرادی طور پر پاکستانیوں کو بارہا مایوس کیا ہے۔بہتر ہو گا کہ اب ایک دوسرے پر الزام تراشی ترک کرتے ہوئے ذمہ داریاں اجتماعی طور پر قبول کرنے کا آغاز کر لیا جائے۔تمام جلا وطن سیاستدانوں کو واپس آکر بغیر کسی خوف اور لالچ کے انتخابات میں حصہ لینے دینا چاہئے اور لازمی ہے کہ جنرل مشرف بھی اپنی وردی اتارتے ہوئے عوامی فیصلے کا احترام کریں!اس کے سوا اور کوئی راستہ، اور کوئی حل ہے ہی نہیں!!!