سیاست کی ہار

جیت زید کی ہو یا بکر کی، فی الواقعہ یہ سیاست کی ہار ہے۔ یہ ان کی شکست ہے جو سیاست کوکسی نظامِ اقدار کے تابع دیکھنا چاہتے ہیں۔
نوازشریف صاحب نے سرمایے کی سیاست کی۔ زرداری صاحب نے اسے بامِ عروج تک پہنچا دیا۔ نوازشریف صاحب کو بالآخر اندازہ ہواکہ یہ خسارے کا سودا ہے۔ سیاست کا احترام اسی میں ہے کہ اس پر اخلاق اور اقدار کی حکومت ہو۔ اقتدار کی سیاست اگرچہ کبھی مثالی نہیں رہی۔ تاریخ کا کوئی دور ایسا نہیں جب سیاست پراقدار کی حکومت قائم ہوئی ہو۔ سیاست میں یہی غنیمت ہے کہ کوئی خدا خوفی سے مطلقاً بے نیاز نہ ہو جائے۔
بنو امیہ کے ہاتھ سیاسی مخالفین کے لہو سے تر تھے۔ بنو عباس کو موقع ملا تو ان کی تلواریں بنو امیہ کے خون سے رنگین ہو گئیں۔ بنو عباس اور بنو فاطمہ کا سیاسی موقف ایک تھا: بنو امیہ کی مخالفت۔ اس گروہ کی سیاسی قیادت بنو فاطمہ سے علویوں اور علویوں سے بنو عباس کو منتقل ہوئی۔ بنو امیہ کا خاتمہ ہوا تو بنو عباس اور بنو فاطمہ و علوی مدِ مقابل ہو گئے۔ یہاں تک کہ ایک کی بقا دوسرے کے خاتمے سے مشروط ہو گئی۔اس کشمکش میں بنو عباس فاتح رہے۔ اقدار دھیرے دھیرے پس منظر میں چلی گئیں۔ کوئی اس کو سمجھنا چاہے تو عباسی حکمران ابو جعفر منصور اور نفس زکیہ کے مابین ہونے والی خط و کتابت کو پڑھ لے جب دونوں کی فوجیں آمنے سامنے تھیں۔
یاد رہے کہ دونوں ایک دوسرے کے حلیف تھے، مگر اُس وقت تک جب دونوں اپوزیشن میں تھے۔ جب ایک اقتدار میں آ گیا تویہ حریف بن گئے۔ اس خط وکتابت کو میں نے پہلی بار پڑھا تو انگلیاں دانتوں میں داب لیں۔ پھرتاریخ کو کسی تقدس کا لباس نہیں پہنا سکا۔ اس سے پہلے کی تاریخ بھی کچھ مختلف نہیں مگر اُس دور میں قدم رکھیں توہمارے پر جلتے ہیں۔ مستشرق چلے جاتے ہیں، ہم نہیں جا سکے۔ مولانا مودودی اور محمود عباسی صاحبان نے کوشش کی۔ دونوں کے خلاف ہونے والا ردِ عمل ہمارے سامنے ہے۔
تحریکِ انصاف کے قصرِ اقتدار کی بنیادوں میں اخلاقی اقدار کا لہو شامل ہے۔ نوازشریف صاحب نے ووٹ کی عزت کا بیانیہ دیا تو یہ سیاست کو ایک بار پھر اقدار پر کھڑا کرنے کی کوشش تھی۔ یہ بیانیہ جب پی ڈی ایم کے اتحاد نے اپنایا تویہ ووٹ کی عزت سے زیادہ حکومت کو گرانے کا بیانیہ بن گیا۔ نون لیگ کا خیال یہ تھاکہ اس حکومت کی حیثیت بیانیے کے راستے کی ایک رکاوٹ ہے۔ اسے ہٹانا ضروری ہے مگر یہ منزل نہیں ہے۔ پی ڈی ایم کی سیاست نے اس پڑائوکو منزل بنادیا۔
یہ دراصل زرداری صاحب کے بیانیے کی فتح تھی۔ انہوں نے نوازشریف کے بیانیے کا رخ عوامی جدوجہد سے جوڑ توڑ کی سیاست کی طرف موڑدیا۔ انہوں نے خان صاحب کے خلاف عدم اعتماد کاڈول ڈالا۔ سینیٹ کے انتخاب جیتنے کا عندیہ دیا اور پی ڈی ایم نے ان کی حکمتِ عملی کو قبول کر لیا۔ 'ان ہاؤس تبدیلی‘ میں ہمیشہ بنیادی کردار سرمایے اور مقتدر قوتوں کا رہا ہے۔ اس بار بھی یہی ہوا۔
اس حکمتِ عملی نے نہ صرف ووٹ کی عزت کو کم کیا بلکہ اہلِ سیاست کے وقار کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ اتحادوں کی سیاست میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ اکثریت کی رائے مانی جاتی ہے۔ مو لانا فضل الرحمن نے بھی حکومت کے خاتمے کو منزل بنا لیا کہ ووٹ کوعزت ملے نہ ملے، جوشِ انتقام کو تسکین تو ملے گی۔ سیاست ایک حمام تو ہے مگر اس میں لنگوٹی کی شرم ختم نہیں ہونی چاہیے۔
سیاست ایک بار پھر 1990ء کی دھائی کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اس سیاست کا بڑی حد تک خاتمہ ہو گیا تھا جب جمہوری عمل میں مداخلت قدرے کم ہوئی تھی۔ 2008ء کے بعد ہمارے سیاسی کلچر میں بہتری آنے لگی تھی۔ 2014ء میں اسے پھر پٹری سے اتار دیا گیا۔ 2018ء میں وہی جوڑ توڑ اور ووٹ کی خریدوفروخت کا کلچر لوٹ آیا۔ آج کی سیاست اسی کا نتیجہ ہے۔
جو کچھ ڈسکہ کے ضمنی انتخابات میں ہوا وہی کچھ سینیٹ کے انتخابات میں ہوا۔ دونوں میں جوہری فرق نہیں ہے۔ ڈسکہ میں عام آدمی کے ووٹ کی حرمت کا سوال تھا۔ اسلام آباد میں رکن اسمبلی کے ووٹ کی عزت زیرِ بحث ہے۔ ڈسکہ میں پی ڈی ایم کا واویلا بلند آہنگ تھا۔ اسلام آباد میں حکومت کی چیخ و پکار زیادہ ہے۔ ووٹ انگشت بدنداں ہے کہ اس کی حرمت کا حقیقی پاسبان کون ہے؟
حکومت ایک ایسے شخص کو سینیٹ کا رکن بنانے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا رہی تھی جس کا تحریکِ انصاف سے کوئی تعلق نہیں۔ حفیظ شیخ صاحب اُس معیشت کے معمار بھی تھے جو زرداری صاحب کی صدارت میں پروان چڑھی اور اِس معیشت کے بھی جو خان صاحب کی قیادت میں آخری سانسیں لے رہی ہے۔ اپوزیشن یوسف رضا گیلانی کے لیے عزتِ سادات سے بھی بے پروا رہی۔ اس انتخاب میں اس کے سوا کچھ نہیں تھا کہ ایک دوسرے کو نیچا دکھایا جائے۔ اس سے ووٹ کی آبرو میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔
جو ہونا تھا، اب ہو چکا۔ سب سے بڑا امتحان اب پی ڈی ایم کو درپیش ہے۔ وہ ووٹ کی عزت کے بیانیے اور عوامی جدوجہد کی طرف لوٹتی ہے یا جوڑ توڑ کی سیاست کو آگے بڑھاتی ہے؟ ایک راستہ یہ ہے کہ عوامی بیداری کو تبدیلی کا محرک سمجھا جائے اور عوام پر بھروسہ کیا جائے جس طرح ڈسکہ کے انتخابات میں ہوا۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ زرداری صاحب کے سیاسی فلسفے کو قبول کر لیا جائے جو جوڑ توڑ سے عبارت ہے۔ مکمل یکسوئی تو شاید ممکن نہ ہو لیکن سوال مزاحمت کی بنیاد کا ہے۔ بنیاد عوام کی طاقت ہے یا جوڑ توڑ؟
اگر دوسرے راستے پراصرار کیا گیا تو یہ اہلِ سیاست کی کردار کشی کا سبب بنے گا۔ میرا خیال یہ ہے کہ پی ڈی ایم کو عوام کے ساتھ اپنے رابطے کو بہتر بنانا چاہیے اور ووٹ کی عزت کے لیے اداروں کو اپنی حمایت فراہم کرنی چاہیے‘ جیسے ڈسکہ کے انتخابات کے بعد الیکشن کمیشن نے ایک جاندار موقف اختیار کیا تو اس کی حوصلہ افزائی کرنا چاہئے تاکہ ادارے صرف عوامی جذبات کی ترجمانی کریں۔
اصل آزمائش نون لیگ کو درپیش ہے۔ جوڑ توڑ کی سیاست میں اس کے لیے کچھ نہیں ہے۔ جوڑ توڑ کی سیاست کا مطلب سیاست کو عوام کے بجائے 'سٹیٹس کو‘ کی نمائندہ قوتوں کے ہاتھ میں دینا ہے۔ اگر سیاست ان کے ہاتھ میں رہے گی تو نون لیگ کو کچھ نہیں ملے گا۔ اگر وہ عوام کو اپنی قوت کا سرچشمہ بنائے گی تو اسی سے اس کے سیاسی وزن میں اضافہ ہوگا۔ پیپلزپارٹی کے لیے بھی یہی راستہ ہے مگر اس کی قیادت زیادہ دور تک دیکھنے کی خواہش نہیں رکھتی۔ وہ سامنے دکھائی دیتے سیاسی مفادات کو زیادہ اہمیت دے رہی ہے۔
سیاست کبھی مثالی نہیں رہی۔ آج بھی نہیں ہو سکتی؛ تاہم اہلِ سیاست کی ذمہ داری ہے کہ سیاست کی عمارت بہرحال اقدار پر کھڑی ہو۔ یہ مثالیت اور حقیقت پسندی کا اس طرح امتزاج بنے کہ اقدار غالب رہیں۔ ڈسکہ کے ضمنی انتخابات سے معلوم ہوا کہ یہ ممکن ہے۔ سینیٹ کے انتخابات میں مجموعی طور پربھی وہی راستہ اختیار کیا جاتا جو پنجاب میں اپنایا گیا تو بہتر ہوتا۔
ہماری سیاست اسی وقت شفاف ہوگی جب ووٹ کو عزت ملے گی۔ یہ طے ہے کہ اگر عام آدمی کے ووٹ کو عزت نہیں ملتی تو اس رکن اسمبلی کے ووٹ کو بھی عزت نہیں مل سکتی تو عام آدمی کے ووٹ سے منتخب ہوتا ہے۔ عام آدمی کے ووٹ چوری ہوں گے تو اراکینِ اسمبلی کے ووٹوں کی چوری نہیں روکی جا سکتی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *