سیاست اور سیاست دان کو برا کہنے کی روایت

اگر آپ نے مختلف تعلیمی درجوں میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طالب علموں کے اردو اخبارات میں انٹرویو پڑھے ہیں تو شاید آپ نے محسوس کیا ہو کہ ان نونہالوں سے ایک سوال سیاست دانوں کے بارے میں ضرور پوچھا جاتا ہے اور ان ہونہاروں نے ہمیشہ ایک ہی جواب دیا: ’ہمیں سیاست سے نفرت ہے؛ ڈاکٹر، انجینئر یا سول سرونٹ بن کے قوم کی خدمت کریں گے۔ ‘ گویا سیاست میں حصہ لے کر قوم کی خدمت نہیں کی جا سکتی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اسی سانس میں مثالی شخصیت کا ذکر کرتے ہوئے یہ ہونہار بِروا قائد اعظم محمد علی جناح کا نام لینا نہیں بھولتے۔ ہم عصر جنوبی ایشیا پر سند کا درجہ رکھنے والےا سٹینلے والپرٹ نے ’’زلفی بھٹو آف پاکستان‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب لکھی ہے۔ اس کتاب میں جہاں جہاں بھٹو صاحب کے کسی ناقابلِ دفاع یا ناقابلِ توجیہ رویے کا ذکر آیا ہے مصنف رومن اردو میں ایک لفظ’’سیاست‘‘ لکھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ والپرٹ صاحب سیاست کے انگریزی مترادف سے آگاہ نہیں ہیں۔ بات یہ ہے کہ اردو میں اس لفظ کا مفہوم ہی بدل گیا ہے۔ انگریزی زبان میں کسی شخص کو سیاسی کہنا گویا اس کے باشعور اور ذمہ دارانہ سماجی رویے کا اعتراف ہوتا ہے۔ ادھر ہمیں کسی کو عیار، دھوکے باز اور کائیاں قرار دینا ہو تو ہم سلیس اردو میں کہتے ہیں، بھئی وہ شخص بڑا سیاسی ہے، یا پھر کہتے ہیں، میاں سیاست نہ کرو، کام کی بات کرو۔

تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان تعلیمی، سماجی اور معاشی اعتبار سے خاصا پسماندہ تھا چنانچہ یہاں سیاسی روایت بھی کمزور تھی۔ کانگریس عوامی تنظیم اور جدوجہد کے ان گنت مراحل سے گزر کر سیاسی پختگی کو پہنچی تھی؛ دوسری طرف مسلم لیگ کے اوراق میں عوامی رابطے، تنظیم اور جدوجہد کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ سرکاری تاریخ نویسی میں تحریکِ پاکستان کے کارکن تو بے شمار ہیں لیکن چند مستثنیات کے ساتھ تحریکِ آزادی کا کارکن نسخے میں ڈالنے کو نہیں ملتا۔

مسلم لیگ کی تنظیمی کمزوری پر مستزاد تقسیم کی اکھاڑ پچھاڑ تھی۔ پاکستان بننے کے ایک ہفتے بعد ہی ڈاکٹر خان صاحب کی وزارت برطرف کر دی گئی۔ لیاقت علی خان سیاسی مخالفت پر ایسے سٹپٹائے کہ فروری 1948میں دستور ساز اسمبلی کے فلور پر سہروردی کے خلاف قابلِ اعتراض زبان استعمال کی۔ سیاسی عمل کا آغاز غداری کے الزام سے ہو تو الٹے پاؤں کا یہ سفر جمہوریت کی بجائے آمریت پہ ختم ہوتا ہے۔ پاکستان کی بانی جماعت مسلم لیگ عوام پر اعتماد کی بجائے حیلے بہانوں سے حکومت کرنے کا سوچنے لگی۔

ریاست کے جدید نمونے میں آئینی اور جمہوری عمل سے انحراف اندھیری رات میں دروازہ کھلا چھوڑنے کے مترادف ہے۔ ایسے گھر میں چور اور درندے گھس آتے ہیں۔ افسر شاہی نے سوچا کہ اگر آئین، زبان اور قومیتوں پر لڑتے جھگڑتے سیاست دانوں نے عوامی تائید کے بغیر ہی حکومت کرنا ہے تو پھر انتظامی مہارت اور تجربے سے بہرہ ور افسر شاہی کیوں نہ حکومت کرے۔ پھر جلد ہی بابوصاحبان کی انگلی پکڑے فوج اقتدار میں چلی آئی۔ دلیل یہ کہ فوج ایک منظم ادارہ ہے جو پارلیمانی ہلڑبازی کی بجائے مستعدی سے مسائل حل کر کے ملک کو سیدھے راستے پر ڈال دے گا۔ اس میں اڑچن یہ ہے کہ اگر غیر جمہوری اور غیر سیاسی تدابیر سے مسائل حل ہو سکتے ہیں تو پھر اقتدار دوبارہ سیاستدانوں کے سپرد کیوں کیا جائے؟ سو طاقت کے سرچشموں کا ایک اہم منصبی فریضہ جمہوریت کی مذمت اور سیاستدانوں کی کردار کشی قرار پایا۔ اس مشق کا حتمی نتیجہ سیاسی عمل سے برگشتگی کی صورت میں برآمد ہوا۔

جمہوریت کی طرف پیش رفت سیدھی شاہراہ پر مسلسل سفر نہیں ہے۔ جمہوری عمل طویل، صبرآزما اور پیچیدہ ہوتا ہے۔ معاشرتی ارتقا میں ہزار رکاوٹیں آتی ہیں لیکن جمہوریت کا لطیف دودھ تیربہدف صدری نسخوں کی ملاوٹ قبول نہیں کرتا۔ سیاسی کار کنوں کو پختگی تک پہنچنے کے لیے ایک عمر درکار ہوتی ہے۔ پاکستان میں یہ ہوتا رہا کہ جتنی دیر میں سیاسی قیادت کی ایک نسل تیار ہوتی ہے۔ اجتماعی آزمائش کا اگلا مرحلہ اس کھیتی میں ہل چلا دیتا ہے۔ اب تو معاملہ یہ ہے کہ تمدنی قوتوں پر ریاستی بالا دستی کا تسلسل دیکھتے ہوئے صحافیوں، وکلا، سول افسروں اور پیشہ ورانہ طبقات کی بڑی تعداد نے گویا ماورائے دستور اختیار سے ان کہا سمجھوتا کر لیا ہے۔ گویا طویل خشک سالی کے باعث پانی کی سطح اتنی نیچے چلی گئی کہ مستقل بنجر پن نے آ لیا۔ آج پاکستان میں کوئی سیاسی جماعت یا رہنما ایسا نہیں جس نے کہیں نہ کہیں غیر جمہوری یا غیر دستوری سمجھوتے نہ کیے ہوں۔ ٹریڈ یونینوں، صحافتی تنظیموں، بار کونسلوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں سیاسی شعور کی جڑیں کھوکھلی ہو گئی ہیں۔ سیاسی بیداری کے ان سرچشموں کو یا تو سایہ عاطفت میں لے لیا گیا ہے یا ان کے پر کاٹ دیے گئے ہیں۔

فی الوقت سیاسی منظر نامے میں سیاسی کارکن نام کی جنس معدوم ہے۔ جماعتی وابستگی کی حقیقت صرف یہ ہے کہ بیشتر انتخابی حلقوں میں روایتی حریف خاندانوں کو نمائشی طور پر کسی سیاسی جماعت کی مدد درکار ہوتی ہے۔ مقابلہ صرف یہ ہے کہ کون حکومتِ وقت کی سرپرستی جیتنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ دوسرا حریف سیاسی بقا کے لیے وقتی طور پر حزبِ اختلاف کا رخ کر لیتا ہے۔ جن معاشروں میں ریاست ’حساس‘ ہو جائے وہاں رائے عامہ بے حس ہو جایا کرتی ہے۔ جاندار رائے عامہ کی عدم موجودگی میں سیاسی عمل اپنی موت آپ مر جاتا ہے اور سیاسی قیادت نہیں پنپتی۔ کسی قوم کا، خاص طور پر اگر وہ 22 کروڑ محنتی، باصلاحیت اور دیانتدار انسانوں پر مبنی قوم ہو، تمدنی، علمی اور جمہوری امکان مردہ نہیں ہو سکتا۔ لیکن موجودہ مایوس کن تصویر کی جڑیں ایک ہی بنیادی علت سے جڑی ہوئی ہیں کہ پاکستان کا تعلیم یافتہ طبقہ سیاسی عمل اور سیاست دان کی اہمیت سے آگاہ نہیں ہے۔